بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی ہوئی ہے ، سردار اختر مینگل

بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی ہوئی ہے ، سردار اختر مینگل

قلات (این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سر براہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی ہوئی ہیں پولنگ دیر سے شروع ہونے سے ٹرن آؤٹ کم رہی اور رزلٹ میں تاخیر ہونا یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی یا ملی بھگت ہے الیکشن سے قبل ہم نے جو خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوئے بی این پی کی مینڈیٹ کو چرالیا گیا اور اب بھی روزبروز اسے کم کی جارہی ہیں بعض سیاسی جماعتوں کے پاس امیدوار تک نہیں تھے آج وہ بھی دھاندلی کا واویلا کررہے ہیں حکومت ہماری ترجیح نہیں بلوچستان کے مسائل ہمارے لیئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اپنی پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت میں شامل ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز قلات کی مختصر دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر بی این پی کے رہنماء سردارزادہ ارباب نعیم دہوار ،میر سہراب خان مینگل ،ملک عبدالناصر دہوار اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے ،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سر براہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی کی گئی ہے ہم نے الیکشن سے قبل جن خدشات کا اظہار کیا تھااور جو منصوبہ بندی کی تھی نتائج کے بعدوہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں الیکشن سے قبل بی این پی کے اجتماعات کو دیکر ہم نے اندازہ لگایاتھا کہ بی این پی صوبائی کے 13 اور قومی کے سات نشستیں آسانی سے جیت لے گی مگر ہماری مینڈیٹ کو چرالیا گیا اور اب ہر روز ہماری نشستیں کم ہوتی جارہی ہیں جو کہ صوبائی کے تیرا ہ سے سات اور قومی کے سات سے تین ہو گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں ایسی ہیں جو الیکشن نتائج کے بعد دھاندلی کا واویلا کررہے ہیں جن کو امیدوار بھی نہیں ملتے تھے ،انہوں نے کہا کہ جولوگ مادر پدر آزاد ہیں وہ اپنا کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں صوبے میں حکومت بنانے کے حوالے سے ہم اپنی پارٹی کے اداروں سنٹرل کمیٹی اور صوبائی کابینہ میں مشاورت کریں گے کہ ہم حکومت بنائیں یا اپوزیشن میں میں چلے جائیں ،پارٹی اداروں کے پابند ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت ہماری ترجیح نہیں بلوچستان کے مسائل ہمارے لیئے اہمیت رکھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اے پی سی میں جولوگ گئے تھے وہ خود مطمئن نہیں ہے تو ہم ان کے فیصلوں پر کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں ۔

اختر مینگل

مزید : صفحہ اول