بارڈر بند کرنے کا مقصد کیا تھا ؟چمن بارڈرپرناخوشگوارواقعہ پیش آنے پر صوبائی وزیر داخلہ  ضیا اللہ لانگو بھی میدان میں آگئے

بارڈر بند کرنے کا مقصد کیا تھا ؟چمن بارڈرپرناخوشگوارواقعہ پیش آنے پر صوبائی ...
بارڈر بند کرنے کا مقصد کیا تھا ؟چمن بارڈرپرناخوشگوارواقعہ پیش آنے پر صوبائی وزیر داخلہ  ضیا اللہ لانگو بھی میدان میں آگئے

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ چمن بارڈرپرناخوشگوارواقعہ پیش آیا ، بارڈربند کرنے کا مقصد دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکنا تھا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگونے کہا کہ سرحد بند ہونے سے متاثرہ افراد کو لیویز،پولیس اور ایف سی میں بھرتی کی پیشکش کی، متاثرین کو نوکری ملنے تک احساس پروگرام کے ذریعے مالی مدد کی بھی پیشکش کی،مقامی لوگ بیروزگارہونے کی وجہ سے سراپا احتجاج تھے۔ وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ریڈزون میں داخل ہونے کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، مظاہرین نے قرنطینہ سینٹر اورنادرا دفتر میں توڑ پھوڑ کی ہے۔

یاد رہے کہ چمن میں پاک افغان بارڈرباب دوستی پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے ہیں۔لیویز حکام کے مطابق مظاہرین نے قرنطینہ سینٹرکوجلادیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار کے قریب خیمے جل کر خاکستر ہوگئے ہیں۔ایم ایس ڈاکٹرعبدالمالک اچکزئی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہے۔ ان کے مطابق باب دوستی تصادم کے 20 زخمی ڈی ایچ کیوہسپتال لائے گئے ہیں۔افغانستان کی درخواست پر طورخم اور چمن کے بارڈر ٹرمینل کھول دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ آل پارٹیز تاجراتحاد نے باب دوستی کو کھولنے کے لیے دو ماہ سے دھرنا دیا ہوا ہے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -