افغان ٹرانزٹ ٹریڈ براستہ گوادر

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ براستہ گوادر
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ براستہ گوادر

  

چار روز پہلے پاکستان کی گہرے پانی کی بندرگاہ گوادر پر ایک بحری تجارتی جہاز لنگر انداز ہوا۔ یہ متحدہ عرب امارات کا جہاز تھا جس میں افغانستان کے لئے مختلف نوع کا سامان(کارگو) لدا ہوا تھا۔ اس کی آخری منزل کابل تھی اور اسے براستہ چمن یا طورخم ٹرکوں کے ذریعے وہاں لے جایا جانا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا شپ تھا جس سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز ہو گیا ہے…… الحمد للہ……

اس شپ پر لدے ہوئے کنٹینر جس راستے سے افغانستان جائیں گے وہ سی پیک کا ایک مغربی روٹ ہے جو قبل ازیں مکمل ہو چکا ہے۔ یہ روٹ پاک ایران سرحد کے متوازی چلتا ہوا افغانستان جائے گا۔ یہ روٹ کراچی تا طورخم روائتی اور پرانے روٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر، مختصر اور کشادہ روٹ ہے جس میں وقت کی بچت ہو گی اور پاکستان کو ٹرانزٹ سہولیات دینے کے عوض اربوں ڈالر کا منافع بھی ہوگا۔ امارات کے اس شپ کے جلو میں درجنوں دوسرے شپ قطار اندر قطار آف لوڈ ہونے کے لئے چلے آ رہے ہیں۔ اس سے کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں پر لوڈ اتارنے کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ نہ صرف امارات بلکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ممالک اس سٹرٹیجک اہمیت کی بندرگاہ اور سی پیک کے راستوں سے مستفید ہوں گے۔

کراچی سے گوادر کا ساحلی علاقہ 600کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ بلوچستان سے شروع ہونے والے سی پیک کے یہ زمینی روٹ مستقبل قریب میں چین کو خنجراب کی راہ پاکستان میں داخل ہو کر بحیرۂ عرب اور بحرہند تک رسائی دیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے چین کے لئے جو تیل آج کل آ رہا ہے وہ سارے کے سارے بحرہند کو عبور کرکے آبنائے ملاکا سے ہوتا ہوا پہلے جنوبی چین کے سمندر میں جاتا ہے اور پھر وہاں سے شنگھائی اور بیجنگ میں آف لوڈکیا جاتا ہے۔ یہ ایک طویل راستہ ہے۔ اس میں آسانیاں بھی ہیں اور مشکلات بھی ہیں۔ آسانی یہ ہے کہ آئل ٹینکر کا حجم بہت وسیع ہوتا ہے اور لاکھوں لٹر تیل ایک کنٹینر میں سما جاتا ہے اور مشکل یہ کہ اگر انڈیا آنے والے کل میں آبنائے ملاکا بند کر دیتا ہے تو یہ بحری راستہ بند ہو جاتا ہے۔ انڈیا کے لئے آبنائے ملاکا بلاک کرنا بہت آسان ہے۔ اس آبنائے کی چوڑائی زیادہ نہیں۔ اس کے داخلی راستے میں صرف دو تین بحری جہاز کھڑے کرکے اس کو بلاک کیا جا سکتا ہے۔

اس بندش کی صورت میں چین کے لئے دو متبادل راستے ہوں گے…… ایک چا بہار سے افغانستان اور پھر افغانستان سے براستہ پاکستان خنجراب تک اور دوسرا گوادر سے سیدھا خنجراب تک۔ جیسا کہ ہم خبروں میں پڑھ چکے ہیں، چین آنے والے 25برسوں میں ایران کو 400بلین ڈالرز قرض دے گا اور اس رقم سے چا بہار کو ڈویلپ کرنے کے ساتھ ساتھ چا بہار تا زاہدان اور زاہدان سے جنوبی افغانستان (زرنج) تک ریل کی پٹڑی بچھائے گا اور ایران کے اندر ریل اینڈ روڈ کا اسی طرح کا انفراسٹرکچر بھی کھڑا کرے گا جیسا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کی شکل میں ہے۔ لیکن سی پیک تو صرف 64بلین دالر کا منصوبہ تھا(اور ہے) جبکہ ایرانی منصوبہ اس سے چھ سات گنا بڑا ہے۔ تاہم آنے والی ربع صدی (25برس) میں چین کی تیل کی ضروریات بھی بہت بڑھ جائیں گی اور ممکن ہے چین اپنی یہ ضروریات صرف ایران کے تیل سے ہی پورے کرلے۔

تاہم گوادر کی بندرگاہ، چابہار کے مقابلے میں بہت بڑی اور گہری بندرگاہ ہے اور اس میں بڑے بڑے شپ لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ بندرگاہ افریقہ کے سینگ (Horn of Africa) پر واقع چینی بحری مستقر جیبوتی سے نزدیک تر ہے اور مشرقی افریقہ کے تمام ممالک سے اس کا رابطہ، چا بہار کی نسبت آسان ہے اس لئے یہ بندرگاہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو (BRI) کے تصور کو عملی شکل دینے میں جو کردار ادا کر سکتی ہے وہ چابہار کی بندرگاہ نہیں کر سکتی۔ ہاں اگر گوادر اور چابہار کو آپس میں زمینی راستے سے ملا دیا جائے تو اس سے اس خطے کی مواصلاتی صورتِ حال میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

گوادر کا آپریشنل کنٹرول فی الحال چین کے ہاتھ میں ہے۔اس لئے اس بندرگاہ کے راستے جو کارگو افغانستان جائے گا یا مستقبل قریب میں وسط ایشیائی ریاستوں (تاجکستان، ازبکستان، کرغستان، ترکمانستان، قازقستان وغیرہ) کا کارگو جب اس گوادر کو استعمال کرے گا تو اس ٹرانزٹ ٹریڈ کا زیادہ مالی فائدہ چین کو ہو گا۔ لیکن پاکستان کو بھی اتنا فائدہ ضرور ہو گا کہ اگر ’جل تھل‘ نہ بھی ہوئے تو ’موسلا دھار بارشیں‘ ضرور ہوں گی۔

پاکستان نے حال ہی میں محمد صادق صاحب کو افغانستان میں پاکستان کا خصوصی سفیر مقرر کیا تھا اور اس کے بعد جنرل عاصم سلیم باجوہ (ر) کو سی پیک کا چیئرمین بھی مقرر کیا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب سے ان حضرات کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے، سی پیک کے کئی پراجیکٹ تیز گام کی رفتار سے چل پڑے ہیں۔خدا کرے ایم ایل ون بھی جلد اسی راہ چل نکلے۔ حویلیاں سے تھاکوٹ موٹروے حال ہی میں مکمل ہوئی ہے اور اسے عام ٹریفک کے لئے جلد ہی کھول دیا جائے گا۔ اگر کبھی آپ نے حویلیاں سے براستہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، شنکیاری تھاکوٹ تک سفر کیا ہو تو اب اسی سفر پر جاتے ہوئے آپ کو ایک نئی دنیا ملے گی۔ پہلے یہ یک طرفہ اور تنگ سی روڈ تھی۔ مانسہرہ سے تھاکوٹ کا راستہ اگرچہ تنگ راستہ تھا لیکن یہ علاقہ اتنا خوبصورت ہے کہ ہم جب بھی اس سفر پر جاتے، راستے میں ”جبراً“ کئی بار رک کر تادیر تک فطرت کا نظارا کرنا پڑتا۔ ان دنوں تھاکوٹ برج پر قراقرم ہائی وے کا اختتام بھی ہوتا ہے۔ یہ پل دریائے سندھ پر ایک پُرفضا منظر پیش کرتا ہے۔ اس دریا کے دوسرے کنارے پر بشام اور پٹن کے دو ایسے قصبے واقع ہیں جو چینی سامان کا باڑا کہے جاتے تھے۔ اس دور کے خریدے ہوئے چینی برتنوں کے سیٹ اور الیکٹرانک آلات وغیرہ آج بھی میرے زیرِ استعمال ہیں۔ اب تو کئی برسوں سے وہاں جانا نہیں ہو سکا۔ ایبٹ آباد میں دو بار میری پوسٹنگ ہوئی اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میرا ایک داماد PMA میں بٹالین کمانڈر تھا۔ چار برس پہلے وہاں جانا ہوا تو وہاں سے براستہ نتھیا گلی وغیرہ مری گئے اور براستہ مانسہرہ، بشام اور پٹن وغیرہ کی سیر بھی کی۔ کے پی کے یہ علاقے بشمول سوات، دیر، باجوڑ اور چترال جنتِ نظارہ ہیں۔ حویلیاں کا شہر اب ایک بڑی ڈرائی پورٹ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ وہاں تک ریل بھی جاتی ہے جس کو دو طرفہ اور مزید ڈویلپ کیا جا سکتا ہے (بلکہ سی پیک پراجیکٹس کے تناظرمیں اس ریل لنک کی ڈویلپ منٹ حکومت کی اولین ترجیح بھی ہو گی)

برسبیلِ تذکرہ مجھے خیال آ رہا ہے کہ کراچی میں جب بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے یا بارشوں کا موسم آتا ہے تو ملک کے وہ دوچار ٹی وی چینل جن کی ریٹنگ اچھی ہوتی ہے وہ سارا سارا دن بارشوں اور بجلی کی بندشوں کو دکھاتے رہتے ہیں۔ شام سے رات گئے تک تمام ٹاک شوز بھی انہی موضوعات پر ہوتے ہیں اور چونکہ اس موضوع کی وڈیو فوٹیج ان کے پاس ہوتی ہے اس لئے ٹاک شوز کا غالب حصہ بار بار انہی وڈیوز کو سکرین پر دکھانے اور ناظرین کا وقت ضائع کرنے پر صرف کر دیا جاتا ہے۔ پھر صوبہ سندھ کے وزیر اطلاعات (ناصر حسین صاحب)کو سکرین پر بلایا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بجلی کیوں چلی گئی اور بارشی پانی کے ریلے گھروں میں کیوں گھس گئے؟ وزیر موصوف فرماتے ہیں کہ یہ قصور ہمارا نہیں فلاں وفاقی محکمے کا ہے۔ فلاں محکمہ بجلی گھر کو تیل فراہم نہیں کرتا اور فلاں محکمہ نالوں کی صفائی نہیں کرتا۔ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا کراچی شہر اس لئے مبتلائے عذاب ہے کہ وہاں کے رہنے والوں نے پی پی پی کو گزشتہ الیکشنوں میں ووٹ نہیں دیا تو فرماتے ہیں جس پارٹی کو ووٹ دیا تھا اب اس کو بلائیں کہ وہ آکر بجلی بحال کرے اور بارشوں کے سیلاب روکے!…… وزیرصاحب اس کڑوے سچ کو نگل نہیں سکتے اور آئیں بائیں شائیں کرکے اپنا وقت پورا کر لیتے ہیں …… چلو چھٹی ہوئی…… چینل والے بھی خوش، ناظرین بھی خوش اور صوبائی حکومت بھی خوش!!

لیکن میرا اگلا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ٹی وی چینل گوادر جا کر متحدہ عرب امارات کی طرف سے آنے والے تجارتی شپ کی تصویر کشی بھی کرتا ہے؟…… کیا کسی بندرگاہی اتھارٹی کا انٹرویو نشر کیا جاتا ہے؟…… کیا پاکستان کی آئندہ خوشحالی کے امکانات پر کوئی ٹاک شو منعقد کیا جاتا ہے؟…… کیا حکومت ٹی وی چینلوں کو ایسا کرنے سے روکتی ہے؟…… کیا پاک بحریہ نے کسی ٹیلی ویژن کے نمائندے کو بندرگاہی ماحول میں داخل ہونے پر پابندی لگائی ہے؟…… کیا اس موضوع پر آئی ایس پی آر سے کسی چینل نے رابطہ کیا ہے؟…… کیا بندرگاہی تنصیبات کو دکھانے اور عوام کو باخبر کرنے پر کوئی حکومتی پابندی ہے؟…… اگر ہے تو اس پر ٹاک شوز کیوں نہیں کئے جاتے؟…… کیا جس طرح کراچی میں ایک ایک ٹی وی چینل کے چار چار رپورٹرز مقیم ہیں کیا گوادر میں کوئی ایک رپورٹر بھی ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا ٹی وی چینل کی انتظامیہ کراچی سے گوادر جانے اور وہاں اپنی ٹی وی ٹیم کو کسی ہوٹل میں ٹھہرانے کے ”خرچے“ سے خائف ہے؟…… آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسے موضوع کو آن ائر کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے جو پاکستان کی اقتصادی حالت تبدیل کرنے میں بے پناہ مثبت امکانات کا حامل ہے؟

اگر یہ پرائیویٹ چینل ہر 15،20 منٹ کے بعد سونے کا بھاؤ بتانے کا فریضہ انجام دیتے یا صرف کراچی کی بارشوں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کو دکھانے ہی پر سارا سارا دن صرف کر دیتے ہیں تو ناظرین کو چاہیے کہ اپنا وقت ضائع نہ کیا کریں۔ اگر ہم پاکستانیوں نے پاکستان کے مستقبل کو روشن دیکھنا ہے تو پھر بارشوں، بکروں، بجلی کی بندشوں اور بہتے گندے نالوں کو ابلنے کے گردابوں سے باہر نکلیں اور آنے والے اس خو ش آئند دور کی کوئی تصویر کشی بھی کریں جو زندہ قوموں کا شعار ہے…… مہنگائی، کرپشن، تنگ دستی، آفاتِ ارضی و سماوی کے شکوؤں سے آگے نکل کر سوچیں کہ:

آسمانِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہو

آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک؟

مزید :

رائے -کالم -