رئیل اسٹیٹ اور ٹیکسٹائل میں انقلاب بر پا ہونے والا ہے، چاہے حکومت چلی جائے نیب قوانین پر اپوزیشن کو این آر او نہیں دے سکتے: شبلی فراز

رئیل اسٹیٹ اور ٹیکسٹائل میں انقلاب بر پا ہونے والا ہے، چاہے حکومت چلی جائے ...

  

لاہور(جاوید اقبال، شہزاد ملک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کسی طور بھی اپوزیشن کے ہاتھو ں بلیک میل نہیں ہو گی،ہم 35نکاتی ترامیم پر بات کر نے کو تیار ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ترامیم کے نام پر احتساب میں کوئی نرمی کردیں گے یا وہ حکومت کیساتھ مذاکرت کے پیچھے چھپ کر کرپشن کی سزا سے بچ جائیگا تو یہ اس کی خا م خیالی ہے۔اپوزیشن کونیب قوانین پراین آراو نہیں دے سکتے چاہے حکومت چلی جائے۔ حزب اختلاف تو ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پیش کردہ نکات کی بجائے ڈھیل اور ڈیل چاہتی ہے لیکن ہم قومی امور پر کسی طور بھی ذاتی مفادات کو ترجیح نہیں د ے سکتے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے روز نامہ پاکستان کے دورے کے موقع پر کیا۔ جہاں پر انہوں نے روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی، ایگزیکٹو ایڈیٹر عثمان مجیب شامی سے ملاقات بھی کی، اس موقع پر روز نامہ پاکستان کے گروپ ایڈیٹر کوآر ڈنیشن ایثار رانا اور جوائنٹ ایڈیٹر نعیم مصطفی بھی موجود تھے۔بعدازاں وفاقی وزیر شبلی فراز سے اے پی این ایس کے عہدایدروں کے ایک وفد جو کہ روز نامہ جرات تجارت کے چیف ایڈیٹر جمیل اطہر قاضی‘ ایدیٹر عرفان اطہر قاضی‘ روز نامہ آفتاب کے چیف ایڈیٹر ممتاز طاہر‘ ایڈیٹر محسن ممتاز پر مشتمل تھا،نے بھی ملاقات کی۔شبلی فراز کا کہنا تھا اپوزیشن احتجاج کا شو ق ضرور پورا کرے، مگر روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہے جب بھی ا حتساب کا فا ئنل راؤنڈ شروع ہونیوالا ہوتا ہے تو اپوزیشن کو اے پی سی یاد آ جاتی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ وہ نیب آرڈنینس پر اپنی من پسند ترامیم لانا چاہتے ہیں جب ان کی منشاء پوری نہیں ہو تی تووہ احتجاج کی کال دے دیتے ہیں مگر اب ایسا نہیں چلے گا عوام انہیں مسترد کر چکے ہے کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا وہ اے پی سی ضرور بلائیں مگر اس اے پی سی میں سارے اپوز یشن کے لیڈر قوم سے مشترکہ طور پر کرپشن کرنے پر معافی مانگیں کیونکہ قوم کو ان کا کیا ہوا ہی ابھی تک بھگتنا پڑرہا ہے ہم جب حکومت میں آئے تو ملک ڈیفالٹ کرنیوالا تھا مگر ہم نے وزیراعظم کی بہترین حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ اپوزیشن کو ایف اے ٹی ایف جو کہ ملکی مفاد کا بل ہے اس سے کوئی دلچسپی نہیں وہ اس بل کیساتھ نیب آرڈنینس میں ترمیم کا من پسند اپنا بل منسلک کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد خود کو بچانا ہے ان کو اس بات کا بھی کوئی احساس نہیں کہ ہم انٹرنیشنل سطح پر پہلے ہی گرے لسٹ میں شا مل ہیں اگر ہم نے یہ بل منظور نہ کیا تو پھر ہم خدانخواستہ بلیک لسٹ ممالک میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ہمارا مقابلہ اس وقت کئی اقسام کے مافیاز کیساتھ ہے مگر ہم ہر اس مافیا کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہے ہیں جو ملک و قوم کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہا ہے، وہ کون سی حکومت ہے جس نے اپنے کسی لیڈر کیخلاف ایکشن لیا، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی طور پر اپنے لوگوں کیخلاف سخت ایکشن لیکر ثابت کردیا کہ عمران خان محب وطن لیڈر ہیں جب انہیں ان کے اپنے لیڈر کیخلاف شکایت ملی تو انہوں نے باقاعدہ طور پر اس کی انکوائری کروائی جو بھی اس کے ذمہ دار ہوئے ان کیخلاف بھی کاروائی کروا ئی کی جب ہم ایسا کریں گے تو پھر ایکشن کا ری ایکشن بھی آئے گا جو قوم نے دیکھا کہ اس کا ری ایکشن بھی آیا۔یہ بات سچ ہے ہماری حکومت دو سال میں وہ کچھ نہیں کر سکی جس کی عوام کو توقع تھی لیکن ایسا بھی نہیں ہم نے ان دو سالوں میں کچھ نہیں کیا۔ہم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کا کاروبار اس قدر بڑھادیا ہے کہ اب ان کے پاس نیا آڈر لینے کا بھی کوئی ٹائم نہیں جبکہ ہم نے تعمیراتی شعبے کو بھی بہت بڑا ریلیف دیا ہے۔اٹھارہ اگست کو ہم اپنی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کی رپورٹ کو قوم کے سامنے لائیں گے جس میں قوم کو پتہ چلے گا کہ ہم نے مشکل حالات میں بھی بہت کچھ کردکھایا۔ اگر ہم اپنی دو سالہ بہترین کارکردگی کو ابھی تک قوم کے سامنے نہیں لا سکے تو اس کی بنیادی وجہ ماضی کا وہ گند تھا جسے ہم صاف کررہے ہیں اب تک زیادہ وقت اس گند کو ہی صاف کرتے ہوئے گذرا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وباء جیسی صورتحال جس نے دنیا کے طاقتور ترین ممالک کو بھی کمزور کیا اور ان کی معیشت بد حال کی،وہیں الحمداللہ وزیر اعظم عمران خان کی اس سے نمٹنے کی کامیاب حکمت عملی کو دنیا نے سراہا،اگر اس میں حکومت تھوڑی سی بھی کوتاہی کرتی تو ملک میں خانہ جنگی ہو سکتی تھی، مگر ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جس کا کریڈٹ بلا شبہ وزیراعظم کو جاتا ہے حالانکہ سندھ والوں نے ہمیں اس ایشو پر بھی تنقید کا نشانہ بنانے کی بڑی کوشش کی تھی۔ آج پاکستان میں کورونا وائرس کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا ہے اور زندگی معمول پر آ رہی ہے اس بڑے بحران سے بھی ہم نے احسن طریقے سے نمٹا ہے۔ آئندہ دنوں میں ملک کی ایکسپورٹ میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو گا، رئیل اسٹیٹ بزنس اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں انقلاب برپا ہو نے جارہا ہے حکومتی اقدامات کے ثمرات بہت جلد سامنے آ جائیں گے۔دریں اثنا اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کونیب قوانین پراین آراو نہیں دے سکتے چاہے حکومت چلی جائے۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ ہماری کارکردگی کے سب سے بہترین جج پاکستان کے عوام ہیں، تحریک انصاف کی حکومت کا فوکس عوام کے حقیقی مسائل پرہے، پاکستان تحریک انصاف کی ٹیم وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں متحد ہے، وزیراعظم کی قیادت میں نئے پاکستان میں صرف دیانتداری اورایمانداری کی سیاست ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نیا پاکستان آگے بڑھ رہا ہے جب کہ میرٹ کی حکمرانی تحریک انصاف کی حکومت کا طرہمتیازہے۔ شبلی فرازنے کہا کہ اپوزیشن کا بیانیہ پٹ چکا اورعوام کو پٹے ہوئے مہروں سے کوئی دلچسپی نہیں، سیاسی یتیم پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن کونیب قوانین پراین آراو نہیں دے سکتے چاہے حکومت چلی جائے اورتحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کوگرداب سے نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔

شبلی فراز

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -