وہ حلقہ جہاں 14خواتین نے 50سال بعد الیکشن میں نئی تاریخ رقم کر دی

30 جولائی 2018 (11:36)

چکوال(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آج کے دور میں بھی خواتین کے لیے الیکشن میں حقِ رائے دہی استعمال کرنا شجرِ ممنوعہ ہے۔ اس میں چکوال کا ایک گاؤں دھرنال بھی شامل ہے جہاں گزشتہ 50سال میں کسی خاتون نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا، تاہم اس بار اس گاؤں کی 14خواتین نے ایسی جرأت کا مظاہرہ کیا کہ ایک تاریخ رقم کر دی۔ ڈیلی ڈان کے مطابق اس بار گاؤں کی 14خواتین نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ووٹ ڈالا اور یہ سب گاؤں کی مڈوائف 42سالہ روبینہ شہزاد اور مبلغ محمد طارق کی کاوشوں سے ممکن ہو سکا۔

روبینہ نے انتخابات سے کئی ماہ قبل ہی گاؤں میں مہم شروع کر دی تھی اور خواتین کو ووٹ ڈالنے پر رضامند کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے کئی خواتین کو الیکشن کے روز اپنے گھر اکٹھا ہونے پر آمادہ کر لیا۔ جب انتخابات آئے تو 30خواتین روبینہ کے گھر آ گئیں تاہم گاؤں کے مرد مشتعل ہو گئے، نوجوان اپنی موٹرسائیکلوں پر گلیوں میں چکر لگانے لگے، گاؤں میں پانچ مختلف جگہوں پر بھی مرد جمع ہو گئے جو مختلف پانچ سیاسی جماعتوں کے حامی تھے۔ ان سب کا مقصد ان خواتین کو پولنگ سٹیشن پر جانے سے روکنا تھا۔

روبینہ اور طارق کو پہلے اندازہ نہیں تھا کہ وہ جو کام کرنے جا رہے ہیں، کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ انہیں اس وقت معلوم ہوا جب خواتین روبینہ کے گھر میں اکٹھی ہوئیں۔ طارق نے ’’روبینہ سے کہا کہ خواتین کو پیدل پولنگ سٹیشن تک لیجانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں کسی گاڑی کا انتظام کرنا ہو گا۔‘‘ چنانچہ طارق گاڑی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، گاؤں میں کئی ویگنیں تھیں لیکن ہر کسی نے خواتین کو پولنگ سٹیشن لیجانے کے لیے سے انکار کر دیا۔ پوٹھوہار آرگنائزیشن فار ڈویلپمنٹ ایڈووکیسی نامی تنظیم بھی اس کام میں روبینہ اور طارق کی معاونت کر رہی تھی۔ تنظیم نے اپنی ایک کار کے ڈرائیور کو اس کام کے لیے بھیج دیا۔ یہ ڈرائیور چکوال شہر کا رہائشی تھا اور گاؤں کے ماحول اور اس ساری صورتحال سے ناواقف تھا چنانچہ خواتین کو لینے چلا گیا۔

جب ڈرائیور تین خواتین کو کار میں بٹھا کر پولنگ سٹیشن پہنچا تو مرد کی قہر آلود نگاہیں دیکھ کر وہ ٹھٹھکا، جیسے ہی گاڑی رکی، کچھ مرد اس کی طرف بڑھے اور پوچھا کہ ان خواتین کو کہاں سے لائے ہو؟ ڈرائیور معاملے کی نوعیت کو کسی حد تک سمجھ گیا اور جھوٹ بولا کہ ’میں راولپنڈی سے ہوں اور ٹیکسی چلاتا ہوں، وہیں سے ان خواتین کو لے کر آیا ہوں۔‘ اس پر ان مردوں نے اس کی جان چھوڑ دی۔ایک اور شخص جو کچھ دور کھڑا تھا اس نے خواتین کو پہچان لیا کیونکہ وہ انہی کے گاؤں سے تھا۔

اس شخص نے ڈرائیور کو دھمکی دی ’’اگر اب تم کسی عورت کو پولنگ سٹیشن لے کر آئے تو اس کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔‘‘ ڈرائیور وہاں سے بمشکل جان بچا کر نکلا اور دوبارہ دھرنال کی طرف جانے کی جرأت نہیں کی۔ اس پر طارق نے نئی گاڑی کا بندوبست کرنا شروع کر دیا۔دوپہر ہو چکی تھی اور خواتین نے روبینہ کے گھر سے جانا شروع کر دیا تھا کیونکہ انہیں اپنے مردوں کے لیے دوپہر کا کھانا تیار کرنا تھا۔ ایک گھنٹے کی تگ و دو کے بعد طارق ایک وین کے ڈرائیور کو خواتین کو پولنگ سٹیشن لیجانے پر رضامند کرکے لے آیا۔ وین میں 11خواتین سوار ہوکر نکلیں تو گاؤں کے لوگ دیکھ کر چیخ اٹھے’’روکو، انہیں کہاں لیجا رہے ہو؟‘‘ ڈرائیور نے گاڑی روکنی چاہی تو طارق نے اسے گاڑی بھگانے کو کہا اور بتایا کہ گاڑی روکو گے تو قتل ہو جاؤ گے اور جان بچ بھی گئی تو تمہاری گاڑی کو تو آگ لگا ہی دی جائے گی۔اس پر ڈرائیور نے وین بھگا لی اور ایک کچی سڑک سے ہوتے ہوئے خواتین کو پولنگ سٹیشن تک لے آیا۔ یوں جان ہتھیلی پر رکھ کر دھرنال کی ان 14خواتین نے 50سال بعد ووٹ کاسٹ کیا۔

50سال تک ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا قصہ کچھ یوں ہے۔ مقامی افراد کو درست تاریخ تو یاد نہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ 1960ء کی دہائی میں ایک لڑکے اور لڑکی نے پسند کی شادی کی تھی۔ دونوں کا تعلق مختلف قبیلوں سے تھا، چنانچہ ان میں دشمنی ہو گئی اور اس دشمنی کا سب سے بڑا نشانہ خواتین بنیں۔ خواتین گھروں سے باہر بھی محتاط ہو کر نکلتیں اور تمام لوگوں نے اپنی خواتین کوآئندہ سے انتخابات میں پولنگ سٹیشن جانے سے بھی روک دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس دشمنی کی سرد پڑ چکی آگ گرم سیاسی ماحول میں خواتین کو دیکھ کر دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔تب سے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اور اب تک ان کا پولنگ سٹیشن جانا ممنوع ہے۔

مزیدخبریں