ٹریفک نظام بہتر بنانے کی ضرورت

ٹریفک نظام بہتر بنانے کی ضرورت
ٹریفک نظام بہتر بنانے کی ضرورت

  

اب جب نیا پاکستان بننے جا رہا ہے تو کیوں نہ اس کا آغاز ٹریفک کا نظام بہتر کر کے کیا جائے۔ پچھلے سال پاکستان میں 36500 قیمتی جانیں سڑکوں کے حادثات میں ضائع ہوئی ہیں۔ پاکستان میں ایک لاکھ میں سے 15 بندے سڑک کے حادثات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا سمیت یورپ کے کئی ممالک میں یہ تعداد 5 یا 6 بندے ہیں۔ ناروے میں ایک لاکھ میں سے دو یا تین بندے ٹریفک حادثات کا شکار ہو کر جہان فانی سے رخصت ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں سڑک کے حادثات کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان افریقی ممالک میں ہوتا ہے اور سب سے کم یورپ میں۔ پاکستان میں ایک سال میں 4 ہزار کے قریب قیمتی جانوں کے ضیاع کے علاوہ جو دوسری املاک تباہ ہوئی ہیں۔

اور جانی کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں ٹریفک کی سرے سے کوئی ترتیب ہے۔ نہ کسی کو ٹریفک کے قوانین سے دلچسپی ہے۔ موٹروے اور اسلام آباد کی حد تک کافی زیادہ لوگ ٹریفک قوانین پرعمل کرتے ہیں۔ یہ وہی پاکستانی ہیں جو دوسرے شہروں اور علاقوں میں گاڑیاں چلاتے ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ہر بندہ جانتا ہے کہ موٹروے پر اور اسلام آباد شہر کی حد تک ٹریفک قوانین کی پابندی کروائی جاتی ہے اور غلطی کی صورت میں جرمانہ دینا ہوگا۔ حالانکہ پاکستان میں جرمانے کوئی زیادہ نہیں ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ کہ جہاں لوگوں کو قانون پر عملدرآمد کا یقین ہوتا ہے وہاں لوگ قانون توڑنے سے گریز کرتے ہیں۔ بے ہنگم ٹریفک جانی و مالی نقصان کے علاوہ اور بھی کئی مسائل پیدا کرتی ہے۔ وقت کا ضیاع ہوتا ہے، لوگ مضطرب ہوتے ہیں۔

اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ہجوم نما قوم کو کس طرح ٹریفک کی قطار پر چڑھایا جائے؟ سب سے پہلا کام یہ کہ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ سے یورپ طرز پر مکمل ٹریفک اسکول بنائے جائیں اور تمام لوگوں کو ایک سال کا عرصہ دیا جائے کہ جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہیں وہ ایک سال میں امتحان پاس کر کے اپنا لائسنس بنوائیں اور جن کے پاس ہیں وہ دوبارہ کورس کر کے اپنے لائسنس رینیو کروا لیں۔ بڑے شہروں میں ٹریفک سکول زیادہ ہوں تو یہ کام جلدی بھی ہو سکتا ہے۔ ان سکولوں کے اندر پاکستان کے تمام ٹریفک قوانین کتابی شکل میں موجود ہوں اور ڈرائیور بننے کے لیے ڈرائیونگ پریکٹس اور ٹیسٹ سے پہلے تھیوری پڑھائی جائے اور اس کا امتحان پاس کیا جائے۔ جب لائسنس کے معاملات درست ہو جائیں تو پھر ٹریفک کے قوانین پر مکمل عملدرآمد کروانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹریفک پولیس کو تعینات کیا جائے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف بھاری جرمانے کیے جائیں، بلکہ ان کی گاڑیاں بند کر دی جائیں۔

ایک اور بات بھی ضروری ہے کہ آلودگی اور حادثات سے بچنے کے لیے ملکی بیانیہ تیار کیا جائے کہ کم سے کم لوگ نجی ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔ اور زیادہ سے زیادہ لوگ بسوں اور ٹرینوں میں سفر کریں۔ اس کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت بھی بہتر بنائی جائے۔

تمام موٹر سائیکل سواروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ اپنے سر پر ہیلمٹ رکھیں اور اپنی بائیک کے دونوں کان یعنی سائڈ شیشے لگوائے جائیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹریفک موٹر سائیکلوں والے خراب کرتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ اموات بھی انہی لوگوں کی ہوتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -