قومی اسمبلی، شدید احتجاج کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2بل منظور، انسداد دہشت گردی اور اقوام متحدہ ترمیمی بل سینیٹ میں بھی پیش

        قومی اسمبلی، شدید احتجاج کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2بل منظور، ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے باوجود حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)سے متعلق2بلز منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔اپوزیشن کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر مسلسل احتجاج اور سپیکر ڈائس کے گھیراؤ کے باعث سپیکراسد قیصر کواجلاس کی کارروائی 3بار ملتوی کرنا پڑی۔ انسداد دہشت گردی اوراقوام متحدہ (سلامتی کونسل) ترمیمی بل پر مسلم لیگ(ن)کی تمام ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں،بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اورسپیکر ڈائس کا گھیرا ؤ جاری رکھا۔اپوزیشن ارکان نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی بولنے نہ دیا اور شاہ محمود قریشی 4بار سپیکر کی جانب سے مائیک ملنے کے باوجود بات نہ کرسکے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بولنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً ایوان سے چلے گئے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصرکی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ نے طویل تقریر کی، اب ضرورت ہے کہ ہمارا موقف بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس میں طے کیا گیا کہ قانون سازی کے حوالے سے بلز اس کمیٹی میں زیر غور لائے جائیں گے ساتھ ہی ایک غیر رسمی کمیٹی کے ذریعے اتفاق رائے کروانے کی کوشش کی گئی جس کے تحت سپیکر کی رہائش گاہ ہر 9 اراکین پر مشتمل غیر رسمی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔انہوں نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کا بل شق وار زیر غور لایا گیا، جس میں میں نے رائے دی تھی مطالبات نہیں کیے تھے لیکن وزیر خارجہ جو کہ سیاستدان ہیں اور سیاستدان اس قسم کی رنگ بازی کرتے ہیں جو ہم بھی کرتے ہیں، اس رنگ بازی میں انہوں نے تمام حدود پار کردیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات نوٹیفائیڈ کمیٹی کی سہولت کے لیے تھے جسے ریکارڈ پر لانے کی ضرورت نہیں تھی، ان مذاکرات میں 2بلز پر اتفاق رائے بھی ہوا لیکن اس کا انہوں نے ذکر نہیں کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کہ ہم نیب زدہ لوگ ہیں اور نیب قانون کو استعمال کر کے قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے 2 بلز پر اتفاق رائے ہوگیا تھا اور وہ غیر متنازع قرار پا چکے تھے لیکن قومی مفاد کے معاملات پر ہمیں اعتراض صرف یہ ہے کہ اس قسم کے تمام قوانین تاریخی طور پر ملک میں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں ہم اس روایت کا خاتمہ چاہتے ہیں کہ سیاسی حکومتیں ملکی اداروں اور قوانین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہم نے کہا کہ ہم اور پیپلز پارٹی اپنے دورِ حکومت میں ان قانون کو صحیح کرسکتے تھے، ہم ریلیف نہیں چاہتے، ہمیں جو بھگتنا تھا وہ بھگت چکے ہیں اور بھگت لیں گے، ہمیں کوئی خوف نہیں ہے لیکن یہ یہ اتنے عاقبت نا اندیش اور خوف کا شکار ہیں کہ ان کے اپنے صوبے(خیبرپختونخوا)میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے استعفی دے دیا۔رہنما مسلم لیگ نے کہا کہ یہ دوبارہ حکومت میں آئے احتساب کمیشن پر پابندی عائد کردی، ہم تو صرف ترامیم کی بات کررہے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے خیبرپختونخوا میں کوئی بے ایمان نہیں ہے، وہ جنت کا ٹکڑا ہے سارے فرشتے وہاں پر رہتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ایجنڈا بدعنوانی کے خلاف ہے تو ان کی صفوں میں ایسے بڑے بڑے مہا کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں جس کی مثال پاکستان کی کسی حکومت کے دور میں نہیں ملتی، اپنے صوبے میں احتساب کمیشن ختم کردیا ہے اور تمام کیسز بشمول بی آر ٹی، مالم جبہ کیس، بلین ٹری سونامی اور فارن فنڈنگ کیس میں استثنیٰ ملا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے اوپر نیب لاگو نہیں ہوتا ہے نیب کی یکطرفہ کارروائیاں صرف اپوزیشن پر لاگو ہوتی ہیں۔تقریر کو جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 3راتیں قبل ہمیں رات کے اندھیرے میں نیب قانون کا مسودہ بھیجا گیا اس میں چیئرمین نیب اور دیگر عہدیداروں کی مدت ملازمین توسیع کی بات تھی، کل انہوں نے کہا کہ اس میں نہیں تھی حالانکہ اصل مسودے میں توسیع شامل تھی جسے دوسرے مسودے میں واپس لے لیا گیا، اس سے ان کی نیتیں معلوم ہوتی ہیں۔خواجہ آصف کے مطابق حکومتی اراکین نے کہا کہ ہم 15 سال کا عرصہ حذف کرنا چاہتے ہیں اس پر ہم نے بتادیا کہ چاہے کسی بھی وقت سے کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جو 15سال حذف کیے گئے اس وقت وزیر خارجہ ہمارے ساتھ تھے اگر ہمیں استثنیٰ ملتا ہے تو انہیں بھی ملتا ہے۔وزیر خارجہ کے گدی نشین ہونے کے تناظر میں رہنما مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ آمدن اور اثاثوں میں قبروں سے حاصل ہونے والی کمائی بھی شامل ہونی چاہیئے اگر میرے آمدن سے زائد اثاثے ہیں تو ان کے قبروں سے زائد اثاثے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آرٹی تبدیلی کا مقبرہ بن چکی ہے اس پر احتساب کیوں نہیں ہوتا، ریفرنس کیوں نہیں بنتا، کل ایک روز کے اندر شاہد خاقان عباسی ان کے بیٹے، شہباز شریف، سلمان شہباز، حمزہ شہباز پر ریفرنس بن گیا، ان پر بھی قبروں کا ریفرنس بنائیں، فارن فنڈنگ، مالم جبہ، بی آر ٹی کا ریفرنس بنائیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بات کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن اراکین نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ طے ہوا تھا کہ آج پہلے اپوزیشن ارکان کو بولنے کو اجازت دی جائے گی،ابھی راجہ پرویز اشرف،مولانا اسعد محمود اور شاہد خاقان عباسی بولیں گئے اس کے بعد وزیر خارجہ سب کا ایک بار ہی جواب دے دیں جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ چونکہ خواجہ آصف نے وزیر خارجہ کا نام لیا ہے اس لیے صرف انہیں وضاحت کرنے کی ا جازت دی جارہی ہے۔ایوان میں شور شرابے پر وزیر خارجہ نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے ذاتی وضاحت کے لیے5منٹ بولنے کی اجازت چاہیے، تاہم اپوزیشن اراکین کی جانب سے مسلسل شور کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں بات نہیں کرسکوں گا تو کوئی بات نہیں کرسکے گا، جب مراد سعید کھڑا ہوتا ہے تو سارے بھاگ جاتے ہیں۔تاہم ایوان میں اپوزیشن کا سخت ہنگامہ جاری رہا اور اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور وزیر خارجہ کو بات نہ کرنے دی،جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس 10منٹ کیلئے ملتوی کر دیا۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جوبات طے ہو جائے اس پر عملدرآمد کرنا چاہیے‘ سپیکر کی ذمہ داری ہے کہ کسی ممبر کے حقوق سلب نہ ہوں‘ تمام ممبران کے حقوق کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات کیا تھی اور کہاں تک پہنچ گئی، وزیر خارجہ نے کل ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی ہم نے خاموشی سے ان کی تقریر سنی۔ میں ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں کہ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کا جست یہ تھا کہ اپوزیشن کرپٹ ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب قانون تبدیل ہو جائے۔ وزیر خارجہ نے یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی حکومت میں بیٹھے لوگ ایماندار اپوزیشن میں بیٹھے لوگ کرپٹ ہیں۔ ہم کہتے ہیں احتساب ہر شخص کا ہونا چاہیے۔ وز یر خارجہ نے احتساب آرڈیننس ہمارے ہاتھ میں تھما دیا۔ ایف اے ٹی ایف قومی مسئلہ بن چکا ہے۔وزیر خارجہ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اپوزیشن کی ایف اے ٹی ایف میں کوئی دلچسپی نہیں، اپوزیشن کی دلچسپی صرف نیب قانون ہے۔ بہتان بازی اور الزام تراشی ہماری سیاست میں چلتا رہا ہے بدقسمتی سے یہ وطیرہ بن چکا ہے۔

و زیر خارجہ بتائیں کہ ایف اے ٹی ایف کا بل کس وقت کمیٹی میں آیا۔ 6 ماہ کا وقت گزر چکا ہے اس بل پر بات اس لئے نہیں ہوئی کہ حکومت نے ہر بار کہا کہ مشیر خزانہ دستیاب نہیں۔ 6 ماہ سے اس بل پر کارروائی نہیں ہوئی آج ہمیں طعنہ دیا جا رہا ہے، اس مشیر کا ملک سے کوئی لینا دینا نہیں،ملک ایف اے ٹی ایف میں رہے یا نہ رہے اس غیر منتخب شخص کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت ہو گیا آپ نے اپوزیشن کو 2سال مسلسل چور کہا، اگر یہ وطیرہ جاری رہتا ہے ایک ڈھنڈورار پیٹتے ہوئے کہ آپ ایماندار ہم کرپٹ مگر خدا کی قسم پاکستان کی عوام اور اعلیٰ ترین عدالت اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کے بارے میں لکھا کہ نااہل اور بونے لوگوں کومسلط کیا جاتا ہے،اگر حکومت کو اس فیصلے سے مسئلہ ہے تو سپریم کورٹ جا کر احتجاج کریں اور اس جملے کو جذف کروائیں۔ اعلیٰ عدالت نے کہا کہ نیب سیاسی پوائنٹ سکورننگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت جس راستے پر چل رہی ہے میں دیوار میں لکھا پڑھ رہا ہوں ان کی بولتی بند ہونے والی ہے۔ حکومت ہمیں جس بل سے گزارنا چاہتی ہے گزارے ہم تیار ہیں۔ حکومت بتائے اس نے اپوزیشن کو چور چور کہنے کے علاوہ عوام کی بہتری کیلئے کیا کیا ہے؟۔ حکومت کی گالیاں کیا 22 کروڑ عوام کو نوکریاں‘ آٹا‘ پٹرول دے رہی ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے والوہمیں 2 کروڑ کا گالیاں دیدو مگر 10 ہزار نوکریاں تو دے دو۔ حکومت کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں۔ انہوں نے سیاست کو گالی بنا دیا۔ حکومت کا کام تماشا لگانے کی بجائے عوام کو ڈلیور کرنا ہوتا ہے۔ اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے ایک بار پھر مائیک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیا تو اپوزیشن نے ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا۔اپوزیشن ارکان نے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور مولانا اسعد محمود کو بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا اس موقع پر حکومتی ارکان نے ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے۔سپیکر اسد قیصر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈکٹیٹ نہ کیا جائے میں رولز کے مطابق ایوان کی کارروائی چلاؤں گا۔دوسری طرف حکومتی ارکان نے بھی سپیکر ڈائش کا گھیراؤ کیا۔اپوزیشن کی جانب سے مسلسل احتجاج پر سپیکر نے ایک بار پھر اجلاس کی کارروائی10منٹ کیلئے ملتوی کردی۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پہلے ایجنڈے پر موجود قانون سازی کی جائے گی اسکے بعد میں سب کو بولنے کا موقع دؤں گا،اس موقع پر ایم ایم اے سمیت اپوزیشن ارکان نے ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا اور سپیکر ڈائس کا دوبارہ گھیراؤ کیا۔سابق وزیر اعظم شاہ خاقان عباسی بولنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً ایوان سے اٹھ کر چلے گئے،اپوزیشن کے احتجاج کے دوران انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020اوراقوام متحدہ (سلامتی کونسل)ایکٹ1948میں مزید ترمیم کرنے کا بل(سلامتی کونسل ترمیمی بل2020) کو کثرت رائے سے منظور کرلیا،بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کئے،بلوں پر مسلم لیگ(ن)کی تمام ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔اس دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کا گھیرا ؤ جاری رکھا۔۔ بلوں کی منظوری کے بعد سپیکر اسد قیصر نے تیسری بار اجلاس آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کیا۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی سپیکر نے ایک بار پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مائیک دیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا،جس پر ڈپٹی سپیکر نے وزیر مواصلات مراد سعید کو مائیک دیدیا۔وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ اگر شاہ محمود جواب دینا چاہتے ہیں تو سننے کی ہمت کیوں نہیں، حقائق یہ ہیں کہ پاکستان انکی وجہ سے گرے لسٹ میں گیا،پاکستان کو ان کی منی لانڈرنگ اور لوٹ کھسوٹ گرے لسٹ میں آیا، انہیں این آر او نہیں ملے گا، سارے کے سارے نیب زدہ ہیں،زرداری کے جے آئی ٹی کیس کو استثنیٰ نہیں دیں گے،جتنا مرضی شور کرلیں کسی کو بھی این آر او نہیں ملے،کسی کو بھی معاف نہیں کریں گے،انشاء اللہ احتساب ضرور ہوگا،اپوزیشن پارلیمنٹ کو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے،رمضان شوگر مل اور انکے باقی کیسز نہیں معاف کریں گے، ریمنڈڈیوس کو این آر او کس نے دیا؟ یہ امریکہ سے ڈومور کی پرچی لے کر آتے تھے،آج وزیراعظم کشمیر کے سفیر ہیں،،ہم پاکستان کے گرے سے وائٹ لسٹ میں لانیکی قانون سازی کر رہے ہیں، شوگر انکوائری میں عمران خان اور شاہ محمود کا نہیں زردای اور شریف خاندان کا نام ہے، ہم شوگر چوروں کو این آر او نہیں دیں گے، یہ کہتے ہیں ہم نے چوری کی لیکن این آر او دے دیں،بارشوں کیوجہ سے کراچی میں لوگوں کی اموات ہوئی، کراچی پانی میں ڈوب چکا ہے،ایف اے ٹی ایف کے قانون منظور کرلئے قوم نے ان کا چہرہ دیکھ لیا،عوام نے دیکھ لیا یہ اپنے احتساب سے بچنے کے لئے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو پھنسانے کی کوشش کی۔وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور سپیکر ڈائش کا گھیراؤ کیا۔مراد سعید کی تقریر کے بعدڈپٹی سپیکر نے ایم ایم اے کے مولنا اسعد محمود کو مائیک دیا اور حکومتی ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے۔جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں پنجاب میں اچانک لاک ڈاؤن پر حکومتی رکن راجہ ریاض اپنی ہی حکومت پر برس پڑے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے کراچی سے ارکان نے صوبائی دارالحکومت میں بارش کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ راجہ ریاض نے کہا کہ پنجاب میں اچانک لاک ڈاون کردیا گیاہے،تاجروں کو گرفتار کیا جارہا ہے،گرفتار تاجروں کو رہا کیا جائے،تاجروں سے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کیا جائے، لاک ڈاون کی وجہ سے تاجروں کو سخت مسائل کا سامنا ہے، وزیر داخلہ اس حوالے سے اقدامات کریں،ایم کیو ایم کے رکن اسامہ قادری نے کہاکہ مجھے آج کراچی کا نوحا پڑھنا ہے، زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے لیکن آپ بتائیں آپ نے کیا انتظام کیا، کراچی کی تین کروڑ عوام کے لیے تین کروڑ رکھے گئے، کراچی کے صنعت کاروں اور تاجروں سے گزارش کروں گا وہ ٹیکس دینے کی بجائے خود خرچ کریں،کراچی شہر نے اربوں کا ٹیکس دیا، جواب میں کراچی کو کیا ملا، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر مواصلات مراد سعید، پارلیمانی سیکرٹری توانائی خیال زمان، پارلیمانی سیکرٹری خارجہ عندلیب عباس و دیگر نے وقفہ سوالات میں ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہ کے الیکٹرک کا ٹیرف پاکستان کے نیشنل ٹیرف سے ساڑھے تین روپے کم ہے، اس ٹیرف کو درست کیا جائیگا، کراچی الیکٹرک نے گرڈ سسٹم پر انوسمنٹ نہیں کی، کے الیکٹرک کا ایل این جی پلانٹ اگلے سال آئیگا جس سے بہتری آئیگی، این ٹی ڈی سی کے تحت کل 23 ہزار 300 میگاواٹ بجلی ٹرانسمیشن لائن میں گئی جو تاریخ میں سب سے زیادہ ہے،گھوٹکی، لاڑکانہ، سانکھڑ میں پانچ مقامات پر ڈرلنگ ہو رہی ہے، اس سے کافی آئل و گیس نکلے گا، ایس ایس جی پی ایل 72 اور ایس این جی پی ایل 192ارب کا قرض دار ہے،حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں کوئی تبدیلی نہیں کی،ڈھائی لاکھ پاکستانی دو ماہ میں پاکستان واپس پہنچے،پاکستان میں چھ نئی ریفائنریز قائم ہونی والی ہیں جسمیں گوادر ریفائنری بھی شامل ہے، ان سب کی فزیبلٹی تیار کی جارہی ہے، گوادر ریفائنری میں سعودی عرب اور یو اے ای کے تعاون سے بن رہی ہے،او ایم سیز کے بڑے ٹینک کا آٹومیٹک ٹیلی میٹری ڈیٹا بنا نے پر کام کر رہے ہیں،کوڈ 19 سے بیرون ملک 1259 پاکستانی وفات پائے،مجموعی طور پر 986 پاکستانی افراد کی میتیں پاکستان منتقل ہو چکی ہیں،کووڈ 19 سے بیرون ملک وفات پانے والے 1134 افراد کی لاشیں مقامی طور پر دفنا دی گئی ہیں، اسلام آباد اور مری کے لوگوں کے لئے کوئی نیا ٹول پلازہ نہیں بنایا گیا۔

قومی اسمبلی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے قومی اسمبلی کے بعدفنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) سے متعلق دونوں بل سینیٹ میں بھی پیش کر دئیے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل(ترمیمی)بل 2020اور انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2020متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے۔بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی طرف سے یہ دونوں بل ایوان میں پیش کئے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آرڈیننس پیش کرنا غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے، اپوزیشن ارکان نے جو تجاویز دی ہیں ان کی تائید کرتا ہوں۔ چیئرمین نے کہا کہ یہ بل کمیٹی کو بھجوائے جائیں گے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ بین الاقوامی ضروریات پورا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ان بلوں کو پاکستان کے مفاد میں منظور کیا جائے،۔ چیئرمین نے دونوں بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ کمیٹی ان بلوں پر (آج)جمعرات کو اپنی رپورٹ ایوان میں دے گی۔ چیئرمین سینیٹ نے مشاہد حسین سید، کہدا بابر اور سینیٹر محسن عزیز کو بھی لاکمیٹی میں شریک ہونے کی اجازت دی۔دوسری طرف حکومت نے سینیٹ سے بل منظور کرانے کے لیے کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی سے منظور لیکن سینیٹ سے پاس نہ ہونے والے بل منظور کرائے جائیں گے۔قومی اسمبلی ایسے بل مشترکہ اجلاس میں بھیجنے کی تحاریک منظور کر چکی ہے اور بلوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2018، آئی سی ٹی معذور افراد کے حقوق سے متعلق بل 2020، سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل 2020 اور ایف پی ایس سی رولزکی توثیق بلز 2020 بھی مشترکہ اجلاس کو بھیجے گئے بلوں میں شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اسلام آباد سے باہر جانے والے اپنے ارکان کو بھی واپس بلا لیا ہے اورمشترکہ اجلاس میں بلوں پرووٹنگ کے دوران ارکان کوحاضری یقینی بنانیکی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے مشترکہ اجلاس سے بل منظور کرانے کی حکمت عملی طے کرلی ہے جب کہ وزیر اعظم عمران خان کی مشترکہ اجلاس میں شرکت کا امکان ہے۔دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر مشاورت کی۔ذرائع کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے سینیٹرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ کمیٹی ایف اے ٹی ایف سے متعلق سینیٹ میں زیر غور قوانین کا قومی مفاد میں جائزہ لے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اپنے ارکان کو اسلام آباد پہنچنے کے ہدایت کر دی اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ قیادت نے ارکان کو پیغام دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت یقینی بنائی جائے۔خیال رہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد حکومت اور اتحادیوں سے زیادہ ہے۔

مشترکہ اجلاس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی)سینیٹ میں حکومت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دینے سے متعلق آرڈیننس سمیت 6آرڈیننس پیش کر دیئے، جبکہ اپوزیشن نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص کے لئے آرڈیننس آیا وہ بھارتی جاسوس اور بھارتی دہشت گرد تھا اور ہے، عوام کو وزیر اعظم کا وہ دعوی یاد ہے جو انہوں نے کیا تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کلبھوشن کو پھانسی دیں گے، جبکہ وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی ریکوارمنٹس تمام دوسرے ممالک کے لیئے بھی ہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کی یہ حکومت یا پاکستان کی کوئی حکومت کوئی ایسا قانون پاس کرے جو بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (نظر ثانی اور دوبارہ غور)آرڈیننس 2020پیش کیا،وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(ترمیمی)آرڈیننس 2020پیش کیا، قائد ایوان سینیٹ شہزاد وسیم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی(ترمیمی) آرڈیننس 2020پیش کیا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کمپنیات(ترمیمی)آرڈیننس 2020، کمپنیات کی کارپوریٹ ازسرنو(ترمیمی)آرڈیننس 2020 اور کمپنیات (دوسرا ترمیمی)آرڈیننس 2020 ایوان میں پیش کئے، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان ایک عظیم ادارہ ہے اور آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ہے، کچھ دن پہلے میں سوچ رہا تھا کہ ہماری پارلیمان نے وہ تاریخی فیصلے کیئے جس سے قوم اور وفاق کو مضبوط کیا گیا،73کا آئین اس پارلیمان نے پاس کیا، ضیاء الحق اور مشرف کی آمریت کے خلاف سینیٹ کھڑی رہی، سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس نمبرچھ ( انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (نظر ثانی اور دوبارہ غور)آرڈیننس) جو پیش ہوا میں اس کے اوپر بحث میں نہیں جاؤں گا، جس شخص کے لئے یہ آرڈیننس آیا وہ بھارتی جاسوس اور بھارتی دہشت گرد تھا اور ہے اس کے لیئے آرڈیننس آتا ہے، سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ جو بل پاس کیئے گئے، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے کے اوپر پاکستان کے شہریوں کے آئینی حقوق اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیربرائے قانون فروغ نسیم نے کہا کہ رضا ربانی کی باتیں فیئر باتیں نہیں ہیں، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا فیصلہ ہمیں نہیں ماننا چاہئے؟ ایف اے ٹی ایف کی ریکوارمنٹس تمام دوسرے ممالک کے لیئے بھی ہیں،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے اور وہ ہماری ڈوریاں کھینچ رہا ہے، فروغ نسیم نے کہا کہ ہم نے وہی کیا جو ن لیگ کی حکومت نے اس وقت کیا، ہم یہ فیصلہ نہیں مانتے توبھارت ہمارے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد لے کر آتا، فروغ نسیم نے کہا کہ فیٹف کے بلوں میں تین ڈاکیومنٹس ہیں، آج دو قوانین ہیں گیارہ اور آنے ہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کی یہ حکومت یا پاکستان کی کوئی حکومت کوئی ایسا قانون پاس کرے جو بنیادی حقوق کے خلاف ہے، فروغ نسیم نے کہا کہ اس آرڈیننس اور دو آنے والے بلوں کی حمایت کریں، مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ قانون سازی کا مینڈیٹ صرف منتخب پارلیمان کے پاس ہے، کاش آرڈیننس نہ لاتے یہ چھ بل لاتے، یہ ایوان میں پیش کرتے، بدقسمتی سے صدر ہاؤس کو آرڈیننس جاری کرے کی فیکٹری بنادیا ہے، مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ایوان کے ہر ممبر کو پاکستان کے سارے عوام کو وزیر اعظم کا وہ دعوی یاد ہے جو انہوں نے کیا تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کلبھوشن کو پھانسی دیں گے، جس رسی سے پھانسی دینی تھی وہ رسی وزیر اعظم صاحب نے اب کس استعمال کے لیئے رکھی ہوئی ہے،،سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پارلیمان کا حق ہوتا ہے اہم قومی معاملہ یہاں ڈسکس کیا جائے، قوم کوبھی تقویت دیں، انسانی حقوق کے بل اسمبلی میں رکے ہوئے ہیں، پانی سر پرس گزر جاتا ہے، ایف اے ٹی ایف پر سب پریشان ہیں، کہا جارہا ہے عجلت میں بل پاس کر دیں، کسی کو اس حکومت کے این آر او کی ضرورت نہیں ہمیں آپ کے نیب قانون کی کوئی ضرورت نہیں، جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عمران خان کی جذباتی تقاریرہم سب کو یاد ہیں، اس حکومت کے دور میں ابھی نندن گرفتار ہوا، 24گھنٹے کے اندر اسے واپس جانے دیا گیا، آج اسی طرح کلبھوشن کے لیئے حکومت سہولیات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، بین الاقوامی عدالت اگر اتنی ہی اہم ہے تو یہ کیا بین الاقوامی عدالت کشمیر میں ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو نہیں دیکھتی، یہ بین الاقوامی عدالت ہمارے فلسطینی بھائیوں کو نہیں دیکھتی، آج وہی بین الاقوامی عدالت ہمیں درس دیتی ہے

سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -