پاکستان میں50فیصد سے زائد خواتین بنیادی حقوق سے محروم ہیں

پاکستان میں50فیصد سے زائد خواتین بنیادی حقوق سے محروم ہیں

کچھ کر گزرنے کی جستجو اور انتھک محنت انسان کو وہ مقام عطا کر دیتی ہے جس کی وہ خواہش رکھتا ہے مشکلات اور مسائل تو زندگی کے ساتھ جڑے ہیں تاہم معاشی طور پر اپنے آپ کو مستحکم رکھنا ا س دنیا میں جان جوکھوں کا کام ہے تاہم ارداہ مظبوط اور تھنک ٹینک پالیسی ترتیب دی جائے تو انسان ہر کام خوش اسلوبی سے کر گزرتا ہے۔فائزہ امجد کا تعلق لاہور کے پڑھے لکھے کاروباری گھرانے سے ہے جنہوں نے لاہور کالج فار ہوم اکنامکس سے ماسٹرکی ڈگری کے ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹر میں ایم ایس سی کی ہے زمانہ طالب علمی میں ہی کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا اور آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ انٹر نیشنل سطح پر کاروبار کر رہیں ہیں ۔فائزہ امجد پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جو انٹر نیشنل بیوریج کمپنی کوکا کولا کی پاکستان میں ڈسٹری بیوٹر ہیں جبکہ فیشن ڈیزائنگ انڈسٹری میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ۔وہ فیشن کونسل انڈسٹری کی چیئر مین کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔پو ش علاقہ میں واقع "مینا کار "بو تیک کی سی ای او بھی ہیں جہاں پر نہ صرف ایلیٹ کلاس بلکہ فلم اور ٹی وی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی نت نئے ڈیزائن اور فیشن سے متعلقہ ملبو سات خریدنے کے لیے رخ کرتے ہیں ۔ فائزاہ امجد ہو میو پیتھک ڈاکٹر بھی ہیں جو طبعی علاج فی سبیل اللہ کرتے ہوئے ڈھیروں دعائیں بھی سمیٹتی ہیں۔فائزہ امجد کی کم عمری میں شادی ہونے کے باوجو د انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور کالج دور میں انہوں نے رنگ گورا کر نے کے لیے ریسرچ شروع کردی اور کامیاب تجربات کی روشنی میں ایسی پراڈکٹ تیار کرلی جو نہ صرف سو د مند بلکہ کوالٹی میں اس قدر اہمیت رکھتی تھی جس سے ان کو پذیرائی ملی اور 2008میں باقاعدہ کمپنی رجسٹرڈ کروائی ۔تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کے بعد فائزہ امجد نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام شروع کر دیا ۔سوشل و رفاہی سطح پر خواتین کے حوالے سے کا م کر نے پر ان کو سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سرکاری اداروں کی جانب سے ایوارڈز ، شیلڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔فائزہ امجدستمبر 2017سے ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سینئر وائس پریذیڈنٹ ہیں جن کو کم عمری میں ہی کاروباری خواتین کی نمائندگی کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔جنہوں نے پسماندہ علاقوں کی خواتین کے حقوق بلند کر نے سمیت گھریلوخواتین میں کاروباری شعور اجاگر کر نے کے لیے گراں قدر خدمات سر انجا م دیں ہیں۔فائزہ امجد کا کہنا ہے کہ کامیاب کاروباری خاتون ہونے کے پیچھے میر ے سر تاج اور میر ی فیملی کا ہاتھ ہے جنہوں نے ہر موڑ پر میر ی حو صلہ افزائی کر تے ہوئے مجھے محنت اور بس محنت کی تلقین کی۔

ملک کی 50فیصد سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے جن میں سے اکثریت کو یہ گلہ ہے کہ انہیں مملکت خداداد پاکستان میں بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں خواتین کی تنظیمیں باالخصوص این جی اوز آئے روز یہ واویلہ کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ عورتوں کو حقوق نیہں دیے جارہے اس ایشو پر احتجاج اور مظاہروں کی فہرست بڑی تعویل ہے ۔مغربی ممالک میں پاکستانی معاشرے کو Man dominating سوسائٹی کے نام سے پکارا جاتا ہے یہ احتجاج اور نعرے ایک طرف لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کئی خواتین نے خوب نام کمایا ۔مادر ملت محتر مہ فاطمہ جناح کی شب آنہ روز جدو جہد اور اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی بدولت ہی پاکستان وجو د میں آیا جبکہ محتر مہ بے نظیر بھٹوشہید کو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ۔وہ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والی آہنی خاتون بھی کہلاتی ہیں۔اب تو صورتحال خواتین کے حوالے سے خاصی بہتر ہے اور ملک کے مختلف شعبہ جات میں خواتین کی بڑی تعداد اپنی کارکرد گی کے جوہر دکھا رہی ہیں ۔کہیں پائیلٹ خاتون ہے تو کہیں بنکر ویمن ،بیوروکریسی میں بھی خواتین کی نمائندگی حوصلہ افزاء ہے ۔،سیاست میں بھی عواتیں کسی سے پیچھے نہیں ،سپورٹس کو ہی لے لیجیئے شاہد ہی کسی کھیل کی ٹیم ایسی ہو جس میں خواتین کی نمائندگی نہ ہو،مختلف پروفیشنز جیسے میڈیکل ، جرنلزم ، بنکنگ ، ٹیچنگ سمیت ہر سیکٹر میں خواتین کی بڑی تعداد سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ کاروباری خواتین کسی سے پیچھے نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں ویمن چیمبر آف کامرس کی بنیاد رکھی گئی ہے تاکہ محنت کش خواتین کی حوصلہ افزائی اور درپیش مسائل کو حل کیا جا سکے ۔

آج ہم آپ کی ملاقات ایک اسی قسم کی کامیاب ویمن بزنس لیڈر سے کروا رہے ہیں جو صنعتی و کاروباری برادری میں عالمگیر شہرت کی حامل ہیں زمانہ طالب علمی میں ہی وہ کاروباری سرگر میوں سے وابستہ ہو گئیں اور اتنا نام کمایا کہ آج فائزہ امجد کے نام سے کاروباری حلقوں میں شہرت کی بلندیوں پر ہیں ۔"برنس پاکستان"سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے فائزہ امجد نے کہا کہ گھریلو و محنت کش خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کر نا میری زندگی کا مقصدہے ۔پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں جو ہر کام مردوں کے شانہ بشانہ کر نے کی اہلیت رکھتی ہیں بس خو د اعتمادی کی ضرورت ہے اور محنت سے ہر منزل کو آسان بنایا جا سکتا ہے ۔فائزہ امجد کا کہنا تھا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے ملکی کاروباری خواتین کو بین الاقوامی نمائشوں میں" ٹریڈ فری "کی اجازت دے کر جہاں کاروباری مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں وہیں وومن انٹر پینورجی ڈی پی کی شرح میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین میں بہت پوٹینشل موجو د ہے جو ہوم ٹیکسٹائل ، جیولری ،ملبوسات اور ہینڈی کرافٹ میں مہارت رکھتی ہیں اگر ٹی ڈیپ ایسی خواتین کو پلیٹ فارم مہیا کر کے کاروبار کے مواقع فراہم کر ے تو پاکستانی کاروبای خواتین دنیا بھر میں ہو نے والی نمائشوں میں اپنی مصنوعات کے سٹالز لگا کر جی ڈی پی کی گروتھ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کئی ایک مسائل سے دوچار ہیں جن پر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں خیا ل اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہ لا پاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر فورم پر خواتین اور طالبات سے بزنس آئیڈیاز اور زندگی میں کچھ کر گزرنے کے لیے لیکچرز دیتی ہوں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ویمن ایمپاورمنٹ پر کام ہو رہا ہے جس میں حکومتوں سمیت سو ل سو سائٹی اپنا مثبت کردار ادا کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی خواتین کو تحفظ اور ان کے بنیادی حقو ق پر قوانین بن چکے ہیں بس خواتین میں آویرنس کی ضرورت ہے ۔خواتین کو ہراساں کرنے سمیت ا ن کی وراثتی ملکیت کے لیے قوانین اور ادارے موجود ہیں جو خواتین کو در پیش مسائل پر اقدامات اٹھاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گھریلو خواتین کو سب سے پہلے اپنا گھریلو بجٹ تر تیب دینا چائیے اور دائرہ کار میں مسائل کا حل ڈھونڈنا چائیے بعد ازاں اپنے بجٹ میں اضافہ کے لیے گھریلو سطح پر بھی کئی ایک بزنس کیے جاسکتے ہیں جس کے لیے خواتین کو ویمن چیمبرز میں رابطہ کرنا چائیے جہاں پر ان کو بزنس کرنے کے طریقہ کار سمیت سیمینارز سے بہت کچھ سمجھنے اور کرنے کو مل سکتا ہے ۔فائزہ امجد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 54فیصد آبادی کا تناسب خواتین پر مشتمل ہے جس میں سے بر سر روزگار خواتین مجمو عی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی جبکہ کاروباری خواتین تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں تاہم ملازمت پیشہ خواتین کی تعداد ضرور زیادہ ہے لیکن وہ بھی کل آباد کا ڈیڑھ یا دو فیصد ہیں۔جب سے خواتین کے تعلیمی اور تر بینی اداروں میں اضافہ ہوا ہے پروفیشنل خواتین کی تعداد بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ۔تمام تر اقدامات کے باوجو د خواتین ملکی معاشی یا معاشرتی ترقی میں تاحال وہ کردار ادا نہیں کر پا رہیں ہیں جس کی ملک و قوم کو فی الوقت ضرورت ہے ۔محتر مہ بے نظیر بھٹو جب پاکستان کی وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوئیں تو خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب خواتین کو ترقی کے مزید مواقع میسر آئیں گے اور وہ معاشرے کی مفید شہری کے طور پر دکھائی دیں گیں لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا اور زندگی کی دوڑ میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ آنے کی بجائے خاصے فاصلے پر ہی رہیں۔بعض معاشرتی رکاوٹیں ایسی ہیں جو خواتین کو آگے بڑھنے میں حائل دکھائی دیتی ہیں اس میں مختلف ادوار میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے جوعورتوں کو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر نے کی طرف مائل ہی نہیں کر سکیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کاروباری خواتین کو مساوی حقو ق و مواقع فراہم کر نے کے لیے سر کاری سر پر ستی کی جائے اورایسی خواتین جن میں تمام تر صلاحیتیں اور خصو صیات ہونے کے باوجو دان کو گھر گھرستی میں زنگ کھائے جارہا ہے ان کی مثبت اور تیز سوچ سمجھ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان میں مذید نکھار پیدا کرنا ہو گا اور خواتین کو کاروبارکرنے کی جانب راغب کر نے کے لیے نہ صرف سیمینار کا انعقاد بلکہ خواتین کے شعور کو اجاگر ٹھوس حکمت عملی اپنا نا ہو گی جس کے لیے اقتدار کے ایوانوں سے جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گاتاکہ پاکستان کی خواتین بھی کاروباری سر گر میوں میں دلچسپی لیتے ہوئے نہ صر ف اپنے اور اہلخانہ کی مالی ضرورتوں کو باآسانی پورا کر سکیں بلکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں تجارت کر کے ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ کما سکتیں ہیں۔

ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سینئر نائب صدر فائزہ امجد نے کہا کہ پاکستانی خواتین کسی بھی شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لو ہا منوا سکتیں ہیں جبکہ ملکی معیشت کی تر قی کا راز کاروباری خواتین کو بہتر تجارتی سہو لیات فراہم کر نے میں مضمر ہے بدقسمتی سے پاکستان میں کاروباری خواتین کے لیے تجارت کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں تر کی اور یورپین ممالک میں خواتین کے لیے بہتر ین ٹر یڈ سنٹر ہے ۔پاکستان میں کاروبار ی خواتین کے رجحان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکو مت سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ TDAPکو جگائے اور بنکنگ ٹرانزیکشن ٹیکس کو فی الفور موخر کر تے ہوئے معاشی پالیسیوں میں اصلاحات کر ے جبکہ فیملی بزنس سسٹم کو فروغ دے اور خواتین کے لیے تر قی کی طرز پر تجارت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔انہوں نے بتایا کہ ویمن چیمبر کی بنیاد 2003میں رکھی گئی جس کے بعد ہزاروں کاروباری خواتین ویمن چیمبر کی رجسٹر ڈ ممبرز ہیں جو مختلف کاروبار میں اپنی پہچان اور بہتر طر یقہ سے روزگار کما رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری خواتین کے لیے حکو متی اقدامات ناقص ہیں جبکہ خواتین کو کاروبار کر نے کے لیے اپنی فیملیز کے افراد سے منفی رجحان کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔جس کے باعث دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں کاروباری خواتین کو وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں زیادہ تر خواتین گھروں میں بزنس کر رہی ہیں جن میں مختلف کاروبار شامل ہیں تاہم انٹر نیٹ پر کاروبار ی سر گر میاں پاکستان خواتین کی دلچسپی کا باعث بن رہی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ .پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ کے اشتراک سے ویمن چیمبر کی ممبران مختلف ممالک میں ہو نے والی انٹر نیشنل نمائش میں شر کت کرتے ہیں جہاں پرپاکستانی کاروباری خواتین کو عزت بخشی جاتی ہے اور کاروباری خواتین نے گارمنٹس ، ٹیکسٹائل ، میڈ یسن ، جیمز اینڈ جیو لری ، ٹورازم ، سر جیکل ، کاسمیٹکس اور جیمز اینڈ جیو لری کے سٹالز لگائے جاتے ہیں ۔پاکستانی کاروباری خواتین کو اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے نئی منڈیاں اور بزنس مین کمیو نٹی سے روابط بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے اس بات کا قو ی امکان ہے کہ پاکستانی خواتین تر کی میں اپنی مصنو عات کو فروغ دے کر ملک کے لیے کثیر زر مبادلہ کمائیں گی۔انھوں نے کہا کہ .پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ کے ساتھ کاروباری خواتین کا کو ٹہ ماضی میں مختص تھا جس کو ختم کر دیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ خواتین کو حکومتی سر پر ستی کی اشد ضرورت ہے کیو نکہ کاروبار ی خواتین اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے مر د حضرات کی خو شامد نہیں کر نا چاہتیں۔جس کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چائیے تاکہ پاکستانی کاروباری خواتین بھی آزادانہ طر یقہ سے اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں۔فائزہ امجد کا کہنا تھا کہ ویمن چیمبر آف کامرس کے بارہ سو سے زیادہ ممبران ہیں جن کو سب سے بڑا مسئلہ سرمائے کی کمی کا ہے اور حکومتی ادارے خواتین کے مسائل پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔سرکاری سطح پر جو نمائشوں کے لئے وفود جاتے ہیں ان میں بھی خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ خواتین کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے معاشی خود مختاری دیں اور ایسا ماحول دیں جس میں خواتین بلا تفریق مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں جس کے لیے وزارت خزانہ و تجارت کواپنی پالیسیوں پر نظر ثانی اورتسلسل لانا چاہئے ۔

مزید : ایڈیشن 2