بلو کی پاور پلانٹ مکمل ،نیشنل گرڈ میں 1230میگاواٹس بجلی پیدا کریگا

بلو کی پاور پلانٹ مکمل ،نیشنل گرڈ میں 1230میگاواٹس بجلی پیدا کریگا

اسلام آباد(صباح نیوز) نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ(NPPMCL) ،ہاربن الیکٹرک انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ(HEI) اور جی ای (NYSE: GE) نے تمام تنصیبی کاموں اور کارکردگی سے متعلق آزمائشوں کے کامیاب اختتام کے بعد بلو کی پاور پلانٹ کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔NPPMCLکے سی ای او،راشد محمود نے کہا کہ " مجھے یہ اعلا ن کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اب بلو کی پراجیکٹ نیشنل گرڈ کو بلا تعطل 1,230 میگا واٹس بجلی سپلائی کرنے کے قابل ہے جو2.5 ملین پاکستانی گھروں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔یہNPPMCLکی طرف سے لگایا جانے والا دوسرا ری گیسیفائیڈ لیکوفائیڈ نیچرل گیس(RLNG) پاور پراجیکٹ ہے۔حویلی بہادر شاہ(HBS) پاور پلانٹ پہلا تھا ،جس نے مئی2018 میں مکمل پیمانے پر کمبائنڈ سائیکل کمرشل آپریشنز شروع کیے۔HBS اور بھکی پلانٹ پہلے ہی مل کر کمیشننگ فیز میں نیشنل گرڈ میں5.5 بلین کلو واٹ hours سے زیادہ بجلی شامل کر چکے ہیں،اور یہ تیس سال تک موثراور کم قیمت بجلی فراہم کرتے رہیں گے جس سے پاکستانی عوام کی زندگی پر بامقصد اثرات مرتب ہوں گے " ۔جی ای نے HEI کو ، جو اس پراجیکٹ کا انجنئرنگ،پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن کنٹریکٹر اور اس کے تنصیبی کاموں اور کمیشننگ شیڈول کا ذمہ دار ہے، دو ایچ اے گیس ٹربائن ،معاون آلات اور فنی مشاورتی خدمات فراہم کی ہیں۔پلانٹ نے اس سے قبل ایک ایچ اے یونٹ ،پراجیکٹ سائیٹ پر ڈلیور کیے جانے کے بعد 74 روز کے اندر نیشنل گرڈ سے ملا کر ایک متاثر کن سنگ میل عبور کیا تھا۔دنیا میں کسی بھی جگہ یہ جی ای ٹیکنالوجی کا مختصر ترین وقت تھا۔HEI کے چیف آپریشن آفیسراورHEI کے فرسٹ پاور ڈویژن کے جنرل ڈائریکٹر، لی چاؤ نے کہا کہ " بلو کی پاور پلانٹ کی کامیاب تکمیل ،پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں این پی پی ایم سی ایل، ایچ ای آئی اور جی ای کے درمیان مضبوط تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔جی ای کے گیس پاور سسٹمزمشرق وسطیٰ ،پاکستان اور بھارت میں پراجیکٹس بزنسز،کے پریذیڈنٹ اور سی ای اومحمد علی نے کہا کہ " یہ پوری دنیا میں جی اے کے ایچ اے گیس ٹربائن کے 24 ویں اور 25 ویں آرڈر کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کی تکمیل سے ہمیں فخر ہے کہ جی اے کے ایچ اے ٹربائن سے مزین تیسرا پلانٹ نیشنل گرڈ میں بجلی ،جس کی شدید ضرورت ہے،شامل کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔

پاور پلانٹ

مزید : صفحہ آخر