سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سرگودھا کی نکلی نہ ہی کرسی پر براجمان شخص ریٹرننگ افسر ہے

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سرگودھا کی نکلی نہ ہی کرسی پر براجمان شخص ریٹرننگ ...

سرگودھا، اسلام آباد، خانیوال(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں الیکشن کے بعد حلقے کے نتائج چیلنج کرنے اور گنتی کا سلسلہ چل پڑا ہے ، ایسے میں بعض مقامات پر تشدد اور ہنگامے بھی ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ روز دعویٰ کیاگیا تھا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 91 سے ہارنے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ریٹرننگ افسر پر دھاوا بول دیا جس پر چیف جسٹس نے از خودنوٹس بھی لے لیا اور اس ضمن میں آئی جی پنجاب سے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی لیکن اب اس ضمن میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو اور اس کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیاجارہاتھا کہ جب ریٹرننگ آفیسر لیگی امیدوار کی ہار کا اعلان کر رہے تھے تو مسلم لیگ ن کے امیدوار جج کی کرسی کے پاس آیا ہے اور کرسی کو ’’ٹھڈا‘‘ مار ا اور غلیظ گالیاں بھی دیں، مسلم لیگ کے امیدوار اور ان کے حامیوں نے جج کے پیٹ میں مکا بھی مارا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ این اے 91، پوسٹل بیلٹ کی گنتی کا عمل مکمل کرکے (ن) لیگی امیدوار 87 ووٹوں سے فتح یاب کیاگیاتھا۔دوسری طرف وائرل ہونیوالی ویڈیو جولائی کے پہلے ہی ہفتے میں سامنے آئی تھی اور اس وقت ابھی الیکشن بھی نہیں ہوپائے تھے جس کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے تو روزنامہ پاکستان نے اس پر تحقیقات کافیصلہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ویڈیو سرگودھا نہیں بلکہ خانیوال کی ہے۔ نجی ٹی وی چینل سے وابستہ مقامی صحافی نے روزنامہ پاکستان کو بتایاکہ یہ ویڈیو میونسپل کمیٹی خانیوال کے اجلاس کے دوران بنی ، ہنگامہ دراصل اس وقت ہوا تھا جب میونسپل کمیٹی کا بجٹ اجلاس پیش کیاجارہاتھا، کرسی پر براجمان ریٹرننگ افسر نہیں بلکہ کنوینئر (سپیکر) ہے جسے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن نے ٹانگ ماری۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ دراصل خانیوال میں دو گروپ موجود ہیں اور دونوں ہی مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں، ایک کی وابستگی لیگی رکن پنجاب اسمبلی اور دوسرے کا تعلق لیگی رکن قومی اسمبلی سے تھا جبکہ اکثر اجلاسوں میں تلخی پیداہوجاناخانیوال میں معمول ہے ، یہ ویڈیو بھی ایک ایسے ہی اجلاس کے دوران بنی تھی۔

ویڈیو،خانیوال

مزید : صفحہ آخر