اسحاق ڈارکے حق میں اسد عمر کا کلمہ خیر، مخالفین پھر پتحرک ہوجائیں گے

اسحاق ڈارکے حق میں اسد عمر کا کلمہ خیر، مخالفین پھر پتحرک ہوجائیں گے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اسد عمر کی زبان سے اسحاق ڈار کے لئے کلمہ خیر سن کر تحریک انصاف میں ان بہت سے لوگوں کے کان تو کھڑے ہوئے ہوں گے جو ہر وقت تتے توے پر بیٹھے رہتے ہیں اور مخالفین کے ذکر پر ان کی بھنویں تن جاتی ہیں اور ماتھوں پر گہرے شکن پڑ جاتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ روپے کو مصنوعی طاقت دینے کا اسحاق ڈار کو الزام نہ دیں، یہ کام ہر حکمران نے کیا۔ ہمیں یاد آیا کہ جب جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا آفتاب نصف النہار پر تھا تو وہ کسی مخالف کی اس بات پر سخت غصے میں آگئے تھے جس نے کہا تھا کہ حکومت نے بازار سے ڈالر خرید کر روپے کی قیمت کو مضبوط سہارا دیا ہوا ہے تو انہوں نے پلٹ کر کہا تھا جب آپ کی حکومت تھی تو آپ کو کسی نے منع کیا تھا کہ بازار سے ڈالر نہ خریدیں، آپ بھی ڈالر خرید کر زرمبادلہ میں اضافہ کرتے اور روپے کو سہارا دیتے۔ یہ گویا اس بات کا اعتراف تھا کہ روپے کو ایسے بھی سہارا دیا جاتا ہے لیکن تبدیلی کے اس عہد میں جب روپیہ گرنا شروع ہوا تو سہارا کسی نے کیا دینا تھا وزیراعظم نے بنفس نفیس یہ فرمایا کہ انہیں تو روپے کے گرنے کا پتہ ٹی وی کی خبروں سے چلا۔ چند دن بعد اس وقت کے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کا بیان آیا کہ انہوں نے اسد عمر (اس وقت کے وزیر خزانہ) کو اس بارے میں بتا دیا تھا اور اسد عمر نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو اس سے آگاہ کر دیا تھا کوئی ان تینوں میں سے کس کی بات کا اعتبار کرے۔ اب تو دونوں حضرات سابق ہوچکے ہیں، لیکن اسد عمر چند دن سے کھل کر کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے تو ایسا منصوبہ پیش کر دیا تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کی ضرورت نہ تھی، لیکن وزیراعظم کا خیال تھا کہ سارے لوگ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام لینا پڑے گا۔ معلوم نہیں یہ ”سارے لوگ“ کون تھے، یہ کوئی ماہرین تھے یا تحریک انصاف کے اندر اسد عمر کے مخالف تھے، جو چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح انہیں وزارت خزانہ کے منصب سے ہٹا دیا جائے۔ ان پر فیصلوں میں تاخیر کا الزام بھی تھا۔ بہرحال اس رگڑے جھگڑے میں اسد عمر کی وزارت بھی گئی اور ان کا وہ سارا منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا جو انہوں نے متبادل کے طور پر تیار کیا تھا اور جس پر عمل کرکے ان کے بقول پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا، لیکن اب تک آپ جان چکے ہیں، اب ان فیصلوں کے ماتم کی بجائے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، لیکن لگتا ہے اسد عمر کی باقی باتیں تو شاید تحریک انصاف کے تنک تابوں کو ہضم ہو جائیں، یہ بات انہیں قابل قبول نہیں ہوگی کہ روپے کے مصنوعی تحفظ کا گناہ اکیلا اسحاق ڈار نہیں کر رہا تھا بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے دور میں ایسا کرتے رہے ہیں لیکن اسحاق ڈار ان دنوں مفرور ہیں۔ اندرون ملک ان کی جائیدادیں ضبط ہو رہی ہیں اور بینک اکاؤنٹس سے بھی رقوم نکالی جا رہی ہیں، ایسے میں اسد عمر کی آواز کی طرف کون دھیان دے گا۔

تحریک انصاف کی حکومت کو ابھی ایک سال نہیں ہوا (الیکشن کی سالگرہ بطور یوم تشکر ضرور منائی گئی) اور اس نے قرضوں کے حصول کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ ہر نیا قرض لیتے وقت پرانے حکمرانوں کی مذمت ضروری ہے جن کی وجہ سے نئی حکومت کو نئے قرضے لینے پڑے، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کو بھی وزیراعظم سے عند الملاقات کہنا پڑا کہ سابق حکومت نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا بلکہ وہ ہمارے خلاف جا رہی تھی، عمران خان کو یہ بتانا ضروری اس لئے ضروری تھا کہ کہیں وہ بھی سابق گردن زدنی حکومت کی راہ پر نہ چل نکلیں کیونکہ ایک زمانے میں انہوں نے نیٹو سپلائی کے خلاف احتجاج اور مظاہرے شروع کر رکھے تھے۔ یہ سب باتیں اگرچہ صدر ٹرمپ کے علم میں تھیں لیکن صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ ویسے تو عمران خان اکثر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ہم نے امریکہ کی جنگ لڑ کر بہت نقصان اٹھایا، اب ہم اپنی سرزمین پر کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے، لیکن اپنے دورے کے دوران ایک جگہ وہ یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے ہم اپنے ملک میں آپ کی جنگ لڑ رہے ہیں، معلوم نہیں یہاں ”آپ“ سے امریکہ مراد تھی یا کوئی اور ملک۔

حکومت نے حال ہی میں 500 ملین ڈالر 80) ارب 52 کروڑ روپے(کا نیا قرضہ بھی لیا ہے، جو 12 بینکوں سے لیا گیا ہے۔ قرضہ کے حصول میں حکومت جو سرگرمی دکھا رہی ہے اس کی وجہ سے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ سابق قرضوں کے بارے میں حکومت نے ایک کمیشن بنایا ہے جو یہ معلوم کر رہا ہے کہ یہ قرضے جن مقاصد کے لئے حاصل کئے گئے تھے کیا ان پر خرچ بھی ہوئے یا نہیں، یہ کمیشن کام شروع کرچکا ہے اور شاید جلد ہی یہ بعض تفصیلات سامنے لے آئے لیکن جو موجودہ قرضے لئے جا رہے ہیں کیا کل کوئی دوسری حکومت بھی ان کا حساب کتاب کرے گی یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، کیا پتہ آگے آنے والی حکومتوں کا مزاج کس طرح ہوتا ہے۔ البتہ معیشت کی جو حالت ہوگئی ہے اس کے بارے میں اگلی حکومت کو ضرور کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا ورنہ اگر مہنگائی اور بیروزگاری کا یہ سلسلہ اسی طرح دراز تر ہوتا رہا تو صنعتی ترقی کا کوئی خواب نہیں دیکھا جاسکتا۔ جو ادارے گزشتہ برس اپنی کارکردگی پر پھولے نہیں سما رہے تھے، اب ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ پلانٹ بند کر رہے ہیں یا بند کرنے کی سوچ رہے ہیں، ایسے میں ان وعدوں پر کون اعتبار کرے گا کہ معیشت بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔ اسد عمر تو کہہ رہے ہیں آئی ایم ایف کے قرضے کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں، حکومت سے تو وہ نکالے جاچکے، شاید وہ وقت بھی آجائے جب پارٹی میں بھی ان کے لئے کوئی جگہ نہ رہے۔

اسدعمر

مزید : تجزیہ