سمارٹ لاک ڈاون،سمارٹ وزیر اعلیٰ

سمارٹ لاک ڈاون،سمارٹ وزیر اعلیٰ
 سمارٹ لاک ڈاون،سمارٹ وزیر اعلیٰ

  

ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے پنجاب دیگر صوبوں کیلئے ہمیشہ توجہ کا مرکز اور قابل تقلید رہا ہے،طرز حکمرانی کے حوالے سے تو پنجاب ہمیشہ مشعل راہ رہا ہے۔پنجاب کی سیاست ہمیشہ قومی سیاسی جماعتوں اور پرانے سیاسی خانوادوں کی محتاج رہی،جس کے باعث پنجاب کی سیاست پر ہمیشہ قومی سیاست کاغلبہ رہا یہ ایک اچھی بات بھی ہے اسی وجہ سے پنجاب ہمیشہ سیاست کے قومی دھارے میں رہا،مگر اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ عام شہری ملکی اور صوبائی سیاست سے الگ تھلگ رہا،یہ پہلا موقع ہے کہ عثمان بزدار کی شکل میں پنجاب کو مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا وزیر اعلیٰ ملا ہے،جو مافیاز اور کاٹلز،صاحبان اختیار و اقتدار کے بجائے عام شہریوں کے بارے میں سوچتا اور ان کی بہتری بھلائی کیلئے کوشاں ہے،اس سے پہلے پنجاب کو ملک معراج خالد اور حنیف رامے جیسے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ بھی ملے مگر وہ عام شہری کو اس لئے ریلیف نہ دے سکے کہ مرکز میں ذوالفقار بھٹو وزیر اعظم تھے جو کسی بھی وزیر اعلیٰ،وزیر کو با اختیار بنانا اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے مگر عثمان بزدار کو وزیراعظم عمران خان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور صوبہ کی خدمت کیلئے فری ہینڈ ملا ہوا ہے۔

پنجاب کی تاریخ میں نوازشریف،منظور وٹو،پرویز الٰہی اور شہباز شریف کو بھی یاد رکھا جائے گا،مگر ان کے یاد رکھنے کی وجوہات متضاد ہیں۔نواز شریف پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دور میں پیپلز پارٹی کے اقتدار کو گرانے کی کوششوں میں مصروف رہے،اس میں کامیابی کے بعد اپنے اقتدار کی مضبوطی اور استحکام کیلئے میاں غلام حیدر وائیں کو وزیر اعلیٰ بنایا،مگر وہ نام کے وزیر اعلیٰ تھے اصل اختیار شہباز شریف کے پاس رہا ان ہی کا حکم چلتا،اہم فیصلے بھی وہی کرتے،مرحوم وائیں کا تعلق بھی مڈل کلاس سے تھا،مگر وہ مڈل کلاس کیلئے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہ دے پائے،منظور وٹو نے صرف اٹھارہ ارکان کی حمائت سے اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی،وہ بھی مڈل کلاس سے تھے اور مڈل کلاس کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر مضبوط اور بھاری اپوزیشن ان کی راہ میں روڑے اٹکاتی رہی،اس سے پہلے کہ وہ کچھ بڑا کام کر پاتے عدم اعتماد تحریک کا شکار ہو گئے،تا ہم مختصر عرصے میں وہ عام شہری کیلئے بہت کچھ کر گئے،سب سے طویل عرصہ شہباز شریف اس عہدے پر براجمان رہے،مگر ساری توجہ تصاویر بنوانے اور اخبارات میں خبریں شائع کرانے پر مرکوز رہی،ہر سانحہ کا نوٹس لیتے اور اپنے طور پر داد رسی کیلئے پہنچتے مگر یہ داد رسی اخبارات تک محدود رہتی،وہ بھی بھائی نواز شریف کے کہنے پر ہی سیاست اور اقدامات کرتے رہے،چودھری پرویز الٰہی کا دور اس حوالے سے ناقابل فراموش ہے،یہ واحد وزیر اعلیٰ تھے جن کے پرانے سیاسی کھلاڑیوں،عام شہریوں،سرکاری مشینری سے براہ ہ راست تعلقات تھے،جس کی وجہ سے وہ اپنے دور میں ہر طبقہ زندگی سے متعلقہ لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہے،اور بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی پرویز الٰہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کیلئے کچھ نہ کچھ مستقل بنیاد پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،چونکہ ان کا اپنا تعلق متوسط طبقہ سے ہے اس لئے وہ اس طبقہ کی مشکلات اور مسائل سے بھرپور آگاہی رکھتے ہیں،اسی وجہ سے ملک کی ایلیٹ کلاس اور حکومتیں تبدیل کرنے کے ماہرین ان کیخلاف پہلے دن سے سازشوں میں مصروف ہیں،اور ان کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے کیساتھ آئے روز ان کی تبدیلی کی افواہ چھوڑ دیتے ہیں،عثمان بزدار کی خوبی ہے کہ وہ میگا منصوبوں کی بجائے چھوٹے اور طویل المدت منصوبوں کے بجائے قلیل المدت پراجیکٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں،جس کے نتیجے میں عام شہری کو ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے اگر چہ اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے کام منظر عام پر آنے میں وقت لگے گا۔بیوروکریسی کیساتھ ان کے تعلقات ابتدا میں کشیدہ ہی رہے اور اس کی وجہ سابق وزیر اعلیٰ کے حمائت یافتہ بیوروکریٹس تھے جو عثمان بزدار کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیتے تھے، وزیر اعلیٰ ایک قدم آگے بڑھاتے اور دو قدم پسپا ہونا پڑتا،لیکن اپنے عاجزانہ روئیے اور سرکاری افسروں کو عزت و وقار دینے کی خوبی کے باعث سرکاری مشینری بھی ان کی تابع ہوتی جا رہی ہے،چھوٹے سرکاری ملازمین کیلئے ان کے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ عام شہری اور چھوٹے ملازمین کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

