آج گلگشت چمن کا وقت ہے اے نوبہار

آج گلگشت چمن کا وقت ہے اے نوبہار
آج گلگشت چمن کا وقت ہے اے نوبہار

  

شہر اگرچہ تمام تر سہولتوں سے مزین ہیں لیکن اسکے باوصف دیہاتی زندگی کا حسن ہی کچھ اور ہے غذائیں سادہ۔ لوگ سادہ۔گفتگو سادہ ہر منظر فطرت سے مزین ہے جس سمت نظر اٹھ جائے آنکھوں میں خوش رنگ نظارے ثبت ہو کررہ جاتے ہیں گویا قدرت نے دیدۂ بینا کے لئے سامان نظارہ کر دیا ہے کہ بس فطرت کے حسن میں ڈوب کر رہ جائیے کھلی ہوئی سرسوں اور اسکی خوشبو،حدنگاہ سبزہ زمرد۔پھولوں کی بہار اور ان پر تتلیوں کا رقص۔ کانوں میں رس گھولتے مرغان خوش نوا۔قطار اندر قطار درخت۔ ندی کی مترنم لہریں.سانسوں میں گھلتا ہوا سوندھی مٹی کی خوشبو کا عطر۔ولی دکنی یاد آتا ہے

آج گلگشت چمن کا وقت ہے اے نوبہار

بادۂ گل رنگ سوں ہر جام گل لبریز ہے

کچے رستوں پر پختہ جذبوں والے سچے دیہاتیوں کے کھیتوں کی جانب اٹھتے ہوئے قدم۔چہروں پر محنت کی سرمستی اور سرخوشی جو روح تک شگفتہ کر دے جس سمت نظر اٹھائیے لطف پائیے سہ پہر نیلگوں کی دلکشی۔صبح و شام کے دلآویز مناظر چاند کی ٹھنڈی کرنیں اور چاندنی میں نہایا ہوا سماں۔ اللہ رب العزت کی نشانیوں کو واضح کرتی ہوئی ستاروں کی جھلملاہٹ۔ بادل۔ بارش۔ پھول۔ جگنو۔تتلیاں یعنی کونسا اہتمام ہے جو قدرت نے نہیں کررکھا یہاں قنوطیت نہیں بلکہ آس کی ڈالیوں پر کھلتے ہوئے امیدوں کے پھول ہیں اور ان پھولوں سے زندگی کی بہار ہے۔میر تقی میر نے فرمایا تھا ۔

موسم ابر ہو سبو بھی ہو۔گل ہو گلشن ہو اور تو بھی ہو

صاف ستھری طبیعتوں کے مالک لوگ ہیں ایک دوسرے کے کام آنا انکی سرشت میں گویا ودیعت کر دیا گیا ہے کسی کے دکھ درد میں پورے کا پورا گاؤں شامل ہوجائے اور خوشی میں بھی کوئی پیچھے نہیں، زمانے کے بدلتے ہوئے روئیے اگرچہ دیہاتی زندگی پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں اس کے باوجودہنوز دیہاتی زندگی محبتوں اور عقیدتوں کی رفعتوں پر فائز ہے گاؤں کے تعلیم یافتہ افراد بھی ابھی تک محبتوں کی بولیاں بولتے ہیں اپنی زبان، اپنا لہجہ پڑھ لکھ کر بھی نہیں بھولے اور ان پڑھ حضرات تو بات چیت کے لطف کو اور بھی دو آتشہ کردیتے ہیں میری ایک ’سٹوڈنٹ‘فون پرکہنے لگی سر کل میری طبیعت ٹھیک نہ تھی اس لئے رابطہ نہ کر سکی پوچھا نصیب دشمناں کیا ہوا تھا؟ کہتی ’بو‘ ’وہ‘ سر کل میرا’ولڈ پریشر‘ ’بلڈ پریشر‘ ہائی ہو گیا تھا کہنے لگی جی سر بتائیں آپ نے کیسے ’جاد‘’یاد‘ کیا میں نے کہا بھئی آپکے داخلے کی آخری تاریخ گذر ی جاتی ہے اس لئے ضروری تھا آپ رابطہ کرتی! موصوفہ ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھا بھی چکی ہیں لیکن لفظوں کے درست استعمال سے انہیں کچھ غرض نہیں اس میں ان کا کچھ گناہ نہیں دیہات کے لہجوں میں زبان کی صحت کا ایسا خیال نہیں رکھا جاتا پھر بھی گاؤں کے رہنے والے افراد کا تلفظ اور انکی ادائیگی ایسی من بھاتی ہے کہ اس سادگی پہ پیار آتاجاتا ہے میرے دوست سول انجنئیر ہیں کسی صاحب نے انہیں کال کرتے اپنی زیر تعمیر بلڈنگ کے مشورہ کے لئے کہا کہ انجنئیر صاحب آپ ہماری طرف بزٹ ’وزٹ‘ کر لیں گے تو سائیڈ انفیکشن ’سٹسفیکشن‘ ہوجائے گی۔

گاؤں کے لوگ تو آج بھی پھول کو فول اور پھاٹک کو فاٹک کہتے ہیں یعنی یہ صرف ان پڑھ افراد پر ہی موقوف نہیں بعض پڑھے لکھے بھی اسی سادہ مزاجی کی دولت سے مالا مال ہیں ایک گاؤں میں ہمارے دوست کی مسز سکول ٹیچر ہیں انکا اپنا تلفظ بے حد خراب ہے لیکن ایک بار مجھ سے بات کرتے ہوئے فرمانے لگی؛ سر یہ گاؤں کے لوگ ہیں انہیں بات چیت کا سلیقہ نہیں یہ ایک دوسرے سے بڑی’جیازتی‘’زیادتی‘ کرتے ہیں ہمارے سکول ٹیچرزحتکہ کالجز کے لیکچررتلفظ کے اعتبار سے ایسی مہارت تامہ نہیں رکھتے اکثر جناب کو ’زناب‘ کہہ جاتے ہیں ایمرجنسی کو’آمر جنسی‘ کہتے ہیں یوں تو میں بھی بعض اوقات ایسے ہی لہجے میں گفتگو کرتا ہوں ایسی ہی زبان میں بات کرتا ہوں اور پھر دیر تک حظ اٹھاتا ہوں میں اے ٹی ایم کے استعمال کے لئے گیا تو وہاں کسی گاؤں سے ایک ماں جی اپنی بیٹی یا بہو کے ساتھ بیٹے کی تنخواہ کے پیسے نکلوانے آئی تھی بیٹا کسی دوسرے شہر میں ملازم تھا ماں جی کو اے ٹی ایم کے استعمال کا طریقہ نہیں آرہا تھا مجھ سے کہنے لگی بیٹا ذرا تم دیکھو کیا مسئلہ ہے میر ے بیٹے نے پیسے بھیجے ہیں نکل نہیں رہے میں نے پراسس شروع کیا جب کوڈ لگانے کا وقت آیا تو میں نے اے ٹی ایم سے منہ پھیر کررکہا ماں جی یہاں اپنا کوڈ لگائیں ماں بیٹی سے اونچی آواز میں پکار کر کہنے لگیں بیٹا لگاؤ کوڈ یعنی ماں جی کوڈ اونچی آواز میں بتا رہی تھی

میں نے کہا ماں جی ایسے اونچی اونچی آواز میں بول کر کوڈ نہیں لگاتے حالات بہتر نہیں کسی لٹیرے کا سامنا بھی ہو سکتا ہے میں پھر پراسس میں آیا کوڈ لگانے کے لئے کہا اپنا منہ پھیرا ماں جی بیٹی سے آہستہ آواز میں کہنے لگیں بیٹا یہ کوڈ لگاؤ اور ساتھ وہ کوڈ دہرانے لگی میں نے عرض کیا ماں جی کوڈ بول کر نہیں لگاتے خاموشی سے لگائیے یہ تو مجھے تو صاف سنائی دے رہا ہے اب کے بیٹی نے کہا بھائی ا ب میں کوڈ لگاؤں گی اور ماں جی سے بولی ماں جی اب کے آپ نے خاموش رہنا ہے قطار میں کھڑے دوسرے صارفین کاصبر جواب دے رہا تھا میں نے پھر پراسس شروع کیا کوڈ لگاتے ہوئے اب کے بیٹی مشین کے بٹن دباتی گئی اور ساتھ ساتھ خود بولتی گئی چار۔ پانچ۔ چھ۔ سات ایسے سادہ لوح اور معصوم لوگ جس گاؤں میں رہتے ہوں وہاں کسی کو دھوکہ اور فریب کا کیا پتہ اور ایسے ہی لوگ محبوب ہوتے ہیں محترم ہوتے ہیں جن پربے ساختہ پیار آجاتا ہے چاہے وہ کسی شہر میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -