مشیروں، معاونین خصوصی کی تقرریوں کیخلاف دائر درخواست کی بطور اعتراض سماعت

مشیروں، معاونین خصوصی کی تقرریوں کیخلاف دائر درخواست کی بطور اعتراض سماعت

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے وزیر اعظم عمران خان کے مشیروں اورمعاونین خصوصی کی تقرریوں کے خلاف دائر درخواست کی بطور اعتراض کیس سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نوجوان وکیل نے جو باتیں بتائی ہیں اس حساب سے وفاق کی پچ گیلی ہے، وفاق کی پچ پر گھاس بھی موجود ہے اور باری بھی باؤلرز کی ہے، چیف جسٹس نے عدالت میں موجود وفاقی حکومت کے وکیل کو مخاطب کرکے کہا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات قابل غور ہیں،آپ عید کے بعد مکمل تیاری کرکے آئیں،بظاہرپچ باؤلر زکے لئے فائدہ مند ہے،ندیم سرور ایڈووکیٹ کی اس درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیاتھا کہ مشیروں اور معاونین خصوصی کی تعیناتیوں کے نوٹیفکیشن درخواست کے ساتھ لگائے جائیں،چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کی تعیناتیوں کے نوٹیفیکیشن درخواست کے ساتھ لف کئے جائیں۔درخواست میں وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت 16مشیروں اور معاونین خصوصی کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ آرٹیکل 90کی ضمنی دفعہ 1 کے تحت وفاقی حکومت غیر منتخب افراد کو شامل کے نہیں چلائی جا سکتی، آئین کے آرٹیکل93کے تحت وزیراعظم کے5سے زیادہ مشیر مقررنہیں کئے جاسکتے،وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کر نے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے فرائض انجام دینے کے اہل نہیں ہیں، وزیر اعظم کے دہری شہریت کے حامل مشیران اورمعاونین خصوصی ریاست پاکستان کے لئے سکیورٹی رسک ہیں، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، امین اسلم، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر بابر اعوان،محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر، سید شہزاد قاسم، ڈاکٹر ظفر مرزا، معید یوسف،زلفی بخاری، ندیم بابر، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ندیم افضل چن، شہباز گل اور تانیہ ایس اردس کومشیر ان اورمعاونین خصوصی کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔

وفاق کی پچ

مزید :

صفحہ آخر -