پنجاب کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی پہلوٹھی فتح

پنجاب کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی پہلوٹھی فتح

  

پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی38 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار اپنے مد ِمقابل مسلم لیگ(ن) کے طارق سبحانی کو ہرانے میں کامیاب ہو گئے،اس نشست پر وریو خاندان چالیس سال سے جیتتا آ رہا تھا۔ یہ نشست خوش اختر سبحانی کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ تحریک انصاف کے لئے اس کی اہمیت اِس لئے بھی ہے کہ عام انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ تحریک انصاف پنجاب کا کوئی ضمنی انتخاب جیت سکی ہے۔پنجاب اسمبلی میں اِس وقت جو پارٹی پوزیشن ہے اس میں ایک نشست کی ہارجیت سے جوہری طور پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا،البتہ اس جیت کی نفسیاتی اہمیت بہت زیادہ ہے،پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ق)کی مخلوط حکومت ہے،جیتنے والے امیدوار احسن سلیم بریار کے والد مسلم لیگ(ق) کے عہدیدار ہیں۔ تحریک انصاف کے وزراء پنجاب کے ضمنی انتخاب میں پہلوٹھی جیت پر بجا طور پر شاداں و فرحاں ہیں اور اسے مسلم لیگ(ن) کیبیانیے کی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاست میں کامیابیاں اور ناکامیاں مستقل نہیں ہوتیں، سیاسی حالات کا رُخ بدلتا رہتا ہے اور تبدیلی کی ہوائیں بھی ہمہ وقت چلتی رہتی ہیں،اِن ہواؤں کا رُخ دیکھ کر جو سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتی رہتی ہیں اُنہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔بنیادی طور پر تو اسمبلیوں کے ارکان کی ذمہ داری قانون سازی ہے،لیکن چند عشروں سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں کامیابی اور ناکامی کا زیادہ تر انحصار اِس بات پر ہو گیا ہے کہ کون سا امیدوار اور اس کی جماعت حلقے کے ترقیاتی کام زیادہ کراتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اول تو بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہی نہیں ہوتے اور ہر سیاسی جماعت اپنی حکومت میں کوشش کرتی ہے کہ اِن اداروں کے بغیر ہی کام چلایا جائے، کیونکہ اگر بلدیاتی اداروں کے انتخابات وقت پر ہوتے رہیں اور شہری سہولتوں کی فراہمی انہی اداروں کی وساطت سے ہو تو ارکانِ اسمبلی کا کردار محدود ہو جاتا ہے،جس کے لئے یہ ارکان تیار نہیں ہوتے۔تحریک انصاف کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینا ایک طرح کی سیاسی رشوت ہے،اِس لئے ایسا نہیں ہونا چاہئے، لیکن اب عملی صورت یہ ہے کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کو تو ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں،لیکن اپوزیشن ارکان کو ان سے محروم رکھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طارق سبحانی یہ نشست اِس لئے بھی ہار گئے کہ ان کے پیشرو ارکان جن کا تعلق اُن کے خاندان سے تھا، حلقے میں ترقیاتی کام نہیں کرا سکے۔

اس حلقے سے تحریک انصاف کے جس امیدوار کو ٹکٹ دیا گیا تھا اُن کے کاغذاتِ نامزدگی دہری شہریت کی بنیاد پر مسترد ہو گئے تھے،جنہوں نے استرداد کے خلاف قانونی جنگ لڑی لیکن اُنہیں کامیابی نہ ہوئی،اِس لئے پارٹی متبادل امیدوار کو ٹکٹ دینے پر مجبور ہوئی اور یوں قرعہ فال احسن سلیم بریار کے نام نکل آیا،جنہوں نے پہلی مرتبہ انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی،جس امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوئے اُنہیں تو معلوم تھا کہ اُن کے پاس دہری شہریت ہے،لیکن شاید پارٹی اس سے باخبر نہیں تھی ورنہ انہیں ٹکٹ نہ دیتی، ایسی مثالیں پہلے بھی مل جاتی ہیں کہ کسی امیدوار نے اپنی جماعت کو اندھیرے میں رکھا،ٹکٹ حاصل کیا اور کامیابی بھی حاصل کر لی،لیکن بعد میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں یہ نشست ختم ہو گئی،اِس لئے انتخاب لڑنے کے خواہش مند امیدواروں کو صاف گوئی کے ساتھ سارے معاملات اپنی پارٹیوں کے سامنے رکھنے چاہئیں تاکہ پارٹی تمام امور کے پیش نظر ٹکٹوں کے فیصلے کرے، جو امیدوار ایسا نہیں کرتے وہ پارٹیوں کو بے خبر رکھ کر داؤ لگانا چاہتے ہیں،جو سیاسی طور پر پسندیدہ طرزِ عمل نہیں ہے۔

اس حلقے میں تحریک انصاف کی کامیابی میں اگر پارٹی کی محنت کا دخل ہے تو مسلم لیگ(ن) کو بھی اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اُسے شکست کیوں ہوئی۔ روایتی طور پر اس حلقے میں وریو خاندان کے افراد ہی جیتتے رہے ہیں،اب مسلم لیگ(ن) کو اپنے امیدوار کی ناکامی کے عوامل کی تلاش کرنی چاہئے،پارٹی اپنے امیدوار کی انتخابی مہم اچھی طرح نہیں چلا سکی یا یہ خیال کیا جاتا رہا کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے،کیونکہ اس حلقے میں اُن کی پوزیشن مضبوط ہے۔اگرچہ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے حمزہ شہباز کو انتخابی مہم کی ذمہ داری سونپی تھی،لیکن وہ یہاں زیادہ متحرک نظر نہیں آئے،البتہ مریم نواز نے حلقے میں بڑا جلسہ کیا۔ یہ تاثر بھی کامیابی سے پھیلایا گیا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان پالیسی کے امور پر اختلافات ہیں،جس کی وجہ سے کامیاب اور مربوط انتخابی مہم نہیں چلائی جا سکی، ووٹروں کو اس حوالے سے صاف شفاف پیغام نہیں مل سکا اور وہ کنفیوژن کا شکار رہے۔وجہ کچھ بھی ہو مسلم لیگ(ن) کو اب اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت ہے، شکست کی وجوہ کا سراغ لگا کر آگے بڑھنا چاہئے ورنہ عام انتخابات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کو اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -