الیکشن کمیشن اگر غیر جانبدار ہے تو میرے حلقے کو دوبارہ کھولے ، گنتی کروائے : خواجہ سعد رفیق

الیکشن کمیشن اگر غیر جانبدار ہے تو میرے حلقے کو دوبارہ کھولے ، گنتی کروائے : ...

لاہور( این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے حلقہ این اے 131کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کرنے کے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم باہر رہیں یا جیلوں میں جائیں پرواہ نہیں لیکن ہم نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانی ہے بلکہ ہر اس حلقے کی کروانی ہے جہاں گڑبڑ ہے ،ہم نے انتہائی صبر اور برداشت سے کام لیا ہے لیکن ہمیں زندہ دیوار میں چنا جارہا ہے ، عمران خان بڑھکیں لگاتے ہیں کہ جو بھی حلقہ کہیں گے وہ کھول دیں گے لیکن ان کے وکلاء ہماری درخواست کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں ،عمران خان آپ جیسے تیسے بھی وزیر اعظم بننے جارہے ہو آپ میں حوصلہ اور ظرف ہونا چاہیے ،اگر کل آپ اس حلقے سے فارغ ہو گئے تو کیا منہ دکھاؤ گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی حلقوں سے نو منتخب اراکین اسمبلی یاسین سوہل اور میاں نصیر کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود صاف اور شفاف انتخابات کی توقع پوری نہیں ہو سکی اور صرف ہمیں ہی نہیں دیگر جماعتوں کو بھی اس پر تحفظات ہیں۔میں نے 2013ء میں عمران خان کو 40ہزار ووٹوں کی لیڈ سے شکست دی تھی لیکن پی ٹی آئی نے شور ڈال تھا ہم لٹ گئے برباد ہو گئے ۔پانچ سال بعد سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا کہ دھاندلی نہیں ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے سے مضبوط علاقوں کو نکال دیا گیا ،حلقہ بندی میں قانون کی پامالی کی گئی ، حلقہ بندی کرنے والے نا اہل ، نالائق تھے یا کسی سے ملے ہوئے تھے ۔جب ہم نے اعتراضات دائر کئے تو حلقے کی شکل مزید بگاڑ دی گئی ۔مجھے معلوم تھا کہ یہ حلقہ عمران خان کیلئے بنایا گیا ہے لیکن ہم نے فضا میں تلخی پیدا نہیں ۔ایک سیاسی کارکن مقابلہ کرتا ہے اس لئے میں نے اس حلقے سے خود عمران خان کا مقابل کرنے کا فیصلہ کیا اور میری پارٹی نے بھی اس کی توثیق کی حالانکہ میں حلقہ تبدیل کر سکتا تھا۔ انتخابات سے قبل ہی پیشیاں کر اکے اور دیگر طریقوں سے رسوا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ میں نے انتخابی مہم کے دوران عمران خان کی ذات پر کوئی حملہ نہیں کیا حالانکہ ان کے خلاف بولنے کیلئے جتنا مواد ہے اگر کوئی بولنا چاہے تو صبح سے رات اور رات سے صبح ہو جائے ۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی والوں نے اشتعال انگیز کارروائیاں کی لیکن ہم نے برداشت کیا اور صبر سے کام لیا ۔انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 95ہزا ر سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے لیکن لیڈ کا فرق صرف 680ووٹوں کا تھا ۔ ہم نے فوری درخواست دی جس میں یہ التجا کی گئی کہ منظور ہونے والے اور مسترد ہونے والے تمام ووٹوں کا جائزہ لیا جائے اور تمام پولنگ سٹیشنز کی دوبارہ گنتی کی جائے اور ہم نے درخواست پر آر او صاحب کے دستخط لئے ۔ جب گنتی شروع ہوئی تو آر او صاحب نے کہا کہ میں پہلے مسترد ہونے والے ووٹوں کی پڑتال کروں گا اور اس میں 200سے زائد ووٹ منظور ہو گئے اور مجموعی طور پر عمران خان کی لیڈ مزید کم ہوکر کے 602رہ گئی ۔ جب ہم نے کہا کہ اگلا مرحلہ شروع کریں تو آر او صاحب اپنے چیمبر میں تشریف لے گئے اور پھر سب کچھ بدل گیا ۔ تمام ووٹوں کی گنتی کی ہماری درخواست کو مسترد کر دیا گیا ۔ ہم نے قانون کے مطابق درخواست دی تھی ہم اور کیا کرتے ان کا گھیراؤ کرتے ۔ یہ صرف آر اوکا فیصلہ ہے اور ہم اسے چیلنج کرنے جارہے ہیں ۔عمران خان اس حلقے سے ہارے ہوئے ہیں، اگر آپ نے جعلسازی نہیں کی تو پھر کیوں تھیلے نہیں کھول رہے۔ہم جیل جائیں یا باہر رہیں کوئی پرواہ نہیں،ہم دوبارہ گنتی کروائیں گے اور ہر صورت میں کروائیں گے اور ہر اس جگہ کرائیں گے جہاں گڑبڑہوئی ہے ۔الیکشن کمیشن اگر غیر جانبدار ہے تو میرے حلقے کو دوبارہ کھولیں،دوبارہ گنتی ہو گی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

مزید : صفحہ اول