عرفان صدیقی کی گرفتاری اور رہائی

عرفان صدیقی کی گرفتاری اور رہائی
عرفان صدیقی کی گرفتاری اور رہائی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ بات تو سامنے آ ہی چکی ہے کہ بطور استاد چار نسلوں کی تہذیبی و اخلاقی تربیت اور بطور کالم نگار اپنی پسند کے سیاسی راستے پر چل کر سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو ان کی منزل تک لے جانے والے پچھتر سالہ شہری عرفان صدیقی کی گرفتاری کے پیچھے ہمارے محبوب وزیراعظم جناب عمران خان کا ہاتھ ہر گز نہ تھا۔ حتیٰ کہ ملک کے داخلی معاملات دیکھنے والے اعجاز شاہ صاحب کو بھی اس گرفتاری کے سلسلے میں وضاحت دینا پڑ گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گرفتاری کے پیچھے نون لیگ کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ جناب عرفان صدیقی کی گرفتاری کا فیصلہ کس کا تھا؟ ابھی تک کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ انہیں ہتھکڑی لگانے کا فیصلہ کِس نے کیا تھا؟ یہ بات بھی ابھی تک صیغہ ء راز میں ہے۔

انھیں نہایت عجلت میں اڈیالہ جیل کیسے بھیجا گیا؟ یہ معاملہ بھی ابھی دھندلکوں میں گم ہے۔ پھر انھیں چھٹی کے روز کس طرح رہا کر دیا گیا؟ یہ قِصہ بھی حیران کن ہے۔
مجھے تو لگتا ہے کہ یہ گرفتاری دراصل سوئے ہوئے شیر کو جگانے کی ایک کوشش ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت جانے کے بعد عرفان صدیقی بالکل چُپ تھے۔ ہم نے میڈیا پر انھیں کبھی نون لیگ کی صفائی دیتے دیکھا نہ اخبار میں ان کا کالم ”نقشِ خیال“ پڑھنے کو ملا۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف میں کچھ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ عرفان صدیقی جیسا مُدبّر اور شائستہ قلم کار ایک بار پھر، پہلے کی طرح اپنی گل افشانیء گفتار سے جلی بُھنی محفلوں کو گل و گلزار کرے۔ اپنی رہائی کے بعد عرفان صدیقی صاحب نے میڈیا سے گفتگو کی تو اندازہ ہوا کہ
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں


شام آٹھ بجے ٹیلی ویژن سکرین پرمختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگانِ خاص، جس زبان اور لہجے میں بات کرتے ہیں، اس کے حوالے سے میرا یہ شعر شاید حسبِ حال ہو:
بہت حسین ہے اسلوبِ طعنہ و دُشنام
کہاں سے شہر میں یہ خوش کلام آئے ہیں


عرفان صدیقی صاحب کوثر و تسنیم میں دُھلی اردو زبان لکھتے اور بولتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اچھا ہوا،اسلام آباد کی انتظامیہ نے انھیں ایک دن کے لیے سہی، گرفتار تو کیا۔ اب وہ چپ نہیں رہیں گے۔ جہاں بولنا ہو گا، وہاں بولیں گے۔ اکیلی مریم اورنگ زیب بے چاری کب تک پی ٹی آئی کے ذہین و فطین ترجمانوں اور مشیروں کا مقابلہ کر سکتی ہے؟
عرفان صدیقی صاحب کی گرفتاری کا پی ٹی آئی کو یہ نقصان ہُوا کہ ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور کالم نگاروں کے جذبات کو ٹھیس لگی اور وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ آج جو ہتھکڑی عرفان صدیقی صاحب کو لگی ہے، کل اُن کے ہاتھوں کا زیور بھی بن سکتی ہے۔ خدا لگتی کہوں گا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ اس لحاظ سے خوش قسمت جماعتیں ہیں کہ انھیں بہت سے ادیبوں، شاعروں اور کالم نگاروں کی حمایت حاصل ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے اپنے ادوار میں ایک آدھ وزیر یا مشیر ایسا ضرور رکھا،جس کا تعلق براہِ راست ادیبوں اور ادیبوں کے اداروں سے تھا۔ یہ دونوں جماعتیں اسلام آباد میں اہلِ قلم کانفرنس منعقد کرکے ادیبوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

نون لیگ کے پچھلے دور میں، جب عرفان صدیقی صاحب قومی تاریخ و ادبی ڈویژن سربراہ تھے، اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے زیر اہتمام کئی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ این بی ایف نے ہر سال کتاب میلہ منعقد کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جناب شفقت محمود کو تمام علمی و ادبی اداروں کی سربراہی دی ہ ے لیکن شفقت محمود صاحب ابھی تک ادیبوں اور شاعروں سے براہِ راست تعلق بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کی حکومت نے اپریل 2019ء میں نہایت بے دلی سے ایک کتاب میلے کا اہتمام کیا تھا لیکن اس میں شفقت محمود صاحب کی ویسی دلچسپی نظر نہیں آئی، جیسی عرفان صدیقی صاحب دکھایا کرتے تھے۔ وہ میلے میں صبح سویرے پہنچ جاتے اور شام تک وہیں موجود رہتے۔ شاعروں، ادیبوں سے گپ شپ کرتے۔ ادبی جلسوں میں شرکت کرتے۔ حتیٰ کہ چائے اور کھانے کے وقفے میں بھی ادیبوں شاعروں کے ساتھ ہی ہوتے۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت، واقعی پانچ سال پورے کرنا چاہتی ہے اور اگر ان پانچ برسوں میں عوام کے لیے بھی کچھ کرنے کی آرزو مند ہے تو اسے ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں اور دانش وروں سے ہم کلام ہونا پڑے گا۔ اس حساس طبقے کو عزت دینا ہو گی۔ اگر عرفان صدیقی جیسے لوگوں کو ہتھکڑیاں لگتی رہیں تو رائے عامہ بنانے والے سارے لوگ حکومت کے مخالف ہو جائیں گے۔ قلم کاروں کو دولت کے ترازو میں رکھ کر نہیں تولا جانا چاہیے۔ یہ دولت کے نہیں، عزت، شہرت اور پیار کے بھوکے ہوتے ہیں۔


ہم فقیروں سے کج ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا


پی ٹی آئی کی حکومت نے حال ہی میں ایک اچھا فیصلہ کیا ہے جس کو دیکھ کر کہا جا سکت اہے کہ یہ ادیبوں شاعروں کو نظر انداز کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ایک نہایت مستند ماہرِ اقبالیات اور ادیب ندیم شفیق ملک کو قومی تاریخ و ادبی ڈویژن کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔ ندیم شفیق ملک صاحب کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ہمیں شفقت محمود صاحب سے کوئی توقع بھی نہ ہو ندیم شفیق ملک صاحب سے امید ہے کہ وہ ادبی اور علمی اداروں کی بہتری کے لیے کچھ نئے قدم اٹھائیں گے۔ ان اداروں میں نئے چہروں کو سامنے لائیں گے اور ان لوگوں سے جان چھڑالیں گے جو بار بار گھوم پھر کر ان ادبی اداروں میں آ جاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -