چارسدہ ،لڑکی سے بد اخلاقی کے اصل ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

چارسدہ ،لڑکی سے بد اخلاقی کے اصل ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

چارسدہ (بیور و رپورٹ)پڑانگ میاں کلے میں لڑکی کے ساتھ مبینہ بد اخلاقی کا ڈراپ سین۔ واقعہ میں گرفتار ملزم کی بیوی اور ہمسایوں نے اصل حقائق سے پر دہ فاش کر دیا ۔ پولیس نے اصل ملزم کو چھوڑ کر دو بے گناہ نوجوانوں کو جیل میں ڈال دیا ہے ۔ آئی جی واقعہ کا نوٹس لیکر انصاف فراہم کریں ۔ تفصیلات کے مطابق 31جنوری کو پڑانگ میاں کلے میں لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے حوالے سے گرفتار ملزم اعظم کی اہلیہ اور دوسرے ملزم واصف کی والدہ نے دیگر درجنوں اہل محلہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ عائشہ نامی لڑکی نے اعظم اور واصف پر جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام لگایا مگر اصل ملزم حسنین نامی لڑکا ہے جو واقعہ کے وقت عائشہ کے گھر میں موجود تھا ۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی اور نہ گرفتار ملزمان کی موجودگی عائشہ کے گھر ثابت ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ اعظم کی اہلیہ نے کہا کہ واقعہ کے وقت محلے میں فوتگی ہوئی تھی اور واصف اور اعظم نے عائشہ کے گھر جا کر ان کو غلط کاموں سے منع کر نے کی کو شش کی مگر انہوں نے الٹا اعظم اور واصف پر الزام لگایا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد سات مسلح ملزمان نے ہمارے گھر پر دھاوا بول کر اندھا دھند فائرنگ کی اور میرے کپڑے پھاڑ کر بے عزتی کی۔ پولیس نے اس حوالے سے روزنامچہ رپورٹ درج کی مگر باا ثر ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہے۔ واصف اور اعظم ناکردہ گناہ کی پاداش میں کئی مہینوں سے جیل کی صعوبتیں بر داشت کر رہے ہیں مگر انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے آئی جی خیبر پختونخوا سے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر