اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 1

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 1

  

کراچی شہر کی ہنگامہ پرور پر شور زندگی سے دور ۔۔۔ ساحل سمندر پر پتھروں سے بنا ہوا ایک چھوٹا سا دو کمروں والا کاٹج ، پام کے درختوں میں گھرے ہوئے اسی کاٹج میں ، کھڑکی کے پاس بیٹھا ، میں اپنی زندگی کی طلسم ہوش ربا قلمبند کر رہا ہوں۔ 

میرا نام عاطون ہے۔ میر عمر پینتیس بر س ہے مگر میں پانچ ہزار سات سو بہتر سالوں سے زندہ ہوں۔ جو کوئی بھی ، کبھی ، میری اس داستان عجب کو پڑھنا شروع کر ے گا تو میرے اس جملے پر آکر حیرت کا اظہار کرے گا۔ وہ اس میرے جملے کی سچائی پر شک کرے گا۔ اسے یقین نہیں آئے گا کہ کوئی انسان اس زمین پر ہزاروں برس تک زندہ رہ سکتا ہے۔ پہلے پہل مجھے بھی یقین نہیں آتا تھا لیکن جب میری خوبصورت بیوی سمارا جس سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ 

میری آنکھوں کے سامنے بوڑھی ہوتی گئی اور اس کے حسین ارغوانی رخساروں پر وقت کے نقوش پا کی لکیریں جھریوں میں بدلتی گئیں اور میں اسی طرح پینتیس برس کا جوان رہا اور میرے سارے دوست ، عزیز اور شاہی محل کے رشتے داروں کے بال بڑھاپے میں برف کی طرح سفید ہوگئے اور میرے سیاہ گھنگریالے بالوں میں سفیدی کی ایک لکیر بھی نہ چمکی اور جب اس زہرہلاہل کا میرے جسم پر کوئی اثر نہ ہوا جو مجھے فرعون مصر کے شاہی محل میں ایک مشروب لذت افروز کی شکل میں پلایا گیا تھا تو مجھے یقین ہونے لگا کہ میں وقت کے رعشہ زدہ بوڑھے ہاتھوں کی گرفت سے آزاد ہو چکا ہوں ، میری آنکھوں کے سامنے میری خوبصورت بیوی سمارا بوڑھی ہو کر مر گئی ، ہم اپنی بوڑھی بیوی کو صرف اس صورت میں دیکھ کر گوارہ کر سکتے ہیں کہ جب ہم خود بھی بوڑھے ہوں۔ 

لیکن جب ہمارے عمر پینتیس برس سے آگے نہ بڑھی ہو اور ہماری بیوی اسّی برس کی ہوجائے تو اسے دیکھنا شاید زندگی کا سب سے بڑا عذاب ہے۔ میں اپنی بیوی سمارا سے بے پناہ محبت کرتا تھا مجھے اس کے سیاہ بالوں میں دریائے نیل کے کنول کے پھولوں کی مہک آتی تھی اور اس کے سرخ ہونٹوں میں خرطوم کے سچے گلاب سانس لیتے تھے ، اور پھر جب میں نے سچے گلاب کے ان پھولوں کی پنکھڑیوں کو وقت کے صحرا میں ریت کے سیاہ ذروں میں بدلتے اور کنول کے پھولوں کو دریائے نیل کی دلدل میں دم توڑتے دیکھا تو میں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے۔ پھر ایک روز میں نے اپنی بیوی کو بھی فراعنہ مصر کے شاہی غلاموں کے ویران قبرستان میں اپنی والدہ کی قبر کے پاس دفن کر دیا۔ اور تاریخ کے صفحات پر میرا حیرت انگیز ہزاروں برس کا سفر شروع ہوگیا۔ 

سمندر میری آنکھوں کے سامنے حد نگاہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ہلکے سبز سمندر کی دیو پیکر لہریں دور دور سے آکر میرے کاٹج کے آگے پھیلے ہوئے ریتلے ساحل پر بچھ جاتی ہیں اور میری زندگی کی تحیرافزا داستان کے ایک ایک ورق کو میرے سامنے کھول کر واپس چلی جاتی ہیں۔ 

آسمان پر بادل گہرے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ شاید آج موسلا دھار بارش ہو۔ میر گھڑی سہ پہر کے چار بجا رہی ہے۔ میں اس کاٹج میں بالکل تنہا رہتا ہوں ، میں نے ابھی ابھی چائے کی ایک پیالی بنا کر اپنے پاس میز پر رکھی ہے ، چائے کا رنگ گہرا ارغوانی ہے جیسے سورج غروب ہو رہا ہو ، اس کی خوشبو مجھے دریائے نیل کے کنارے اگی ہوئی مہندی کی جھاڑیوں کی یاد دلاتی ہے جہاں میں بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔ آج سے پونے چھ ہزار برس پہلے دریائے نیل کی مہندی کی جھاڑیوں کی خوشبو ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ میں صرف چائے شوق سے پیتا ہوں حالانکہ میں بغیر کچھ کھائے پئے بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔ کیونکہ موت کو میرے زندگی سے ایک خاص عرصے کے لئے جدا کر دیا گیا ہے۔ یہ عرصہ کتنے ہزار برس پر محیط ہے ؟ یہ میں نہیں جانتا ۔ پونے چھ ہزار برس گزر گئے ہیں اور میں صدیوں کی مسافت طے کرتا ، دیکھتا ، اس شہر تک پہنچ گیا ہوں ، یہاں سے میرا واپسی کا سفر شروع ہو رہا ہے۔ مجھے ایک بار پھر ہزاروں برس کی تاریخ کے بوسیدہ اوراق میں سے گزرنا ہوگا۔ 

لیکن اپنی واپسی کا سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنی زندگی کی طلسم ہو شربا کو قلم بند کر دینا چاہتا ہوں۔ میرا کوئی بیٹا بیٹی نہیں تھی۔ اگر ہوتی بھی تو وہ اپنے باپ کی داستان حیات کے یہ اوراق پڑھنے کے لئے زندہ نہ ہوتی۔ پھر بھی میں محسوس کرتا ہوں کہ نسل انسانی کے سارے بچے میرے بیٹے ، بیٹیاں ہیں اور میں یہ داستان ان ہی کے لئے لکھ رہا ہوں۔ یہ اگرچہ ایک ناچیز ورثہ ہے مگر میرے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ 

شروع شروع میں جب انسانی تہذیب کی تاریخ کو اونچی نیچی پر پیچ گھاٹیوں میں میرے حیرت انگیز سفر کا آغاز ہوا تو مجھے راتوں کو خواب میں آوازیں آتیں۔ 

’’عاطون ! ایک لامتناہی مدت تک تمہارے موت روک دی گئی۔ تم انسانی تاریخ کے ساتھ ساتھ زندہ رہو گے۔ ‘‘ 

میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا اور سوچتا۔ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک فانی انسان ہزاروں سال تک زندہ رہے ؟ اس وقت میرا ذہن اس معمے کو حل کرنے میں ناکام اور بے بس تھا ۔۔۔ لیکن جب اپنے تاریخی اور لازوال سفر کے دوران لگ بھگ 480سن عیسوی کے زمانے میں میں نے ایک عیسائی پادری جیمس سروجی کے سہریانی زبان میں لکھے ہوئے مواعظ میں اصحاب کہف کے ایک غار میں تقریباً ایک سو چھیانوے برس تک زندہ رہنے کی روایت کو پڑھا تو میرے دل کو ذرا حوصلہ ہوا مگر اس کے بعد جب میں نے مسلمانوں کی دینی کتاب مقدس قرآن حکیم میں اصحاب کہف کے تاریخی واقعے کو پوری تفصیل کے ساتھ پڑھا تو میرے آنکھیں کھل گئیں۔ پھر مجھے یقین ہوگیا کہ اگر خدا چاہے تو ایک انسان کو جب تک چاہے زندہ رکھ سکتا ہے۔ 

۔۔۔ اور پھر قرآن حکیم میں بیان کردہ اس واقعہ نے میری حیرت کو یقین میں بدل دیا۔ میں جس قوم میں پیدا ہوا تھا۔ وہ مظاہر فطرت اور بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ سورج ان کا سب سے بڑا معبود تھا لیکن میرے دل میں بچپن ہی سے جیسے کوئی مجھ سے آہستہ سے کہا کرتا تھا کہ سجدہ صرف خدائے واحد کو زیبا ہے جو کل کائنات کا خالق ہے اور یہ سارے بت جھوٹے ہیں۔ چنانچہ میں نے کبھی کسی بت کے آگے سر نہیں جھکایا تھا۔ مجھے زہر دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں فراعنہ مصر کے دیو تاؤں کو تسلیم نہیں کر تا تھا اور ان کے آگے سرجھکانے کے بجائے راتوں کو اٹھ کر خدائے واحد کویاد کرتا تھا اور اسی کی عبادت کرتا تھا۔ 

میں نے پہلی بار خلفائے عباسیہ کے دور اول میں قرآن حکیم پڑھا تو خدائے واحد کی حقانیت پر ایمان لے آیا۔ میرے دل کو تسکین ہوئی اور میں خدائے واحد کے حضور سجدہ ریز ہوگیا۔ (جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار