وزارت مذہبی امور میں بے ظابطگیوں کی شکایات،مزید7ملازم فارغ

وزارت مذہبی امور میں بے ظابطگیوں کی شکایات،مزید7ملازم فارغ

  

لاہور (ڈویلپمنٹ سیل) وفاقی وزیر مذہبی امور کے دفتر میں بڑھتی ہوئی بے ظابطگیوں کی شکایات پر پیر نور الحق نے نوٹس لے لیا۔ سپرنٹنڈنٹ حکمت اللہ کے تبادلے کے بعد اس کے 7ساتھیوں کو بھی اپنے دفتر سے فارغ کر دیا۔تبدیل کئے گئے تمام اہلکاروں کو حکمت اللہ اپنے ساتھ لائے تھے۔ 28جولائی 2020ء کو سیکشن آفیسر عزیز اللہ خان کی طرف سے جاری ہونے والے آفس آرڈر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے دفتر کے اسسٹنٹ ظفر اقبال گوندل، اسسٹنٹ طارق نعیم،سٹینوٹائپسٹ،محمد نواز،سٹینوٹائپسٹ کامران مبارک، ڈرائیور گل ڈراوش، دفتری حفیظ الحسن، ڈرئیور نائب قاصد شبیر علی کو فوری تبدیل کر کے وزارت مذہبی امور کے مختلف شعبوں میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، دلچسپ امر یہ ہے اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے وزارت مذہبی امورمیں ڈیپو ٹیشن پر آکرسپر نٹنڈنٹ کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کرنے والے حکمت اللہ گزشتہ 5سال سے وزارت مذہبی امور میں کرتا دھرتا قرار دئیے جاتے رہے ہیں۔ان کے خلاف مختلف شکایات پر تحقیقات ہوتی آرہی ہیں کبھی وہ سیکرٹری، کبھی ایڈیشنل سیکرٹری کا سہارالے کر تبادلہ رکواتے رہے ہیں اب 2سال سے وفاقی وزیر مذہبی امور میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ اب وفاقی وزیر مذہبی امور کے خلاف اشتہارات کے حوالے سے مبینہ الزمات کی خبروں کی اشاعت کے بعد وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری نے سخت نوٹس لیتے ہوئے سٹاف کی فوری تبدیلی کا حکم دیا جس کے بعد ایک ہفتہ میں 8اہلکاروں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مزید تبدیلیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہے۔

فارغ

مزید :

صفحہ آخر -