اتحاد ی حکومت کی تجویز مستر د ، (ن) لیگ ، پیپلز پارٹی ، ایم ایم اے گرینڈ اپوزیشن کیلئے تیار

اتحاد ی حکومت کی تجویز مستر د ، (ن) لیگ ، پیپلز پارٹی ، ایم ایم اے گرینڈ ...

اسلام آباد،لاہور ،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور دیگرجماعتوں کے ساتھ مل کر وفاق میں حکومت بنانے کی تجویز مسترد کردی ہے جبکہ مسلم لیگ(ن)،پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) نے پارلیمنٹ میں حلف اٹھانے اور مشترکہ گرینڈ اپوزیشن کا عندیہ دیدیا ہے،تینوں جماعتوں کے قائدین (آج)پیر کو دوبارہ مشترکہ ملاقات کریں گئے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔اتوار کوپاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے مسلم لیگ (ن)اورایم ایم اے کے صدر فضل الرحمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔پیپلزپارٹی کی مذاکراتی کمیٹی سردارایاز صادق کے گھر پہنچی جہاں انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے اور ممکنہ تعاون کے معاملے پر باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کی 3 رکنی کمیٹی میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور سردار مہتاب جبکہ پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم میں سید خورشید شاہ، شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر شامل تھے۔مذاکرات کے ایجنڈے میں انتخابی نتائج، حکومت سازی، پارلیمنٹ کا بائیکاٹ اور حلف نہ اٹھانے کے نکات سمیت دیگر امور شامل تھے۔تفصیلات کے مطابقپیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف ہے کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی لیکن ہم اس کے بدلے میں غلط روایت نہیں ڈالیں گے۔تاہم پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن کو اہم بریک تھرو ملا ہے پیپلزپارٹی نے پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے مسلم لیگ ن کی مکمل حمایت کا عندیہ دیدیا ہے اور اس حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت نے ن لیگ کو پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے ان کی حمایت کا مکمل اشارہ دیتے ہوئے ان سے مشاورت کیلئے مزید مہلت مانگ لی ہے ۔دوسری طر ف دونوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی اسمبلیوں میں حلف اٹھانے پرمتفق ہوگئیں ۔پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا مضبوط اور متحرک کردار ادا کیا جائے گا اور انتخابات میں دھاندلی میں ملوث قوتوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن قبل از اور بعدازاں دھاندلی کو روکنے میں ناکام رہا۔ دونوں جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے اراکین سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی وفد کے سربراہ فرحت اللہ بابر نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ان کی قیادت میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی ، سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ،سید نوید قمر،قمر زمان کائرہ اور دیگر نے سردار ایاز صادق سے منسٹر کالونی میں سپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی ۔ ذرائع نے دعوی کردیا ہے کہ دونوں جماعتیں قومی وصوبائی اسمبلیوں میں حلف اٹھانے پر متفق ہوگئیں ہیں متحدہ حزب اختلاف دھاندلی کے ایشو کوشدت کیساتھ پارلیمنٹ میں اٹھائے گی اور وفد کے سربراہ نے آگاہ کردیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے مثبت جواب دیا ہے اب متحدہ مجلس عمل کی قیادت سے ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن متحدہ مجلس عمل کا مشترکہ مشاورتی اجلاس متوقع ہے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جاسکے گا۔ سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن جماعتوں میں پل بن گئے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ 2018کے انتخابات کے میں دھاندلی ہوئی ہے دونوں جماعتوں نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ۔ قبل از اور بعدازاں دھاندلی کو مسترد کرتے ہیں جسے روکنے میں الیکشن کمیشن ناکام رہا متفقہ طور پر دونوں جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان مستعفیٰ ہوجائے سردار ایاز صادق اب اپنی پارٹی کی قیادت سے بات کریں گے ۔ رابطے جاری رہیں گے اور اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ مرکز میں مضبوط حزب اختلاف کا کردار پوری فعالیت سے ادا کریں گے ۔ پارلیمنٹ میں ان کو قوتوں کو بے نقاب کریں گے جنہوں نے انتخابات کو چرایا ہے ۔ پارلیمنٹ میں متحد رہیں گے اس کا مقصد یہ ہے کہ جو قوتیں پارلیمنٹ کو عضو معطل بنانا چاہتی ہیں ایسا نہ ہواور کسی کو جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے کا موقع ملے ۔ مسلم لیگ ن نے مثبت جواب دیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ ہی بہترین فورم ہے جس کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے دھاندلی میں ملوث تمام قوتوں کو بے نقاب کیا جائے متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو بھی اپنے موقف سے آگاہ کررہے ہیں ۔ادھر شہباز شریف کی خورشید شاہ سے ہونے والی ملاقات نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے اور پنجاب میں پیپلزپارٹی پاکستان مسلم لیگ ن کو حکومت بنانے میں مکمل سپورٹ کریگی اس حوالے سے پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے پنجاب میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور پیپلزپارٹی حکومت سازی کے دوران اپنا ووٹ ن لیگ کو دیگی جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے پنجاب میں حکومت بنانے میں آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید مشاورت کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن کاوفد پیپلزپارٹی کی 7 رکنی کمیٹی سے ملاقات کریگا اور پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دی جائیگی۔دوسری طرف متحدہ مجلس عمل کے سربرا مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی کے کوچئیرمین آصف علی زرداری سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں مولانا نے زرداری سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف مدد مانگ لی ہے۔فضل الرحمن نے آصف زرداری سے متحدہ مجلس عمل کے احتجاجی پروگرام میں شرکت دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھی انتخاب میں ہونے والی د ھاندلی کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیے اور ہمارے احتجاجی پرروگرام میں شرکت کرنی چاہئے جس پر آصف زرداری نے پارٹی سے مشاورت کے بعد شرکت کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلے کا عندیہ دیا ہے۔اجلاس کے بعد متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھینے گئے عوام مینڈیٹ کی جنگ لڑیں گے اس معاملے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے مینڈیٹ چوری ،لوٹا اور ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔فیصلہ کے لیے مزید آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی نے ایم ایم اے کے صدرمولانافضل الرحمان کو قومی اسمبلی سے کامیاب امیدواروں کی جانب سے حلف نہ اٹھانے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہاہے کہ ایم ایم اے کے اراکین پارلیمنٹ پررہ کراپنے تحفظات کااظہار کریں، جبکہ مولانافضل الرحمن نے فیصلے پرنظرثانی کیلئے اے پی سی میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا، آل پارٹیز کانفرنس کادوسراجلاس (آج )ہوگا۔

