الیکشن نہیں سلیکشن تھا ،باجوڑ سیاسی اتحاد

الیکشن نہیں سلیکشن تھا ،باجوڑ سیاسی اتحاد

باجوڑ(نمائندہ خصوصی) باجوڑ سیاسی اتحاد اور قومی اسمبلی کے امیدواروں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھا جس ہم متفقہ طور پر مسترد کرتے ہیں ، الیکشن کے دن جن علاقوں میں ہمارا ووٹ بینک ذیادہ تھا وہاں جان بوجھ کر پولنگ کا عمل انتہائی سست رکھاگیا اور مخصوص پارٹی امیدوار کے ذیادہ ووٹ بینک والے پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کا عمل انتہائی تیز تھا، سست روی کے باعث ہمارے ہزاروں ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہوگئے جبکہ ہمارے ووٹ بھی چرائے گئے۔ ان خیالات کااظہار باجوڑ سیاسی اتحاد کے رہنماؤں اورسابقہ امیدواران عبدالمنان کاکاجی ، قاری عبدالمجید ، مولانا عبدالرشید ، گل کریم خان سلارزئی ، مولانا وحید گل ، اسرار خان سلارزئی ، حاجی خان بہادر ، اورنگزیب انقلابی ، گل افضل ، حاجی راحت یوسف نے باجوڑ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نے کیا۔ قومی اسمبلی کے امیدواروں نے کہا کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر ہمارے ایجنٹوں کو ڈرایا دھمکایاگیاجس کے تمام تر ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاست میں ہار جیت ہوتی ہے مگر دھاندلی اور فراڈ کے ذریعے جیتنے کیخلاف ہیں۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دن ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑائی گئی۔ متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار مولاناعبدالرشید نے کہا کہ ہم ایسے غیر آئینی الیکشن کو ماننے کیلئے کسی بھی صورت میں تیار نہیں ، الیکشن کے دن مجھے خود اور میرے تین سو سے زائد خواتین ووٹر کو پولنگ سٹیشن جانے سے روک دیا گیا۔ جماعت اسلامی کے امیر اور آزاد امیدوار قاری عبدالمجیدنے کہا کہ اس الیکشن سے پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوا ہے کیونکہ انگوٹھا چھاپ افراد کو سلیکٹ کیا گیا جو تعلیم کے الف ب سے بھی نابلد ہیںیہ قوم کیلئے کیا قانون سازی کریں گے۔عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد امیدوار گل افضل خان نے کہا کہ دیگر امیدواروں کو صرف ایک ایک پولنگ ایجنٹ کے اتھارٹی لیٹر جاری کیے گئے جبکہ پی ٹی آئی کے چھ افراد کو چیف پولنگ ایجنٹ کے اتھارٹی لیٹر جاری کیے گئے کیا انتظامیہ اس دھاندلی میں ملوث ہونے کی واضح مثال نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں تمام قائدین نے مشترکہ طور پر کہا کہ دھاندلی کیخلاف ملک کے مرکزی سیاسی قیادت کا جو لائحہ عمل طے ہوگا ہم اس طریقے سے اپنے احتجاج اور لائحہ عمل کا اعلان بہت جلد کردیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر