عبد القادر ، علی موسی گیلانی کا بائیکاٹ ، دو حلقوں میں ریک کاؤنٹنگ بند

عبد القادر ، علی موسی گیلانی کا بائیکاٹ ، دو حلقوں میں ریک کاؤنٹنگ بند

ملتان (خبر نگار خصو صی) ملتان میں2 قومی حلقوں کی ری کاؤنٹنگ 2 روز جاری رہنے کے بعد درخواست گزاروں کے بائیکاٹ کے باعث روک دی گئی ۔ تفصیل کے مطابق حلقہ این اے 157ملتان سے(بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینزکے امیدوارسیدعلی موسی ٰگیلانی نے ریٹرننگ آفیسرکودرخواست دی تھی کہ اس حلقہ سے مخدوم زین حسین قریشی کوکامیاب امیدوارقراردیاگیا ہے جس نے77 ہزاور731 ووٹ حاصل کئے ہیں اور درخواست گذارکے70 ہزار830 ووٹ ہیں اورووٹوں کافرق 10 ہزارسے کم ہے اورالیکشن رولزکے تحت دوبارہ گنتی کی جاسکتی ہے۔اسی طرح حلقہ این اے154 ملتان سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینزکے امیدوارسیدعبدالقادرگیلانی نے بھی اپنے حلقہ میں دوبارہ گنتی کے لئے درخواست دائرکی تھی تاہم گزشتہ روز دونوں امیدواروں نے دوبارہ گنتی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کا مکمل بائیکاٹ کردیا ہے جس کے بعد دونوں حلقوں میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے ری کاؤنٹننگ کا عمل روک دیا گیا ہے اور رسمی کاروائی جاری ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیدوار برائے حلقہ این اے157 علی موسی گیلانی کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے بیگز کھلنے چاہیں تھے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔اس کیساتھ ہمیں کاؤنٹر فائلز بھی نہ دکھائی جارہی ہیں۔ دوبارہ گنتی کا عمل صرف خانہ پری کے تحت کیا گیا 12 گھنٹے میں صرف 7 پولنگ اسٹیشنوں کو کھولا گیا جس سے صاف بدنیتی ظاہر ہے۔الیکشن والے روز بھی پریزائیڈنگ افسران صبح 11بجے تک آتے رہے اور یہ بھی نہ پوچھا گیا کہ وہ سامان سمیت کہاں رہے۔ٹربیونل میں یہ ساری باتوں کیساتھ اپنا کیس لڑیں گے۔ اس موقع پر پی پی پی کے امیدوار برائے حلقہ این اے 154سیدعبدالقادر گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ کہ ایک دن میں صرف 18یا19 پالنگ بیگز کھولے گئے تھے جس کی وجہ سے بائیکاٹ کا اعلان کررہا ہوں۔ اب اگلے فورم پر جاؤں گا اور نادرا سے رابطہ کیا جائے گا کیونکہ پورا یقین ہے کہ اس حلقے سے میرے ووٹ سب سے زیادہ تھے۔دیگر صوبائی حلقہ 219 کے2 امیدواروں کی ری کاؤنٹنگ کی درخواستوں پر سماعت آج30 جولائی کو ہوگی ہے پی پی 219 کے امیدواروں محمد اقبال سراج اور رائے منصب علی نے ریٹرننگ افسر کو درخواست دی تھی کہ انکے حلقہ میں ووٹ کی گنتی درست طریقے سے نہیں کی گئی ہے اور انہیں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے لہذا دوبارہ گنتی کے احکامات دیئے جائیں۔ یاد رہے کہ اس حلقہ سے 11 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا جن میں سے پاکستان تحریک انصاف کے محمد اختر 39 ہزار 61 ووٹ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جبکہ درخواست گزار محمد اقبال سراج نے 25 ہزار 3 ووٹ حاصل کئے اور اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے رائے منصب علی نے22 ہزار 41 ووٹ حاصل کئے تھے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے157میں کامیاب ہونے والے تحریک انصاف کے امیدوار مخدوم زادہ زین حسین قریشی کے حلقے میں دوبارہ گنتی کے بعد ان کے کل ووٹوں میں 500ووٹوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ریٹرنگ افسر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مخدومزادہ زین حسین قریشی نے 77373، پیپلز پارٹی کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی نے 70778 جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار عبدالغفار ڈوگر نے 62082ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اس طرح مخدوم زادہ زین حسین قریشی نے علی موسیٰ گیلانی کے مقابلے میں 6 ہزار 600 ، جبکہ عبدالغفار ڈوگر کے مقابلے میں 16 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل کی۔ اس سلسلے میں مخدومزادہ زین حسین قریشی اور حلقہ این اے 155 کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ علی موسیٰ گیلانی نے آر او آفس میں دوبارہ گنتی کی درخواست دی یہ عمل گزشتہ روز شروع ہوا اور 14 گھنٹے کے دوران 29 بیگ کھولے گئے۔ رات 11بجے تک یہ عمل جاری رہا۔ اس دوران علی موسٰی گیلانی نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ انہیں آر آو آفس کی جانب سے دوبارہ گنتی کے معاملے پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور وہ اس پرمطمئن ہیں۔ پہلے روز علی موسیٰ گیلانی نے آر او کو درخواست دی کہ دوبارہ گنتی کا عمل ملتوی کیا جائے کیونکہ ہمارے پاس بڑی تعداد میں فارم 45 نہیں ہے۔ چونچہ آر او نے مخدومزادہ زین حسین قریشی سے مشاورت کے بعد علی موسیٰ گیلانی کو فارم 45 جاری کردیئے۔ اتوار کے روز علی موسیٰ گیلانی نے صبح 8 بجے دوبارہ آر او آفس پہنچنا تھا مگر 10بجے ان کے کچھ لوگ وہاں پہنچے اور دوبارہ پروسیس شروع کیا گیا۔ چونچہ اتوار کے روز جب 34 بیگ کھولے گئے تو مخدومزادہ زین حسین قریشی کے ووٹوں میں 200 ووٹوں کا اضافہ ہوچکا تھا۔ علی موسیٰ گیلانی جو آر آو آفس میں ہونے والی دوبارہ گنتی کے عمل سے گزشتہ روز تک مطمئن تھے ۔ اتوار کے روز میڈیا کے سامنے آکر اس پروسیس کا بائیکاٹ کیا۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں نے کھلے دل کے ساتھ علی موسیٰ گیلانی کے ہر چیلنج کو قبول کیا۔ عام انتخابات میں ان کا مقابلہ کیا اور اب جب دوبارہ گنتی کی درخواست دی تو میں نے ان کا یہ جمہوری حق سمجھتے ہوئے ان سے پورا تعاون کیا۔ کیونکہ میں چاہتا تھا کہ ان کے سامنے کوئی ابہام نہ رہے کوئی اعتراض کا موقع نہ ملے مگر انہوں نے جب دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کیا تو آر او حلقہ این اے 157 میں باضابطہ رزلٹ جاری کردیا ہے۔ جس میں میرے ووٹوں میں 500 ووٹوں کا اضافہ ہوا۔ جس پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزرا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں مخدوم زادہ زین حسین قریشی نے کہا اگر علی موسیٰ گیلانی الیکشن ٹربیونل میں جانے کی بات کررہے ہیں ۔ تو یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے۔ اور میں اپنے ووٹرز کے دفاع کیلئے کے ہر چیلنج کا سامنا کرونگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 157 میں ماضی میں جن بھاری ترقیاتی اخراجات کے دعوےٰ کئے جاتے رہے ہیں۔ وہ غلط اور بے بنیاد ہیں۔ آج بھی یہ حلقہ بے روزگاری کا شکار ہے۔ وہاں پینے کا صاف پانی اور سڑکوں کی حالت خراب ہے۔ میرے والد مخدوم شاہ محمود قریشی نے سوئی گیس کے جو کام اس حلقے میں کروائے تھے اس کے بعد دو ادوار میں وہاں کوئی کام نہیں ہوئے۔ میری ترجیحات علاقے کے مسائل کا حل ہونا ۔ اس موقع پر مخدومزادہ زین حسین قریشی اور ملک عامر ڈوگر نے مطالبہ کیا ۔ ملتان میٹرو پر 60 ارب روپے بے جا اخراجات اور جن سابقہ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی کامو ں کے نام پر فنڈز جاری کئے گئے ان کی تحقیقات کروائی جائے۔ قائداعظم سولر پلانٹ بہاولپور کی تحقیقات کی جائے۔ تاکہ عوام کا ضائع ہونے والے پیسے کے بارے میں پتہ چلا کے وہ کہاں گیا۔ ایک سوال کے جواب میں مخدوم زادہ زین حسین قریشی نے کہا کہ سلمان نعیم میں حلقہ پی پی 217 میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کا مقابلہ کیا۔ جبکہ اس حلقے سے رانا عبدالجبار بھی امیدوار تھے جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کی پابندی کی اور الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ آج جن لوگوں نے سلمان نعیم کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا ہے۔ وہ اصل میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں مخدوم شاہ محمود قریشی بہت جلد پریس کانفرنس کے ذرئعے حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پی ٹی آئی اپنے منشور کے مطابق حکومت سنبھالنے کے پہلے 100 دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے کام کا آغاز کردے گی۔ اور انشاء اللہ ہم جنوبی پنجاب صوبہ بنائیں گے۔ جس کا وعدہ عمران خان اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے پارٹی منشور میں کیا ہے۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی ایک اور سوال کے جواب میں کہا این اے 158 میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اپنی تسلی کیلئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروالیں۔ لیکن کیونکہ انتخابات کا عمل صاف اور شفاف طریقے سے مکمل ہواہے۔ اس لئے میں نہیں سمجھا کہ اب کسی حلقے میں دوبارہ گنتی کی ضرورت ہے۔ ملک عامر ڈوگر نے مزید کہا کہ مخدومزادہ زین حسین قریشی مثبت سوچ کے حامل ہیں ۔ انہوں نے موسیٰ گیلانی کے ہر اعتراض پر بڑے صبر و تحمل کے ساتھ جوابات دیئے ہیں اور تمام حالات کا نہ صرف مقابلہ کیا ہے۔ بلکہ کوشش کی ہے کہ علی موسیٰ گیلانی کے تمام تحفظات دور ہوں ۔ ان کے ووٹوں میں اضافہ پر انہیں مبارک باد دیتے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر