’بھارت کی خواہش ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی ۔ ۔ ۔‘ مودی سرکار نے تحریک انصاف سے رابطے تیز کردیئے، وجہ کیا ہے؟ حیران کن خبرآگئی

’بھارت کی خواہش ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی ۔ ۔ ۔‘ مودی سرکار نے ...
’بھارت کی خواہش ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی ۔ ۔ ۔‘ مودی سرکار نے تحریک انصاف سے رابطے تیز کردیئے، وجہ کیا ہے؟ حیران کن خبرآگئی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بنتے دیکھ کر بھارت نے پی ٹی آئی کے ساتھ رابطے تیز کردیے ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کا نیامشن یہ ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے اعلی رہنماﺅں کے ساتھ اپنے رابطے میں مزید اضافہ کرے اور خاص کر ایسے رہنما جن کا نئی حکومت میں خاص عہدوں پر مامور ہونے کا امکان ہے۔روزنامہ جنگ کے مطابق انتخابات میں عمران خان کی کامیابی پربھارتی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم امیدکرتے ہیں کہ پاکستان کی نئی حکومت جنوبی ایشیا کو دہشت گردی، تشدد سے آزاد، محفوظ، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔رپورٹس کے مطابق بھارت کا کہنا ہے پاکستانی عوام کے خیال میں وزیر اعظم نریندر مودی خواہش مند ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت دوبارہ آئے جبکہ انہوں نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتے ان کے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہی پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی ان کے تعلقات اچھے رہیں جن میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نےوزیر اعظم مودی سےعمران خان کو مبارکباد دینے کا مطالبہ نہیں کیا جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے گزشتہ روزعمران خان کو فون پر مبارک باد دی۔صدر اشرف غنی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ دونوں رہنماﺅں نے ماضی کی تمام باتوں کو فراموش کرکے خوشحال سیاسی، سماجی اور اقتصادی مستقبل کی جانب قدم بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد