مذہبی جماعتوں کا سیاسی مستقبل

مذہبی جماعتوں کا سیاسی مستقبل
مذہبی جماعتوں کا سیاسی مستقبل

  

الیکشن 2018 کے نتائج گزشتہ تمام الیکشن نتائج سے دلچسپ اور حیران کن ثابت ہوئے. 120 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے درجنوں مذہبی جماعتوں نے بھی الیکشن 2018 میں بھرپور حصہ لیا. جن میں سرِ فہرست ایم ایم اے، تحریک لبیک پاکستان، سنی تحریک، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ اور سنی اتحاد کونسل شامل ہیں. 

یہ مذہبی جماعتیں ہر دورمیں پاکستانی سیاست میں اپناکردار ادا کرتی آئی ہیں، ملک کے مذہبی اور سیاسی مسائل پر اپنا مؤقف دینے کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی قوتوں خصوصاً سیکولرازم کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی آئی ہیں. ان تمام مذہبی جماعتوں میں ایم ایم اے واحد جماعت ہے جس میں ہر مسلک کی نمائندگی موجود ہے اور تمام مسالک کی نمائندگی نامور علماء کر رہے ہیں. ان سب مثبت پہلوؤں کے باوجود ایم ایم اے 2002 الیکشن کے بعد ابتک خاطرخواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی.جبکہ اس مرتبہ تو ایم ایم اے نے جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف سے اتحاد بھی کیا لیکن ناکام رہی. ایم ایم اے میں موجود مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی کسی بھی نشست پر کامیابی حاصل نہ کر سکے. ہر حکومت کا حصہ بننے والے مولانا فضل الرحمن اپنی دونوں نشستیں ہار بیٹھے اور جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق بھی کسی نشست پر کامیابی سمیٹنے میں ناکام رہے۔. 

آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد کیوں رنگ نہیں جماتا؟ معزز قارئین اسکی بہت سی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ جو الیکشن 2018 میں دیکھنے کو ملی کہ تمام مسالک کی نمائندہ جماعت کہلانے والی ایم ایم اے نے 80 فیصد ٹکٹیں صرف ایک خاص مسلک کے امیدواروں کو ہی دِیں. میری ذاتی رائے میں ایم ایم اے کی اپنی ہی نا انصافی اور دوغلی پالیسی ہی انکی ناکامی کا باعث ہے. پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لینے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان جس کی سیاسی سرگرمیاں دیکھ کر تاثر کچھ ایسا مل رہا تھا کہ یہ تحریک شہر قائد سمیت ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں جماعت اسلامی کی متبادل ثابت ہوسکتی ہے لیکن الیکشن نتائج نے ہمارے تمام تاثرات کو غلط ثابت کیا. تحریک لبیک پاکستان نے اپنے 180 امیدوار قومی اسمبلی کی نشستوں پر جبکہ درجنوں امیدوار صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر میدان میں اتارے. جن میں صرف دو امیدوار سندھ اسمبلی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور کوئی امیدوار قومی و صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل نہ کر سکا. تحریک لبیک پاکستان کے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کھڑے ہونے والے 180 امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 21,91,679 ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پرملنے والے ووٹوں کی تعداد پنجاب میں 18,76,265 ، سندھ میں 4,14,635 ، خیبر پختون خواہ میں 78,125، اور بلوچستان میں 10,999 حاصل کر سکی. فوج کی نگرانی میں ہونے والا شفاف اور پرامن الیکشن کو ایم ایم اے اور تحریک لبیک پاکستان سمیت کئی مذہبی و سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں، اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر چکی ہیں. مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ اس تلخ حقیقت کو مان کر اپنے اندر موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے. تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی صاحب الیکشن نتائج کو قبول نہ کرتے ہوئے دھاندلی نہیں دھاندلاہونے کا بیان جاری فرما چکے ہیں.

 جب تک مذہبی جماعتیں بغیر کسی عوامی منشور کے ووٹ مانگیں گی تو ایسا ہی ہوتا رہے گا. پاکستانی عوام اب سیانی ہو چکی ہے جسکا نظارہ ہم الیکشن 2018 میں دیکھ چکے ہیں. عوام الناس نے جذباتی اور مسلکی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی خاطر نکل کر اپنی مرضی کا نمائندہ چنا. پاکستانیوں کے اس چناؤ کو دنیا بھر میں سراہا گیا. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا یک زبان ہو کر کرنا ہوگا. وہ وقت دور نہیں جب پاکستان نا صرف مسلمانانِ پاکستان کی بلکہ عالم اسلام کی قیادت کرے گا. انشاءاللہ 

 ۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