لاپتہ افراد کی فہرست کا موازنہ مارے گئے دہشتگردوں سے کیا جائے،علی ظفر

    لاپتہ افراد کی فہرست کا موازنہ مارے گئے دہشتگردوں سے کیا جائے،علی ظفر

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدراورسابق وفاقی وزیرقانون بیرسٹر سید علی ظفر نے لاپتہ افراد کے حوالے سے کہاہے کہ یہ وقت ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے لاپتہ افراد کی فہرست کا موازنہ دہشت گرد حملوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں سے کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد راستہ ہے کہ جس کے ذریعے اس جھوٹے اور بے بنیاد بیانیہ کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر لاپتہ فرد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ فرد کی تعریف کو سمجھنے کے لئے ایک مناسب نقطہ آغاز جوڈیشل کمیشن کی لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ کا مطالعہ ہوگا،جو لاپتہ افراد کو چار درجوں میں تقسیم کرتی ہے،ایک ایسا شخص جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا ہو،کوئی فرد بلوچستان سے کسی دہشت گرد تنظیم کے جھانسے میں آیا ہو۔کسی کو اغواء کیا گیا ہواو ر قتل کردیا گیا اوریا کوئی ایسا شخص جو اوپر بیان کی گئی وجوہات نہ ہونے کے باوجود لاپتہ ہوگیا ہو،گزشتہ ماہ کراچی اسٹاک ایکس چینج پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق ایڈووکیٹ ظفر نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں وہ افراد ملوث تھے جو کہ لاپتہ تھے اور انہوں نے بلوچستان لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کرلی تھی،ان کے گیم پلان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم ایک تیر سے دو شکار کرتی ہے،ایک طرف تو یہ کسی شخص کو بطور دہشت گرد بھرتی کرتی ہے اور دوسری طرف اسے لاپتہ افراد کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے،تا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلایا جاسکے۔

لاپتہ افراد

مزید :

صفحہ آخر -