’وہ مجھے قرآن پڑھانے آتا تھا، اس دن اس نے میرے گال پر بوسہ دیا اور ساتھ ہی۔۔۔‘ نوعمر لڑکی نے پولیس والوں کو ایسی شرمناک ترین بات بتادی کہ جان کر تمام والدین سوچیں گے بھروسہ کریں تو کس پر

’وہ مجھے قرآن پڑھانے آتا تھا، اس دن اس نے میرے گال پر بوسہ دیا اور ساتھ ...
’وہ مجھے قرآن پڑھانے آتا تھا، اس دن اس نے میرے گال پر بوسہ دیا اور ساتھ ہی۔۔۔‘ نوعمر لڑکی نے پولیس والوں کو ایسی شرمناک ترین بات بتادی کہ جان کر تمام والدین سوچیں گے بھروسہ کریں تو کس پر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک)اولاد کی حفاظت والدین کی ذمہ داری ہے اور کہنے کو تو اساتذہ بھی والدین ہی ہوتے ہیں۔ یعنی اس حساب سے دیکھا جائے تو استاد کی نظر میں طالبہ کی حیثیت بیٹی جیسی ہی ہونی چاہیے، مگر اے کاش واقعی ایسا ہی ہوتا۔ عجب زمانہ ہے کہ اب والدین کے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ کسی پر بھی اعتبار کرسکیں، حتٰی کہ کتاب مقدس کی تعلیم دینے والے معلم پر بھی نہیں۔

دبئی میں پیش آنے والے اس المناک واقعے کو دیکھ لیجئے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی فیملی کی 15 سالہ بیٹی کو ایک ادھیڑ عمر بنگلا دیشی استاد گھر میں قرآن مجید کی تعلیم دینے آتا تھا لیکن اسی بدبخت نے ایک دن موقع پا کر لڑکی کو دبوچ لیا اور اس کے بوسے لینے لگا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق لڑکی نے اپنے والدین کو بتایا کہ استاد کا رویہ کئی روز سے مشکوک تھا۔ چند دن قبل اس نے سبق دیتے ہوئے اچانک اسے دبوچ لیا اور گال کا بوسہ لیتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے استاد کی بجائے اپنا دوست ہی سمجھو۔ اس بیہودگی نے لڑکی کو خوفزدہ کر دیا اور اس نے یہ تمام ماجرا اپنے والدین کے سامنے بیان کر دیا۔ تب تک شیطان صفت استاد وہاں سے جا چکا تھا۔

لڑکی کے والدین نے پولیس کو شکایت کی جس پر بنگلا دیشی استاد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی طور پر تو وہ اپنا جرم تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا لیکن پولیس نے تفتیش جاری رکھی اور بالآخر اس نے سب کچھ مان لیا۔ اب یہ بے حیا شخص پولیس کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف مقدمے کی کاروائی جاری ہے۔ مقدمے کا فیصلہ 12 اگست کے روز متوقع ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا