صوبے میں قیدیوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں،تاج محمدخان

  صوبے میں قیدیوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں،تاج محمدخان

  

چارسدہ (بیو رو رپورٹ) وزیرا علیٰ کے مشیر برائے جیل خانہ جات تاج محمد خان نے کہا ہے کہ صوبے میں قیدیوں کو ترقیافتہ ممالک کے طرز پر سہولیات دینے کے لئے کوشاں ہیں۔جدید جیلوں کی تعمیر سے نہ صرف قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی ہو جائے گی بلکہ اس جیلوں کی سیکورٹی میں بھی بہتری آئے گی۔یکم ستمبر سے قبل چارسدہ سب جیل قیدیوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں زیر تعمیر سب جیل کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ اس موقع پرا ٓئی جی جیل خانہ جات مسعود الرحمان،ڈپٹی کمشنر عدیل شاہ،جیل سپرٹنڈنٹ فلک شیر خان،ایکس سی این سی اینڈ ڈبلیو اللہ نواز سمیت دیگرا فراد موجود تھے جنہوں نے زیر تعمیر جیل کے مختلف حصوں کا دور ہ کیا اور جیل کے مختلف حصوں میں ضروری ترمیم کے لئے ہدایات جاری کیے۔میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات تاج محمد ترند کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت سب سے زیادہ توجہ انسانی حقو ق پر دے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں نئے جدید جیلوں کی تعمیر کے منصوبے زیر غور ہے جس کا بنیادی مقصد جیلوں میں موجود قیدیوں کو بین الاقوامی اور ترقیافتہ ممالک کے طرز پر سہولیات فراہم کرنا ہے۔جدید طرز میں تعمیر ہونے والے جیلوں سے نہ صرف قیدیوں کو ہر قسم کی بنیادی سہولیات میسر ہوگی بلکہ اس سے جیلوں میں سیکورٹی کے نظام میں بھی بہتری آئے گی۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں جیلوں کی تعمیر کے لئے وافر مقدارمیں فنڈ موجود ہے اور چارسدہ جیل کے تعمیر کے لئے واجب الادا تمام فنڈ ز بہت جلد فراہم کئے جائینگے تاکہ جیل کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ نہ رہے اور یکم ستمبر سے قبل جیل ہر قسم کی قیدیوں کے لئے کھول دیا جائے۔ اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ چارسدہ جیل کی تعمیر سے نہ صرف دیگر جیلوں پر رش کم ہوگا بلکہ یہاں کے قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں کو بھی ان سے ملاقات کے لئے آسانی ہو گی۔اس موقع پر آئی جیل جیل خانہ جات مسعود الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم قیدیوں سمیت جیل کے عملے کے سہولیات کے لئے بھی کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں 22جولائی کو وزیرعلیٰ نے پولیس کی ڈیوٹی اوقات کار تبدیل کرنے کی منظوری دی ہیں جب کہ جیل کے ہر گھارت میں پولیس اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -