عدالت کے ریمارکس کے بعد نیب کی قانونی حیثیت ختم ہوچکی: میاں افتخار

عدالت کے ریمارکس کے بعد نیب کی قانونی حیثیت ختم ہوچکی: میاں افتخار

  

نوشہرہ (رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا اور دیجیٹل پاکستان کی معاون تانیہ بی بی کے استعفوں کے بعد مزید 5وزراء اور مشیروں کے استعفے آنے والے ہیں استعفوں کا سلسلہ شروع ہو گیا عمران اتنے نااہل ہے کہ ان کو دو سال کے بعد پتہ چلا کہ میری کابینہ میں شامل وزراء اور مشیر کرپٹ اور دہری شہریت کے حامل ہیں موجودہ حکومت کیلئے اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں ان کی ناکام خارجہ، داخلہ پالیسیاں خود اپوزیشن کا کردار ادا کرہی ہے کراچی میں سیلاب پر سیاسی دوکانداری چمکانے کی بجائے وفاق سند ھ حکومت کی مدد کریں سیلاب قدرتی آفت ہے جو ملک کے کسی بھی صوبے میں کسی بھی وقت آسکتا ہیکرونا وائرس سے ملک بھر میں شہید ہونے والے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکڈیکس، پولیس عوام اور صحافی برادری سمیت ہر مکاتب فکر کی درجات بلندی کیلئے دعا گوں ہوں خصوصاً ضلع نوشہرہ میں شہید ہونے والے سیاسی ، سماجی کارکن اور ڈاکٹرز کی شہادت پر تعزیت کیلئے حاضر نہ ہو سکا تھا جس کیلئے میں عوام سے اور پارٹی قیادت سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں خود بھی کورونا وائرس سے متاثر تھا جبکہ میرا بھائی اسی کورونا وائرس سے جام شہادت نوش کر گیا تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ذوالفقار بھٹو، زرعلی خان، میاں وجاہت کاکا خیل بھی موجود تھے میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ میری یہ پریس کانفرنس کو کورونا وائرس سے شہید ہونے والوں کے لواحقین اپنے ساتھ تعزیت سمجھیں انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکمران نیب کو اپنے سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرکے سیاسی مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں البتہ سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعدنیب کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے اور نیب نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 30دنوں کے اندر ہم کسی کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتے اس لئے نیب کا خاتمہ ہو نا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے لیکر ان کی پوری کابینہ اور مشیر کرپٹ ہیں سب کے سب استعفے دیں عید قرباں کے بعد اپوزیشن جماعتیں آل پارٹی کانفرنس بلانے پر متفق ہیں اور اگر ان حالات میں بھی اپوزیشن نہ اٹھی تو اس کرپٹ، نااہل اور سلیکٹیڈ حکمرانوں کے خلاف عوام ضرور اٹھ کھڑے ہوں گے میاں افتخارحسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکمران اگر کرتا راپور سرحد کھول سکتے ہیں تو طورخم اور چمن بارڈر کیوں اور کونسے منطق پر بند کیا ہوا ہے افغانستان کا امن پاکستان کیلئے اور پاکستان کا امن افغانستان کیلئے لازمی ہے اور خطے میں امن کی بحالی کیلئے جو بھی کردار ادا کرتا ہے ان کی یہ کوشش خوش آئند ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جو بھی کوشش کرتا ہے وہ اس خطے کے مفاد میں ہے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ابھی ختم نہیں ہوئی، بھتہ خوری کا سلسلہ نہ تھما جو کہ انتہائی تشویشناک ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران صرف سوشل میڈیا تک محدود ہیں ان کی کارکردگی صفر ہے کیونکہ مہنگائی بیروزگاری عروج پر ہے اور وزیر اس کو سابق حکومتوں کا خمیازہ قرار دے رہے ہیں تو کیا ان کی کابینہ میں بیٹھے ہوئے وزراء اور مشیر سابقہ حکومتوں کا حصہ نہ تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -