خطبہ حجۃ الوداع

خطبہ حجۃ الوداع

  

 مولانا مجیب الرحمن انقلابی

hmujeeb786@hotmail.com

مؤرخین اسلام نے ”رحمتہ للعالمین ﷺ“ کی حیات طیبہ کے اس سنہری گوشہ کو بھی ”عالم آشکار“ کیاہے جب آپ ﷺ نے سوا لاکھ کے قریب صحابہ کرام ؓ کے مجمع عام میں ”حجۃ الوداع“کے موقعہ پر خطاب فرما رہے تھے کہ لوگو! آج انتقامی جذبات کے شعلے خم ہو رہے ہیں،انتقامی خون باطل کر دیا گیا، آپ  ﷺ نے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! ایک دوسرے کے قاتلوں کو معاف کر دو اس کی ابتداء میں اپنے بھتیجے ربیعہ بن حارث کے خون کو معاف کر رہا ہوں۔

لوگو......... اللہ ایک ہے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، لوگو اللہ سے ڈرو...... لوگو! سنو تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن، آج کے مہینے اور شہر کی حرمت ہے..... لوگو! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا وہ حلال ہے، جس چیز کو حرام کیا وہ حرام ہے، لوگو! تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے اور ان کیلئے حق ہے کہ وہ تمہاری عزت سے نہ کھیلیں، عورتوں کو خیانت کرنے پر سزادے سکتے ہو، اگر عورتیں (بیویاں) تابعدار ہو جائیں تو انہیں اچھا کھلاؤ، اچھا پہناؤ، میں عورتوں کے متعلق تم کو بھلائی کی تاکید کرتا ہوں......لوگو! تمہارا رب ایک، تمہارا باپ ایک، تم سب آدم علیہ السلام سے ہو اور آدم مٹی سے، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے اچھا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے.... کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، اور کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی برتی و فضیلت حاصل نہیں مگر پرہیز گاری کے ساتھ......آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگو! جاہلیت کے سود مٹائے جاتے ہیں، زمانہ جاہلیت کے آثار ختم کیے جاتے ہیں، لوگو! جاہلیت کے سودی لین دین اور کاروبار آج ختم کئے جاتے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے چچا عباسؓ کا سودی بیوپار توڑتا ہوں....لوگو! قتل عمد پر قصاص ہے..... لوگو! میرے بعد نہ کوئی نبی ہے(کیونکہ میں آخری نبی ہوں) اور نہ کوئی نئی امت پیدا ہونے والی ہے، اچھی طرح سن لو، اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو، سال بھر میں ایک مہینہ رمضان المبارک کے روزے رکھو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ نہایت فراخ حوصلگی کے ساتھ دیا کرو، خانہ خدا کا حج بجا لاؤ..جس کی جزا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوگئے......”رحمتہ للعالمین ﷺ“ نے اپنے جانثار صحابہ کرام ؓ سے دریافت فرمایا کہ..... لوگو! قیامت کے روز تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟....صحابہ کرام ؓنے بیک آواز عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہم گواہی دیتے ہیں آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام صرف پہنچایا ہی نہیں بلکہ پہنچانے کا حق ادا کر دیا ہے.......

اس وقت حضور اقدس ﷺ اپنی انگشت شہادت کو اٹھایا..... آپ ﷺ آسمان کی طرف اپنی انگشت مبارک کو اٹھاتے تھے اور پھر لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یا اللہ! سن لے تیرے بندے کیا کہہ رہے ہیں۔ یااللہ! گواہ رہیو کہ یہ لوگ کیا گواہی دے رہے ہیں۔ یااللہ! شاہد رہیو کہ یہ سب کیا صاف اقرار کر رہے ہیں......پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ حاضرین میری بات سن کر غیر حاضرین تک پہنچادیں۔ اللہ رب العزت ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید :

ایڈیشن 1 -