حکومت گرانے کا شوشہ

حکومت گرانے کا شوشہ
حکومت گرانے کا شوشہ

  

دو سال گزر گئے ہیں اگلے تین سال بھی گزر جائیں گے اپوزیشن یونہی کھیل تماشے کرتی رہے گی، حکومت کو گرانے میں غیر سنجیدگی کا جو عنصر اپوزیشن کے ہاں پہلے دن سے موجود ہے وہ آئندہ تین برسوں میں بھی ختم ہونے والا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن کے پاس اس کے سوا اور کوئی ایشو ہوتا ہی نہیں کہ وہ حکومت کو چلتا کرنے کی بات کرے۔ یہ انتہائی مطالبہ ہر دور کی اپوزیشن کا محبوب مشغلہ رہا ہے پہلے زمانوں میں یہ خواب پورا بھی ہو جاتا تھا اور غیر آئینی قوتیں چھڑی دکھا کر حکومت گرا دیتی تھیں، لیکن اب دس بارہ سالوں سے یہ سلسلہ مفقود ہو چکا ہے حکومتیں جیسے تیسے اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہیں اور بر وقت انتخابات ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں ہی اس تجربے سے گزر چکی ہیں مگر اس کے باوجود نجانے کس امید پر تحریک انصاف کی حکومت گرانے کا خواب دیکھ رہی ہیں بغیر کسی مضبوط بنیاد اور جواز کے ایک منتخب حکومت کو کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔ آئینی راستہ موجود ہے، عدم اعتماد کی تحریک لا کر حکومت کی چھٹی کرائی جا سکتی ہے، لیکن دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کے اتحادی اس طرف آنے کو تیار نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی جماعتوں کے اپنے ارکان عین وقت پر پیچھے سے کھسک جائیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں کھسک گئے تھے۔

صاف لگ رہا ہے کہ اپوزیشن کے دعوے صرف لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہیں اپنے آپ کو سیاست کے میدان میں زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے، وگرنہ وہ بھی جانتے ہیں کہ اس بے وقت کی راگنی میں جان نہیں اور کوئی ایسا معجزہ نہیں ہونے والا کہ جس سے حکومت ڈانوا ڈول ہو جائے۔ اگر کوئی یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن تحریک منظم کر لیں گے تو اس کی معصومیت پر ترس آتا ہے۔ اصل لیڈر آج بھی نواز شریف ا ور آصف زرداری ہیں وہ دونوں حالات سے لا تعلق ہو کر بیٹھے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پانچ سال پورے ہوئے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلنا۔ شہباز شریف بھی میدان میں نہیں آنا چاہتے تھے لیکن بلاول بھٹو زرداری کی ضد کے آگے بے بس ہو گئے۔ مگر انہوں نے بلاول کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کریں گے، انہوں نے یہ ذمہ داری بلاول بھٹو زرداری کے نوجوان کاندھوں پر ڈالنے کی بات کر کے اپنا دامن چھڑا لیا۔ ویسے بھی شہباز شریف کو جاننے والے یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کسی تحریک کی قیادت کریں گے۔ اس شعبے کو تو انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں اپنے لئے شجر ممنوعہ قرار دے رکھا ہے۔ وہ تو اس وقت بھی تحریک کا حصہ نہیں بنے تھے جب نوازشریف کو نا اہل قرار دے کر حکومت سے نکالا گیا تھا۔ نوازشریف جی ٹی روڈ پر کیوں نکالا کی تحریک چلا رہے تھے اور شہباز شریف لاہور میں ان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ پھر جب ووٹ کو عزت دو والا نعرہ گونجا تو شہباز شریف اس سے بھی دور دور رہے اب ایسی کیا آفت آن پڑی ہے کہ شہباز شریف اپنے اس مزاج اور تاریخ کے خلاف میدان میں کود پڑیں، لیکن بلاول بھٹو زرداری کی معصومیت شاید ان باتوں کا ادراک نہیں کر سکتی، وہ ایک امید لے کر شہباز شریف سے ملنے گئے اور شہباز شریف نے حسب معمول انہیں خواب دکھا کر واپس بھیج دیا۔

