قومی اسمبلی کے 12حلقوں میں امیدوار ایک ہزار سے کم ووٹوں سے ہار ے

قومی اسمبلی کے 12حلقوں میں امیدوار ایک ہزار سے کم ووٹوں سے ہار ے

لاہور (چودھری عاصم ٹیپو)انتخابات 2018ء میں جہاں نتائج سامنے آنے میں ریکارڈ تاخیر اور ہارنے والی جماعتیں ابھی تک سراپا احتجاج وہیں ان انتخابات میں بہت سے نئے اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آئے۔ بار بار پارٹیاں بدلنے والے متعدد الیکٹیبلزہار گئے جبکہ جیپ کے نشان کے بارے میں الیکشن سے پہلے کی جانے والی چہ میگوئیاں بھی غلط ثابت ہوئیں ۔جیپ کے نشان والے صرف 4رہنما ء قومی اسمبلی میں پہنچ سکے۔ اس طرح ملک بھر کے جن حلقوں سے جیتنے والے اور ہارنے والے امیدواروں کے ووٹوں کا فرق ایک ہزار یا اس سے بھی کم رہا جبکہ اس حلقے میں مسترد ہونیوالے ووٹوں کی تعداد جیتنے اور ہارنے والوں کے درمیان ماضی سے بھی کئی گنا زیادہ رہی۔ قومی اسمبلی کے تقریباً 12حلقے ایسے جہاں جیتنے اور ہارنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کا فرق ایک ہزار یا اس سے کم رہا۔ این اے 21مردان سے اے این پی کے امیر حیدر ہوتی کامیا ب ہوئے ان کے ووٹوں کی تعداد78911ہے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے تحریک انصاف کے محمد عاطف کے ووٹوں کی تعداد 78878ہوگی امیر حیدر ہوتی صرف 35ووٹوں سے کامیاب قرار پائے جبکہ اس حلقے میں مسترد ہونے والے ووٹوں کی تعداد5870ہے ۔ امیر حید ہوتی ان انتخابات میں سب سے کم ووٹوں کے فرق سے فاتح قرار پائے۔ این اے 33ہنگو سے تحر یک انصاف کے فیاض زمان 28819ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ مجلس عمل کے عتیق الرحمن رہے جن کے ووٹوں کی تعداد 27968ہے یوں دونوں کے درمیان 851ووٹوں کا فرق رہا جبکہ اس حلقے میں 3424ووٹ مسترد ہوئے ۔این اے 91سرگودھا میں مسلم لیگ (ن) کے ذوالفقار علی بھٹی 110525ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ یہاں سے پی ٹی آئی کے عامر سلطان چیمہ نے 110246ووٹ لئے دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا فرق 279رہا جبکہ اس حلقے میں مسترد ہونیوالے ووٹوں کی تعداد 6733ہے ۔اسی طرح این اے 89سرگودھا سے مسلم لیگ (ن) محسن شاہ نواز رانجھا 114245ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے عثمان احمد مینلا 113422ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے اسی طرح عثمان احمد 523ووٹوں سے شکست کھا گئے جبکہ یہاں 6869ووٹ مسترد ہوئے ۔این اے 100چینوٹ میں مسلم لیگ (ن) کے قیصر احمد شیخ 76415ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دوسر ے نمبر پر آنے والے تحریک انصاف کے امیدوار ذوالفقار علی شاہ نے 75559ووٹ حاصل کئے یوں وہ 856ووٹ سے سیٹ ہار گئے جبکہ اسی حلقے میں 7197ووٹ مسترد ہوئے ۔این اے 114جھنگ میں تحریک انصاف کے محبوب سلطان 106043 ووٹوں سے فاتح ٹھہرے جبکہ پیپلزپارٹی کے فیصل صالح حیات نے 105454ووٹ لئے اور 589ووٹوں سے شکست کھائی اسی حلقے میں 12970ووٹ مسترد ہوئے ۔ این اے 131لاہور میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے84313ووٹ لئے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق 83633ووٹ لے کر 680ووٹوں کے تناسب سے ہار گئے اس حلقے میں بھی 3825ووٹ مسترد ہوئے ۔ این اے 140قصور میں پی ٹی آئی کے سردار طالب حسین نکئی 124621ووٹ لے کر فاتح ٹھہرے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رانا حیات خان 124385ووٹ لے کر صرف 236ووٹوں سے ہار گئے اس حلقے میں بھی مسترد ووٹ 7453ہے ۔این اے 190ڈیرہ غازی خان میں آزاد امیدوار امجد فاروق کھوسہ 72159ووٹ لے کر کامیاب ہوئے دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے سردار ذوالفقار کھوسہ آئے جن کے ووٹوں کی تعداد 71964ہے یوں وہ 225ووٹوں سے شکست کھا گئے جبکہ یہاں بھی 5094ووٹ مسترد ہوئے۔ این اے 215سانگھڑ میں پیپلزپارٹی کے نوید ڈیرو 77812ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر جی ڈی اے کے حاجی خدا بخش رہے ان کے ووٹوں کی تعداد 77270رہی اور وہ 585 ووٹوں سے شکست کھا گئے۔اس حلقے میں مسترد ووٹوں کی تعداد 7767رہی ۔این اے 248کراچی سے پیپلزپارٹی کے عبد القادر پٹیل 35124ووٹ لے کر صرف ایک ہزار ووٹ کی اکثریت سے کامیاب ہوئے یہاں تحر یک انصاف کے سردار عزیز نے 34101ووٹ لے 3078ووٹ مسترد ہوئے ۔ کراچی ہی کے این اے 149سے تحریک انصاف کے فیصل ڈار 35344ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ شہباز شریف 34626ووٹ لے کر صرف 718ووٹوں سے ہار گئے اسی حلقے میں بھی 2684ووٹ مسترد ہوئے ۔این اے 267مستونگ میں متحدہ مجلس عمل کے سید محمود شاہ 26645ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی این پی کے منظور بلوچ نے 25738ووٹ لے یوں وہ 907ووٹ سے ہارے۔ اس حلقے میں 5532ووٹ مسترد ہوئے۔

مزید : صفحہ اول