امید ہے پاکستان کی نئی حکومت خطے میں امن کیلئے کام کرے گی

امید ہے پاکستان کی نئی حکومت خطے میں امن کیلئے کام کرے گی

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت نے پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان انتخابات کو زبردست کامیابی کے طور پر دیکھتا ہے تاہم عمران خان کی جیت کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔بھارتی اخبار کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت جنوبی ایشیا میں امن و امان کے حوالے سے کام کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی جانب سے عام انتخابات میں جمہوریت پر بھروسہ کرنے پر بھارت ان کا خیر مقدم کرتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت خوشحال اور ترقی پسند پاکستان دیکھنے کا خواہشمند ہے جبکہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن کا خواہاں ہے۔بھارتی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی نئی حکومت ایک مضبوط، مستحکم، محفوظ اور ترقی یافتہ جنوبی ایشیا کے لیے کام کریں گے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو محفوظ اور پر امن بنانے کے لیے کام کرے گی۔ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت خوش حال اور ترقی پسند پاکستان کا خواہش مند ہے، امید کرتے ہیں نئی حکومت جنوبی ایشیا کو محفوظ، مستحکم پْرامن اور دہشت گردی و تشدد سے پاک خطہ بنانے کے لیے تعمیری کام کرے گی۔ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے انتخابات کے ذریعے جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے، نئی حکومت سے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی توقع ہے۔ادھر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بڑھائے گئے ’دوستی کے ہاتھ‘ کو قبول کیا جائے۔اپنے ایک بیان میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت اور نیا وزیرِ اعظم بننے جارہا ہے، تاہم ایسے میں ان (عمران خان) کی جانب سے دوسری پیشکش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بھارتی وزیرِ اعظم سے اپیل کرنا چاہوں گی کہ عمران خان کی اس پیشکش کا مثبت جواب دیا جائے۔محبوبہ مفتی نے عمران خان کو عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔اپنی جماعت کے یومِ تاسیس پر پارٹی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ کشمیر میں ان کی جماعت کا اتحاد زہر کا پیالہ پینے کے مترادف تھا۔انہوں نے بتایا کہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران انہوں نے جتنی مرتبہ بھی نریندر مودی سے ملاقات کی ان سے ہمیشہ پاکستان اور حریت رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے پر زور دیا۔

بھارتی دفتر خارجہ

مزید : صفحہ آخر