اب یہ بلاول بھٹو زرداری کا خواب ہی تو ہے کہ اپوزیشن جب تحریک چلائے گی ا ور لاہور سے اسلام آباد کی طرف جب ایک بڑا جلوس روانہ ہوگا تو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے حکومت رخصت ہو چکی ہو گی۔ اسلام آباد میں دھرنا دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ پہلے تو یہ ممکن نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری لاہور سے ایسا بڑا جلوس نکال سکیں جو اسلام آباد کے لئے خطرہ بن جائے، کیونکہ مسلم لیگ ن کی اس میں حمایت صرف اتنی ہی رہے گی جتنی اس نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے وقت ظاہر کی تھی۔ پھر یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ آج تک کوئی حکومت اس طریقے سے نہیں بدلی گئی، ہاں ججوں کی بحالی والی تحریک گوجرانوالہ جلوس پہنچنے سے پہلے کامیابی سے ہمکنار ضرور ہوئی تھی۔ تاہم اس کی قیادت نوازشریف نے کی تھی اورملک میں نئی نئی جمہوری حکومت قائم ہوئی تھی پھر اس کے پیچھے وکلاء تحریک کی ایک طویل جدوجہد موجود تھی۔ خود عمران خان نے نوازشریف حکومت کے خلاف اسلام آباد میں 124 دن دھرنا دیا تھا، لاہور سے ریلی بھی اسلام آباد پہنچی تھی، مگر نوازشریف حکومت کو گرایا نہیں جا سکا تھا۔ اس لئے بلاول بھٹو زرداری اگر ریلی کے گوجرانوالہ پہنچنے کی مثال دے کر حکومت گرانے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو ان کی معصومیت پر واقعی ترس آنے لگتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے اپنی بری کارکردگی سے اپنی مقبولیت کو خود ہی نقصان پہنچایا ہے عوام اس سے خوش نہیں مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عوام یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس کی جگہ مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کی حکومت آ جائے ویسے بھی نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن کی حکومت بننا نا ممکن سی بات ہے اور دوسری طرف سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے عوام کا جو برا حال کر رکھا ہے، اسے دیکھ کر عوام کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں چہ جائیکہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے لگ کے کسی تحریک کا حصہ بن جائیں گے۔

اپوزیشن کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ وہ ابھی تک خود کو عوام کے ساتھ نہیں جوڑ سکی۔ اس کے سارے مطالبے صرف اپنے آپ کوبچانے کے لئے ہیں وہ حکومت کے اس لئے خلاف ہے کہ بقول اس کے نیب کے ذریعے اپوزیشن کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسے مہنگائی نظر آتی ہے اور نہ بری گورننس، وہ چینی اور آٹے کا ہلکے پھلکے انداز میں ذکر ضرور کرتی ہے مگر زیادہ تر اس کی تان انتقامی کارروائیوں پر ہی ٹوٹتی ہے، نیب قوانین میں تبدیلی کے لئے بھی وہ صرف ایسی تبدیلیاں چاہتی ہے جن سے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف تمام کیسز ختم ہو جائیں، اسے ملک سے کرپشن ختم کرنے اور عوام کو لوٹا گیا مال واپس دلانے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی سکینڈل میں اپوزیشن کے اکثر رہنماؤں کے نام ہیں اور پھر چینی مہنگی ہونے سے اربوں روپے کا فائدہ بھی انہی کو ہو رہا ہے۔ اپنے پیروں پر کلہاڑی کون مارتا ہے۔ سو ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ اپوزیشن شہباز شریف یا بلاول بھٹو کی قیادت میں مہنگائی کے خلاف تحریک چلائے، مظاہرہ کرے یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں، ان کا مسئلہ صرف سیاسی طور پر خود کو زندہ رکھنا ہے اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو گرانے کا شوشہ چھوڑ دیا جائے۔ سو آج کل یہ شوشہ پوری شد و مد سے چھوڑا جا رہا ہے، حالانکہ یہ وہ غبارہ ہے جس کی ہوا اڑنے سے پہلے ہی نکل چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -