دنیا میں موجود ’جہنم کے 10 دروازے‘ جن کے بارے میں آپ کو معلوم نہیں

دنیا میں موجود ’جہنم کے 10 دروازے‘ جن کے بارے میں آپ کو معلوم نہیں
دنیا میں موجود ’جہنم کے 10 دروازے‘ جن کے بارے میں آپ کو معلوم نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

روم(نیوز ڈیسک)قدیم داستانوں میں کرہ ارض کے کئی ایسے مقامات کا ذکر ملتا ہے جن کی ہیبت اور ان سے وابستہ خطرات کے باعث انہیں ’جہنم کے دروازے‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بیش تر ایسی جگہیں ہیں جہاں لاوا اگلتے آتش فشاں پائے جاتے ہیں اور ان مقامات کی جستجو کرتے ہوئے بہت سے مہم جو جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔

ڈیلی سٹار کی ایک رپورٹ میں کچھ ایسے ہی نمایاں مقامات کر ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور جگہ ترکمانستان میں ”دیر وازے“ کے علاقے میں واقعے وہ ہیبت ناک گڑھا ہے جس میں پچھلے 50 سال سے آگ دہک رہی ہے۔ سائنسدانوں نے اس آگ کو بجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس گڑھے کا اندرونی درجہ حرارت ہمہ وقت 1000 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر رہتا ہے۔ کئی میل دور سے بھی اس میں بھڑکتے شعلے نظر آتے ہیں جن کا نظارہ خصوصاً رات وقت بہت ہی خوفزدہ کر دینے والا ہوتا ہے۔

روس کے برف زار سائبیریا میں ”بٹگاکیہ“ نامی گڑھا ایک اور ایسی ہی جگہ ہے جسے جہنم کا دروازہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آگ تو نہیں جلتی البتہ وقت کے ساتھ اس کا دہانہ پراسرار طور پر بہت ہی بڑا ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت اس گڑھے کا قطر تقریباً ایک کلومیٹر تک پھیل چکا ہے جبکہ اس کی گہرائی کے بارے میں تو درست طور پر کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے۔ اگرچہ اس کے اردگرد ہزاروں میل کا علاقہ ویران ہے لیکن اس کے باوجود سائنسدان تشویش میں مبتلاءہیں کہ آخر کیا راز ہے کہ اس کا دائرہ وقت کے ساتھ وسیع ہوتا جا رہا ہے، اور یہ آخر کتنا بڑا ہو جائے گا؟

امریکی ریاست پنسلوانیا کی یارک کاﺅنٹی کی قریبی جنگلات میں صدیوں پرانی عمارتوں کے کھنڈرات ہیں۔ یہ عمارتیں آگ میں جھلسی نظر آتی ہیں اور ان کے سات پراسرار دروازے ہیں جنہیں جہنم کے دروازے کہا جاتاہے۔ مقامی لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر کوئی شخص ان ساتوں دروازوں میں سے گزرجائے تو وہ اس دنیا سے نکل کر جہنم کی دہلیز پر جا پہنچتا ہے۔

جاپان کے پہاڑی سلسلے ماﺅنٹ اوسورو میں صدیوں پرانا بدھ مت کا ایک مندر واقع ہے۔ اس مندر کے بارے میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ یہ جہنم کا دروازہ ہے۔ مندر کے سامنے سے دریا گزرتا ہے اور دوسری جانب بلند پہاڑ ہیں، یعنی مندر میں داخل ہونے کے لئے دریا کو عبور کرنا ضروری ہے۔ مقامی لوک داستانوں کے مطابق دیوتاﺅں نے جہنم کے دروازے سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے اس کے سامنے دریا کی رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔

یورپ کا سب سے بڑاآتش فشاں، جو ہر وقت کھولتا رہتا ہے اور کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، جزیرے سسلی پر واقع ماﺅنٹ ایٹنا آتش فشاں ہے۔ اس آتش فشاں میں سے ہر وقت آگ کے شعلے بلند ہوتے رہتے ہیں اور اس میں سے اٹھنے والا دھواں آسمان تک پھیلتا دکھائی دیتا ہے۔آتش فشاں کے اندر ہونے والے طاقتور دھماکوں کے باعث آس پاس کی زمین بھی ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی لوگ اس آتش فشاں کو جہنم کا دروازہ قراردیتے چلے آئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس