اتحادِ ملت…… عید ِ قربان اور ضرورت؟

اتحادِ ملت…… عید ِ قربان اور ضرورت؟
اتحادِ ملت…… عید ِ قربان اور ضرورت؟

  

ایک اللہ، ایک قرآن اور ایک رسولؐ کو ماننے والے ہم مسلمان کیسے لوگ ہیں کہ اختلاف برداشت نہیں اور خود ساختہ عقائد کے پر لڑتے مرتے ہیں، حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں ایک مسودہ قانون منظور ہوا، وہاں مکمل اتفاق رائے تھا،لیکن اس کی منظوری کے بعد ایک تنازعہ شروع کر دیا گیا ہے،حتیٰ کہ ایک وفاقی معاون موصوف بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئے،جو ان کی جماعت نے منظور کیا۔ہمیں اس سے غرض اور بحث نہیں۔ اگرچہ دِل تو یہی چاہتا ہے کہ اس پر بات کی جائے،لیکن ہم اس سے مکمل اجتناب کرتے اور اس استدعا کے ساتھ یہ بات ختم کر دیتے ہیں کہ آپ جو بھی سمجھیں یا سمجھتے ہوں، خدارا فسادِ خلق سے گریز کریں، خصوصاً سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کرنے والوں سے تو ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ وہ کوئی اور مسئلہ تلاش کر لیں۔ مسلکی اختلاف کو فساد تک نہ لے جائیں کہ اس سے ملک کو بہت نقصان ہو گا اور یہ ملت اسلامیہ تک بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت اور علماء کرام سے یہی توقع ہے کہ وہ یہ مسئلہ مل بیٹھ کر سلجھا لیں۔ یہ عام آدمی کے مسائل نہیں، بعداز مرگ اللہ کی طرف سے ہر بندے سے اس کے اعمال کے حوالے سے پوچھ گچھ ہو گی۔ان مسائل کی بات نہیں ہو گی۔

اس مسئلے کو یہیں چھوڑتے اور مزید بات کرتے ہیں کہ جونہی کوئی تقریب دینی، ملی یا عوامی آتی ہے تو اس پر بھی متنازعہ بحث چھیڑ دی جاتی ہے، شاید کچھ حضرات کے لئے یہ شغل یا بعض دانشور حضرات کے لئے علمی بحث ہو، لیکن اس سے بھی اختلاف نہیں، انتشار پیدا ہوتا ہے۔ ملت اسلامیہ کے لئے اختلاف باعث برکت ہو سکتا ہے، جب نیک نیتی اور درست راستے کے لئے ہو، لیکن اختلاف کو انتشار اور ”مَیں نہ مانوں“ تک لے جانا درست نہیں ہے۔ خصوصاً دینی اور مسلکی معاملات میں شدت پسندی نہیں ہونی چاہئے، ہمیں تو ہمارے حضرت علامہ ابو الحسناتؒ نے یہی سکھایا تھا کہ مسائل، خصوصاً اختلافی اور مسلکی علماء کرام اور صاحب علم و فہم کے لئے رہنے دو، تم اپنے اعمال کے جواب دو ہو،اِس لئے خود کو صراطِ مستقیم کے پابند کرو، ان کا فرمانا تھا کہ امامین حضرات نے فقہی مسائل پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا،لیکن وہ سب نہ صرف ایک دوسرے کی رائے اور ذات کا احترام کرتے تھے،بلکہ مسائل کے حوالے سے ان کے درمیان کوئی بنیادی تنازعہ نہیں تھا۔حضرت علامہ ابو الحسنات نے مثال دی کہ چور کی سزا قطع ید ہے۔اس پر کوئی اختلاف نہیں، کہ چوری ثابت ہونے پر سزا ہے۔ البتہ بعض ہاتھ کاٹنے کی تجویز کرتے اور ایک فقہ کے مطابق انگلیوں کی پور کاٹ لینا ہی کافی ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ تعزیراتِ پاکستان میں قاتلانہ حملے کی سزا تو سات سال یا عمر قید ہے،تاہم عدالت شہادتوں کی بناء پر کم سزا بھی دے سکتی ہے۔اس سے قانون پر فرق نہیں پڑتا،اِس لئے ہم سب کو اجتناب کر کے یہ سب علماء کرام پر چھوڑ دینا چاہئے اور ہم ان سے بھی استدعا کریں گے کہ وہ اختلاف کو عام نہ کریں، متفقہ احکام پر لوگوں کو عمل کی تلقین کریں تاکہ فساد فی الارض سے بچا جا سکے۔

بات پھر دور نکل گئی۔یہ مہینہ ذوالحج کا ہے اور عیدالاضحی سر پر آ گئی ہے، اسے ہمارے خطے میں عرف عام میں عید ِ قربان کہتے ہیں۔ بلا شبہ یہ تہوار سنت ِ ابراہیم ؑ کو یاد کرنے کا ہے کہ اللہ کے نبیؐ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے اکلوتے اور پیارے ترین صاحبزادے کو قربانی کے لئے پیش کر کے یہ سنت اور مثال پیدا کی کہ اللہ ہی کے لئے ہے، سب کچھ، اور جان و مال سب اس کا دیا اور اسی کے لئے ہے اور اسی کی خاطر قربان بھی کیا جا سکتا ہے۔یہ عظیم قربانی ہے اور اس کی یاد میں مسلمان بھی حلال جانور ذبح کر کے اس سنت کو یاد اور تازہ کرتے ہیں۔حج بیت اللہ کے موقع پر یہ قربانی ہر حاجی کے لئے فرض قرار دی گئی تو اُمت کے لئے اسے ”واجب“ کہا گیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ واجب ادا کرنا ثواب بھی ہے اور سنت ِ ابراہیمی کی یاد بھی،لیکن یہ فرض نہیں،اس واجب کی ادائیگی کے لئے شرائط ہیں اور سب سے بڑی شرط صاحب نصاب ہونا ہے اور صاحب نصاب کے لئے جو لازمی حجت ہے، وہ فقہی ہے اور یہاں بھی بعض فقہا نے کچھ اختلاف کیا ہے کہ ”استطاعت“ کیا ہے۔ تاہم اس سے کوئی اختلاف نہیں کہ قربانی واجب ہے۔ اگر کوئی نہیں کر سکتا تو وہ گنہگار نہیں اور نہ ہی اسے شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے۔دوسرے یہ بھی مناسب نہیں کہ ایک فقہہ والوں کی طرح آپ نماز کے لئے متعین نوافل اس پابندی سے ادا کریں کہ وہ فرض ہی بن جائیں اور بعض فقہ والے حضرات نماز کے ساتھ نوافل ادا ہی نہ کریں۔

یوں ہر دو حضرات اعتدال کا راستہ چھوڑ دیں، حالانکہ دین متین تو سرا سر اعتدال ہے۔اسی طرح قربانی کا مسئلہ ہے تو یہ بھی واجب ہے،اِس لئے صاحب استطاعت حضرات کو بھی اسے فرض نہیں بنا لینا چاہئے، بلکہ تسلسل کو توڑنا بھی ضروری ہے۔الجزائر کی مثال بھی موجود ہے، جہاں ملک بھر کے تمام علماء کرام نے مل کر اجتہاد کیا اور قرار دیا کہ قربانی واجب، اگر ایک محلے میں اجتماعی قربانی ہو تو یہ واجب ادا ہو جاتا ہے۔ آج کل اجتماعی قربانی پر زور دیا جاتا ہے، لیکن ہر مسلمان کو قربانی کے لئے مجبور ہی کر دیا جاتا ہے کہ پُل صراط سے گذرنے کے لئے حلال جانور کی قربانی ہی لازم ہے۔ اس صورت نے معاشرے میں بہت بگاڑ پیدا کیا ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتے وہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں شو بازی بھی ہے۔اس کی ایک مثال مویشی منڈیوں میں دس دس بیس بیس لاکھ کے جانوروں کی فروخت کے لئے پیش کش اور خریداری بھی ہے۔ اللہ بھلا کرے، کوئی ”عقیدت“ دو چار یا بیس لاکھ ایک جانور کے لئے خرچ کر دے تو یہ باقی معاشرے کو شرمندہ کرنے والی بات ہے،حالانکہ طبی نقطہ نظر سے ایسے جانور کا گوشت ہی مضر صحت قرار پاتا ہے، اِس لئے اے، مسلمانو! اعتدال کا راستہ اختیار کرو، علماء کرام سے عرض ہے کہ واجب کو واجب ہی رہنے دیں، اسے فرض نہ بنائیں کہ معاشرے میں تفریق ہو اور کچھ لوگ شرمندگی محسوس کریں۔

بات طویل ہو گئی، اور اس پر اور بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، خود کو یہیں تک محدود رکھتے ہیں اور اِن شاء اللہ اگلے روز کچھ یادیں تازہ کریں گے کہ ہمارے بچپن میں یہ عید کیسے گذرتی تھی۔

مزید :

رائے -کالم -