کورونا کے خاتمہ کیلئے وزیر اعظم کے وڑن پر عمل درآمد کرتے ہوئے پنجاب میں نمایاں کامیابی حاصل کی گئی،دنیا نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے طریقہ کار کو سراہا،تو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے نتیجہ خیز اقدامات سے نہ صرف کورونا سے ہلاکتوں بلکہ متاثرین کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی،ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد بھی قابل تعریف حد تک کم ہوئی،صوبہ بھر میں ٹیسٹوں کا معیار،رفتار اور تعداد خوش کن حد تک بڑھائی گئی،ایک وقت تھا کہ مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد پنجاب میں دیگر صوبوں کی نسبت بہت زیادہ تھی،مگر اب پنجاب حکومت کی کوششوں اور وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی کے بعد پنجاب میں مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے،بد قسمتی سے اپوزیشن نے کورونا کے مسئلہ کو بھی سیاسی بناتے ہوئے ڈیڑھ اینت کی مسجد بناتے ہوئے دیگر صوبوں سے مقابلہ کی فضاء پیدا کر دی،اپوزیشن نے پولیو قطرے پلانے اور ڈینگی مخالف مہم بارے بھی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا مگر عثمان بزدار سیاست سے بالا تر ہو کر سمارٹ لاک ڈاون کے زریعے کورونا سے صوبے کو بچا رہے ہیں جو قابل تعریف ہے۔

عثمان بزدار نے کورونا لاک ڈاؤن،تھانوں اور شہر میں بارش کے بعد صفائی کا جائزہ لینے اور عوام سے براہ راست رابطہ کیلئے بغیر پروٹوکول شہر کے دورے کرنا بھی شروع کئے،لانگ شوز اور ہیٹ پہن کر کھڑے پانی میں چلتے ہوئے تصویریں بنوانے کے بجائے عثمان بزدار نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا،لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کا بھی خود معائینہ کیا،تھانوں میں حوالاتیوں سے ملے،ہسپتالوں میں زیر علاج کورونا مریضوں سے بھی ملاقات کر کے ان کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا،پناہ گاہوں میں سوئے غریب افراد سے ملاقات کی اور فٹ پاتھ پر سوئے ہووں کو پناہ گاہ بھجوایا،غیر تسلی بخش کارکردگی پر موقع پر ذمہ داروں کیخلاف کارراوئی کا حکم دیا،متعدد کو معطل کیا،اس کارکردگی سے ان کا امیج بھی بہتر ہوا اور حکمرانی کے انداز میں بھی بدلاؤ آیا،شہریوں کا حکومت پر اعتماد بڑھا اور عثمان بزدار ایک بہتر عوامی لیڈر اور سمارٹ وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آئے۔

مزید :

رائے -کالم -