سولہ برس کی وہ لڑکی جو فلسطینیوں کی راہبر بن گئی 

سولہ برس کی وہ لڑکی جو فلسطینیوں کی راہبر بن گئی 
سولہ برس کی وہ لڑکی جو فلسطینیوں کی راہبر بن گئی 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عہد تمیمی کا نام گزشتہ کئی ماہ سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر گردش کرتا رہا ہے۔ آخریہ عہد تمیمی کون تھی ؟ عہد تمیمی کا تعلق مقبوضہ فلسطین سے ہے کہ جہاں اس نے آنکھیں کھولیں تو ہر طرف اس کو صیہونی درندگی کا سامنا کرنا پڑا، ایک ایسی سرزمین کہ جہاں روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کو بد ترین پامالیوں سے روند ڈالا جاتا ہے ۔ مقبوضہ فلسطین ایک ایسی سرزمین کہ جہاں پر بچوں کو بھی جیل خانوں میں قید کیا جاتا ہے اور کئی کئی ماہ تک ان بچوں کو ان کے گھر والوں سے ملاقات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ عہد تمیمی ایک ایسے معاشرے میں جنم لے کر آئی کہ جہاں فلسطین کے مظلوم عوام کے گھروں کو بڑے بڑے بلڈوزروں کی مدد سے کسی بھی وقت مسمار کیا جاتا ہے، حتیٰ ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ رات کو جب فلسطینی گھروں میں نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں تو ان کے گھروں کو صیہونی درندوں کے بلڈوزر مسمار کرنے پہنچ جاتے ہیں اور ان واقعات میں متعدد معصوم بچے اور معذور بزرگوں کی موت ملبے تلے دب کر واقع ہوتی ہے۔

عہد تمیمی ایک سولہ سال کی فلسطینی نوجوان لڑکی ہے کہ جس نے سرزمین فلسطین پر اپنی پیدائش سے لے کر اپنی زندگی کے سولہ سالوں کو غاصب صیہونیوں کی جانب سے روا رکھے گئے بدترین مظالم اور وحشت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور محسوس کیا ہے۔عہد تمیمی فلسطین کے باقی ان تمام بچوں جیسی نہیں رہی ، عہد تمیمی نے بچپن سے ہی مزاحمت کاری کے راستہ کو اپنایا اور یہ راستہ اس کو وراثت میں اس کے والدین کی جانب سے ملا۔آج بھی اگر انٹر نیٹ کی دنیا پر عہد تمیمی کی والد ہ ناریمان تمیمی اور والدباسم تمیمی کا نام لکھ کر سرچ کیاجائے تو ایسے درجنوں واقعات سامنے آئیں گے کہ جس میں اس خاندان کی جانب سے نہ صرف صیہونیوں کے مقابلے میں اپنے گھر کا دفاع کیا ہے بلکہ علاقے میں بسنے والے دیگر فلسطینیوں کو بھی حوصلہ دینے اور غاصب صیہونی دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے میں اسی خاندان اور بالخصوص عہدتمیمی کی والدہ اور والد کا بڑا کردار رہا ہے۔واضح رہے کہ عہد تمیمی کی والدہ اور والد کو غاصب صیہونی ریاست اسرائیل پہلے بھی قید و بند کی سزائیں دے چکی ہے۔

گذشتہ دنوں 29جولائی اتوار کو عہد تمیمی اور اس کی والدہ ناریمان تمیمی کو اسرائیلی جیل سے آٹھ ماہ کے بعد رہا کیا گیا ہے، عہد تمیمی کا جرم کیا تھا؟ عہد تمیمی نے بہادری اور شجاعت کی ایک ایسی مثال قائم کی تھی کہ جسے رہتی دنیا تک ہمیشہ تاریخ فلسطین اور آزادی فلسطین کی جد وجہد میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔عہدتمیمی نے فلسطینی عوام کے ساتھ جبر و ستم کے ساتھ پیش آنے والے ایک غاصب صیہونی فوجی کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا اور اس جرم میں عہد تمیمی کو گرفتار کیا گیا اور پھر مختلف اوقات میں سنگین سزائیں اور نفسیاتی ٹارچر کیا جاتا رہا تاہم 29جولائی سنہ2018ء کو غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی قید سے وہ اپنی والدہ کے ہمراہ آزادی پا کر ایک مرتبہ پھر فلسطینی عوام سمیت دنیا بھر کے حریت پسندوں اور متوالوں کے لئے رول ماڈل بن گئی ہیں۔

ایک سولہ سالہ فلسطینی نوجوان بہادر لڑکی کا غاصب صیہونی فوجی کو تھپڑ رسید کرنا یقیناًایک قابل جرات اور شجاعت مندانہ عمل ہے جو ا س بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ فلسطین کی نئی نسل بھی پرانی نسلوں کی طرح جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور جد وجہد کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ نسل نو کسی بھی طرح سے غاصب اسرائیل یا اس کے مدد گار امریکہ و مغربی ممالک کی طرف سے کی جانے والی صیہونیوں کی مسلح مدد سے مرعوب نہیں بلکہ یہ نسل اپنے حقوق کے دفاع کی خاطر نہتے ہی برسرپیکار رہنے کو عزت و شرف کا راستہ سمجھ کر فلسطین و القدس کے دفاع کے لئے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے۔

یہ عہد تمیمی اور ان جیسی سیکڑوں فلسطینی نوجوان بچیاں اور بچے گزشتہ کئی ہفتوں سے غزہ اور مغربی کنارے کے ناجائز قائم کردہ بارڈر پر حق واپسی مارچ کا حصہ ہیں اور اس پاداش میں صیہونی غاصب افواج کی جانب سے مسلسل فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ بھی جاری ہے جو تاحال اس نسل نو کا حوصلہ پست کرنے میں بری طرح سے ناکام ہے، بلکہ فلسطین کی نسل نو کے حوصلہ مزید بلند سے بلند ہو رہے ہیں اور وہ مزاحمت کاری کے عمل کو ہی اپنی بقاء اور فلسطین کی آزادی کا راستہ قرار دے رہے ہیں ، یہی کچھ دراصل فلسطین کی اس بہادربیٹی عہد تمیمی نے بھی انجام دیا۔

فلسطین کی نئی نسل میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے مظالم اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف جنم لینے والا جذبہ حریت اور مزاحمت دراصل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسرائیل مسلسل زوال کی طرف ہے۔جہاں ایک طرف صیہونی جعلی ریاست اسرائیل اپنے دفاع کی خاطر اب مختلف دیواریں بنا کر سہارا لے رہی ہے وہاں غزہ اور مغربی کنارے کے راستے کو جدا کر کے ناجائز سرحد کی تعمیر کے ذریعہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے اپنے لئے شکست کا ایک اور باب کھول لیا ہے اور خود کو مزید محدود کر لیا ہے۔یہی اسرائیل سنہ48ء سے پہلے اور بعد میں عظیم تر اسرائیل کی بات کرتا تھا آج عہد تمیمی جیسی بہادر نوجوان نسل کے سامنے تسلیم خم ہو رہاہے اور خود کو محدود سے محدود کرنے میں مصروف ہے۔

یہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کہ جو چھ مسلمان ممالک کے ساتھ ہونے والی جنگ میں چند گھنٹوں میں نتائج حاصل کر لیتا تھا او ر فتح حاصل کرتا تھا آج ایک سولہ سالہ نوجوان لڑکی کے ہاتھوں اس غاصب ریاست کے درندہ صفت فوجی تھپڑ کھا رہے ہیں اور اس پر شکست تو یہ ہے کہ آٹھ ماہ قید رکھنے کے بعد بالآخر فتح کس کی ہوئی ہے؟ اسرائیل پھر بھی شکست سے دوچار ہو اہے، جعلی ریاست اسرائیل کو بالآخر گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں اور فلسطینی نوجوانوں کی جد وجہد رنگ لائی ہے اور عہد تمیمی کو اس کی والدہ کے ہمراہ آزاد کرنا پڑا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ اور دنیا کی بڑی مغربی طاقتیں غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو اربوں ڈالر کا اسلحہ امداد کے نام پر دے کر اسے مزید طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف اب اس جعلی ریاست اسرائیل کی حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ایک سولہ سال کی نوجوان لڑکی اسرائیلی غاصب فوجیوں سے نہتے ہی نبرد آزما ہے اور اپنے آہنی ہاتھوں کے تھپڑ ان صیہونی درندوں کو رسید کر رہی ہے۔یقیناًاسرائیل تاریخ میں اس سے زیادہ زوال کا شکار نہیں ہوا تھا کہ ایک پوری نسل جو کہ فلسطین میں مقبوضہ حالات میں جنم لے کر نوجوانی کی منزل گزار رہی ہے آج غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے لئے درد سر بن چکی ہے اور اسرائیل کو کسی بھی محاذ پر چین و سکون میسر نہیں آ رہا۔عرب دنیا اور خود اسرائیلی تجزیہ نگاروں کی رائے میں بھی فلسطین کی اس بہادر اور شجاع نوجوان لڑکی عہد تمیمی کی رہائی فلسطینی مزاحمت کے حامیوں اور فلسطین کی نئی نسل کی ناقابل تسخیر کامیابی ہے جس پر اسرائیل کے حصے میں فقط ذلت و رسوائی کے کچھ اور نہیں رہا۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عہد تمیمی کی رہائی پر پوری پاکستانی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور فلسطین کاز کے لئے سرگرم عمل تنظیم فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان نے عہد تمیمی کی صیہونی قید سے رہائی کو فلسطینی عوام کی عظیم کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے فلسطین کے عوام کو مبارک باد پیش کی ہے۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