حکومت سازی

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) مسلم لیگ (ن) نے الیکشن نتائج پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا، شہباز شریف کہتے ہیں تمام تر مشکلات کے باوجود (ن) لیگ پنجاب میں سب سے بڑی جماعت ثابت ہوئی۔مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور نو منتخب اراکین نے اے پی سی میں سامنے آنے والی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں جانے کی رائے دیدی جبکہ رہنماؤں اور اراکین نے کہا ہے کہ ہمیں پارلیمنٹ میں موجود رہ کر انتخابی دھاندلی کی نشاندہی اور اس پر اپنی آواز بلند کرنے کے ساتھ قانونی راستہ بھی اختیا رکرنا چاہیے ،مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے اورقومی اسمبلی میں عوام کے حقوق کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی، اجلاس میں سامنے آنے والی رائے کے حوالے سے پارٹی قائد نواز شریف کو آگاہ کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور نو منتخب اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کا اجلاس پارٹی صدر محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، رانا تنویر حسین ، حمزہ شہباز، عبد القادر بلوچ، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، مشاہد اللہ خان ،پرویز ملک، امیر مقام، مریم اورنگزیب، رانا ثنا اللہ خان ، برجیس طاہر سمیت دیگر نے شرکت کی ۔اجلاس کے دوران محمد شہباز شریف نے نومنتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو انتخابات جیتنے پر مبارکباددی ۔ شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جن حالات میں کامیابی حاصل کی ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آپ طوفان سے نکل کر آئے ہیں ۔ آپ لوگوں نے بے پناہ اور چیلنجز او رمشکلات کا سامنا کیا ہے ۔مخالفین کی تمام تر خواہشات اور سازشوں کے باوجود اللہ کی کمال مہربانی سے ہم نے پنجاب میں کامیابی حاصل کی ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت کے طو رپر موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس جیت کا سہرا نوازشریف کے سر ہے جو اپنی صاحبزادی کے ہمراہ یہ معلوم ہونے کے باوجود تشریف لائے کہ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا اور وہ جیل میں اپنی صاحبزادی اورداماد کے ساتھ بڑے حوصلے اور بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔اس موقع پر شہباز شریف نے اجلاس کے شرکاء کو آل پارٹیز کانفرنس میں سامنے آنے والی تجاویز کے حوالے سے آگاہ کیا اور پیپلز پارٹی سے ہونے والے رابطوں پر بھی اعتمادمیں لیا ۔اجلاس کے شرکاء نے یہ رائے دی کہ ہمیں پارلیمنٹ کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے ،اس فورم پر موجود رہ کر انتخابی دھاندلی کی نشاندہی اور اس پر آواز بلند کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ انتخابی دھاندلی کے خلاف قانونی راستہ بھی اپنانا چاہیے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اجلاس کے شرکاء کی رائے سے پارٹی قائد محمد نواز شریف کو آگاہ کیا جائے گا ۔لاہور 180 ایچ ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے بڑوں کی اہم بیٹھک ہوئی۔ خواجہ آصف نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی کے معاملے پر نان پی سی او ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو ہونے والا الیکشن متنازع ہے، الیکشن کے حوالے سے ہمیں شدید تحفظات ہیں، اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ کل اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد کریں گے۔اجلاس میں پارلیمانی پارٹی اور مرکزی مجلس عاملہ کے اکثریتی اراکین نے رائے دی کہ اسمبلیوں میں جا کر حلف ضرور اٹھائیں۔ شہباز شریف نے قرار دیا کہ مسلم لیگ (ن) آج بھی پنجاب کی ایک بڑی جماعت ثابت ہوئی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی رہائشگاہ پر منعقدہ غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے بارے میں حکمت عملی پر بات کی گئی ۔دوسری طرف صدر مسلم لیگ ن شہبازشریف کا پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ سے ٹیلی فون پر رابطہ، دونوں جماعتوں کے درمیان آج اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات ہوں گے۔شہبازشریف اور خورشید شاہ نے دونوں جماعتوں کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات پر اتفاق کیا۔ خورشید شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف سے رابطے کی تصدیق کی اور بتایا کہ انھوں نے شہبازشریف کو پیپلزپارٹی کے موقف اور سیاسی جماعتوں سے رابطوں کیلئے کمیٹی کے قیام سے آگاہ کیا۔ شہبازشریف کو بتادیا کہ پیپلزپارٹی احتجاج کی بجائے سارا کیس پارلیمنٹ میں لڑنا چاہتی ہے۔خورشید شاہ نے بتایا کہ وہ اور کمیٹی کے دیگر ارکان نوید قمر، یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف اور قمرزمان کائرہ آج مسلم لیگ ن کی کمیٹی سے ملاقات کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی کمیٹی میں شاہد خاقان، سعد رفیق اور ایاز صادق شامل ہیں۔ اس ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کی کمیٹی مشترکہ طور پر ایم ایم اے کی قیادت سے بھی ملے گی جبکہ اسفندیار ولی، محمود اچکزئی اور فاروق ستار سے بھی ملاقات کریں گے۔ خورشید شاہ نے امید ظاہر کی کہ پیپلزپارٹی دیگر تمام جماعتوں کو بھی اسمبلیوں سے حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ واپس لینے اور پارلیمنٹ میں جانے پر قائل کرلے گی۔

مسلم لیگ (ن)

مزید : صفحہ اول