، بھارتی آبی جارحیت راوی ، بیاس ، ستلج کے بعد چناب بھی خشک، فصلیں شدید متاثر کسانوں کی کمر ٹوٹ گئی

، بھارتی آبی جارحیت راوی ، بیاس ، ستلج کے بعد چناب بھی خشک، فصلیں شدید متاثر ...

ملتان( رپورٹ۔محمد سعید مکول)بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ سے 2016 ء میں کاربن کریڈٹ سرٹیفیکٹ کا حصول ، وزارت پانی وبجلی اور واٹر کمیشن آف پاکستان عالمی سطح پر دریائے چناب کا اہم کیس ہارنے کے اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ۔ پاکستان کے 60فیصد زرعی رقبہ کو سیراب کرنے والے ملک کے دوسرے بڑے دریا ،دریائے چناب کے پانی پر بھی بھارت کے قبضہ کے بعد ،2کروڑ کیوبک فٹ پانی بھارتی حدود میں ذخیرہ ہونے سے دریائے چناب بھی حالیہ سیلاب سیزن میں راوی ،بیاس اور دریائے ستلج کا منظر پیش کرنے لگا،بھارتی حدود میں دریائے چنا ب کا پانی رکنے کے بعد جنوبی پنجاب کے 10اضلاع کی زرعی زمینیں بنجر ہوجائیں گی ۔تفصیل کے مطابق وزارت پانی وبجلی اور واٹر کمیشن آف پاکستان کی غفلت کے باعث ہمسایہ ملک بھارت نے سال 2016ء میں اقوام متحدہ سے دریائے چناب پر ہندستانی حدود میں تین نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا ۔ مذکورہ سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد بھارت پاکستان کے دوسرے بڑے دریا کے پانی پر قبضہ کرنے کا قانونی حق حاصل کرچکاہے جس کے پاکستان خصوصاًصوبہ پنجاب کی زراعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔دریائے چناب پر بھارتی حدود میں ڈیموں کی تعمیر کے بعد چناب کا تقریباً2کروڑ کیوبک فٹ پانی بھارت میں ذخیرہ ہونے کے باعث دریائے چناب کا حشر بھی ان دنوں میں دریائے بیاس ،راوی اور ستلج جیسا ہوچکا ہے اور حالیہ سیلاب کے سیزن میں ہمارے ملک کا دوسرا بڑا دریا ،دریائی بیٹ بھرنے میں بھی ناکام نظر آتاہے ۔ رواں سیلاب سیزن میں اگست کا مہنہ شروع ہونے والا ہے اور اب تک دریائے چناب میں 50ہزار کیوسک پانی بھی نہیںآسکا۔ جبکہ دریائے چناب میں حالیہ مون سون سیزن میں مطلوبہ مقدار میں پانی میسر نہ �آ نے کے باعث جنوبی پنجاب کے 10اضلاع جن میں جھنگ ،خانیوال ،لودھراں ،ملتان،مظفر گڑھ ،وہاڑی بہاولپور ،رحمیار خان ،سائیوال ،اور پاکپتن سمیت دیگر علاقے بدستور نہری پانی کی قلت کا شکار ہیں جبکہ اگر صورتحال بدستور رہی تو آنے والے دنوں میں مذکورہ اضلاع کے زرعی علاقے خشک سالی کی زد میں آجائیں گے ۔ اوریہاں کے ذرخیز زرعی رقبے نہری پانی نہ ملنے سے بنجر ہوجائیں گے پریشان کن امر یہ ہے کہ مذکورہ صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی ٹھوس موقف سامنے نہیں آرہا ۔کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اس اہم مسئلہ پرتوجہ نہ دی تو پاکستان میں شعبہ زراعت جسے پہلے ہی نہری پانی کی شدید قلت کا سامناہے بری طرح متاثر ہوگا اور بھارت کی آبی جارحیت کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول