ریٹائرمنٹ

ریٹائرمنٹ
 ریٹائرمنٹ

  

محمد عامر پاکستان کر کٹ ٹیم کے مایہ ناز لیفٹ آرم فاسٹ باؤلر ہیں اور موصوف پاکستان کرکٹ ٹیم کو چمپئن ٹرافی جتوانے میں اپنا اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ان کی قومی ٹیم کے لیے بہت سی خدمات ہیں اور وہ ابھی بھی قومی ٹیم کو دستیاب ہیں لیکن یہ خبر ان کے چاہنے والوں کے لیے بالکل بھی اچھی نہیں کہ انہوں نے ٹیسٹ فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔جس کے باعث قومی ٹیم کو ان کی ٹیسٹ کرکٹ فارمیٹ میں خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔اب جب کہ محمد عامر ٹیسٹ فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں تو قومی ٹیم کے مایہ ناز عظیم فاسٹ باؤلر وسیم اکرم اور شعیب اختر نے محمد عامرکے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر تنقید کے نشتر برسا دیئے ہیں۔

دونوں کا کہنا ہے کہ دولت کی چمک نے محض 28سالہ محمد عامر کو اس فیصلے پر مجبور کیا ہے کیونکہ ون ڈے اور ٹی 20فارمیٹ میں کھلاڑی ایک دن میں فارغ ہو کر اچھے بھلے پیسے کما لیتے ہیں تو پھر ان کا دل کیسے ٹیسٹ فارمیٹ میں لگے گا۔اس کے ساتھ،کھلاڑی غیر ملکی ٹی 20لیگز میں بھی اپنی کارکردگی کے جوہر دکھاتے ہیں جس کے باعث ان میں کھیلنے کی وہ لگن باقی نہیں رہتی جو نظر آنی چاہیے۔لیکن خیر یہ محمد عامر کا اپنا زاتی معاملہ ہے ان کے اس فیصلے کے بعد ان کو اپنی فیملی کے ساتھ بھر پور ٹائم ملے گا اور وہ خود بھی باقی دو فارمیٹ میں ترو تازہ بھی نظر آئیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان جو خود ایک پروفیشنل کرکٹر رہ چکے ہیں اور انگلینڈ میں مختلف کاؤنٹیز کی جانب سے کھیلتے ہوئے اپنے کلبز کی فتح میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔انہوں نے بیڑہ اٹھایا ہے کہ پاکستان کے ڈومیسٹک سٹرکچر میں تبدیلی لاتے ہوئے عملی اقدامات کیئے جائیں گے اور اس کو مضبوط بنا کر نئے ڈومیسٹک سٹرکچر سے ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا جو اپنی پرفارمنس کے باعث ملک کی نمائندگی کے واقعی ہی اہل ہوں گے۔

وسیم خان کا یہ جذبہ قابل دید ہے کیونکہ ان میں دولت کمانے یا نام بنانے کی تڑپ نہیں بس وہ ہر صورت پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو بلندیوں پر پہنچانا چاہتے ہیں۔انہی کی کاوشوں سے ملک میں کرکٹ دوبارہ سے اپنے پاؤں جما رہی ہے اور غیر ملکی ٹیمیں و کھلاڑی بلا خوف خطر یہاں کھیلنے کے لیے بے قرار بھی نظر آرہے ہیں۔

وسیم خان کے کام کاانداز جداگانہ اور منفرد ہونے کے باعث قوم کو ان سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔رواں سال میں ملک کے گراؤنڈ غیر ملکی ٹیموں کی آمد سے آباد ہو جائیں گے۔زمبابوے،ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے متوقع دورے کے پیش نظر ان کی تمام کوششیں سری لنکا کے اس دورے کو کامیاب بنانے پر لگی ہوئی ہیں۔وسیم خان جانتے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی مشکل ہدف ہے اور وہ ناممکن کو ممکن بنانے کا ہنر جانتے ہیں جس کے باعث وہ ملک میں کرکٹ کی بحالی کے لیے سر توڑ کوششیں کرتے نظر بھی آرہے ہیں۔

اب جب کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایک اہم میٹننگ اگلے دو تین رو ز میں ہونے والی ہے جہاں چیف سلیکٹر کے ساتھ قومی ٹیم کے کپتان اور کوچنگ سٹاف کے مستقبل کا فیصلہ متوقع ہے۔

ملک کی ستر سالہ کرکٹ تاریخ کے چار بہترین ٹیسٹ میچز میں سے چنئی ٹیسٹ میچ کو پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا بہترین ٹیسٹ قرار دیا گیا ہے۔جس میں وسیم اکرم،ثقلین مشتاق،وقار یونس،انضمام الحق،سعید انور،محمد یوسف،معین خان جیسے مایہ ناز کھلاڑیوں نے قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے بھارتی سورماؤں کو تیرہ سکور سے ہر اکر ناقابل یقین میچ جیتا تھا۔اس کے ساتھ1954 ء میں انگلینڈ کے خلاف فتح و دیگر دو ٹیسٹ میچز بھی اس لسٹ میں شامل تھے لیکن قرعہ چنئی ٹیسٹ کے نام نکلا۔

اگر اسی طرح ون ڈے کے بہترین میچز کا بھی جائزہ لیا جائے اور چیمپئن ٹرافی کے فائنل کو بھی اسی طرح منتخب کیا جائے۔اب خیر محمد عامر نے ٹیسٹ فارمیٹ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے تو پھر اس فارمیٹ کے لیے قومی ٹیم کو عامر جیسا یا ان سے بہتر باؤلر تلاش کرنا ہو گا کیونکہ ٹیسٹ چیمپئن شپ شروع ہونے والی ہے اور قومی ٹیم کو اس وقت ایسے کھلاڑیوں و کپتان کی ضرورت ہے جو ٹیم کو اس چیمپئن شپ میں سرخرو کرنے میں ہمہ وقت جستجو کرتے نظر آئیں اس کے ساتھ ایسا اسکواڈ تشکیل دیا جائے جو اس غیر یقینی کارکردگی میں کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ یقینی کر کے دکھائے۔

مزید :

رائے -کالم -