نور مقدم قتل کیس: اصل مجرم کون؟ 

نور مقدم قتل کیس: اصل مجرم کون؟ 
نور مقدم قتل کیس: اصل مجرم کون؟ 

  

آج کل نور مقدم قتل میڈیا کا مرغوب موضوع ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے قتل کی بیشتر وجوہات تقریباً وہی ہوتی ہیں جو نام نہاد ماڈرن معاشروں میں پائی جاتی ہیں …… ”میرا جسم، میری مرضی“ کا سلوگن اسی سوچ کی پیداوار ہے کہ مغربی معاشروں میں جس طرح نوجوان نسل کو مادر پدر آزادی حاصل ہے، اسی کی تقلید کی جائے۔ جس سوسائٹی میں یہ اقدار بدرجہء اتم موجود ہیں وہاں عورتیں اور مرد اس تعداد و تواتر سے قتل نہیں کئے جاتے جس سے پاکستان جیسے معاشروں میں قتل ہوتے ہیں۔ ”میرا جسم، میری مرضی“کا سلوگن ہمارے ہاں اگرچہ اب مرورِ ایام کے ساتھ سرد خانے میں چلا گیا ہے لیکن یکسر ختم نہیں ہوا۔ اس کی رپورٹنگ شاید زیرِ قالین چلی گئی ہے لیکن چونکہ اس کی وجوہات کا سدِباب نہیں کیا گیا اس لئے بادی النظر میں تاثر یہی لیا جاتا ہے کہ اپنے جسم پر اپنا اختیار ہی ایک مستقل بالذات حقیقت ہے۔

نور مقدم قتل کیس میں ایک ایسی نئی بات سامنے آئی ہے جو پہلے نہیں آئی تھی۔ شاید آئی بھی ہو گی لیکن اس کا چرچا اتنی شد و مد سے نہیں کیا گیا جو نور مقدم کیس میں کیا گیا۔…… یہ نئی بات مقتولہ کا سر، تن سے جدا کر دینا تھا!

یہ واقعی ایک نہائت سفاکانہ فعل تھا…… اس کی تفصیلات میڈیا پر آ چکی ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی چینل اس کیس کی نئی اور گھناؤنی داستان عام کرتا ہے لیکن سوشل میڈیا میں جو تفصیلات آ رہی ہیں، وہ ان تمام سوالوں کا جواب دے رہی ہیں جو کسی بھی سامع، ناظر یا قاری کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن ایک سوال ایسا بھی ہے جو میڈیا پر نہیں لایا جاتا۔ اس کی وجہ کیا ہے اس کے بارے میں تصورات کے گھوڑے ہی دوڑائے جا سکتے ہیں، کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا…… اور سوال یہ ہے کہ کیا اس قتل کے ذمہ دار نور مقدم کے والدین بھی تھے یا نہیں؟……

پہلی بات تو یہ جاننے کی ہے کہ لڑکی کے ماں باپ پڑھے لکھے ہیں، اونچے عہدوں پر فائز رہے ہیں، ملکوں ملکوں گھومے ہیں اور قدیم و جدید معاشروں کے ناظر ہیں …… دوسری بات یہ ہے کہ لڑکی کے بھائی بہن بھی ہیں، قریبی عزیز بھی ہیں جو سب کے سب اسی پاکستانی معاشرتی اقدار کے پیروکار ہیں …… تیسری بات یہ ہے کہ لڑکی خود 27 برس کی ہو چکی ہے، تعلیم یافتہ ہے، نیکی اور بدی کے تصور کو جانتی مانتی اور پہچانتی ہے…… چوتھی بات یہ ہے کہ وہ مسلمان ہے، اراکینِ اسلام کی عملی پابندی نہ سہی، نظری اور کتابی پابندی سے تو آگاہ ہے…… اور پانچویں بات یہ ہے کہ جس معاشرے میں وہ سانس لیتی ہے اس میں مرد و زن کے جنسی تعلقات کی گونا گونی (حدودِ انتقام وغیرہ) سے بھی واقف ہے۔

اگر یہ سب کچھ تھا تو پھر درج ذیل سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں:

1۔ والدین نے اپنی بیٹی کو اتنی کھلی چھٹی کیوں دی کہ وہ جب چاہے رات رات بھر غائب رہ سکتی ہے؟ کیا نوجوان لڑکے اور لڑکی کے والدین کا یہ فریضہ نہیں کہ وہ اس بات کا سراغ لگائیں کہ لڑکی ہو کر اکیلی رات بھر کہاں غائب رہتی ہے؟

2۔ کیا والدین کو ظاہر جعفر کی خاندانی ”تاریخ“ اور خاندانی ”جغرافیے“ کا علم نہیں تھا کہ ان کے ہاں سوشل روایات کا کیف و کم کیا ہے؟…… کیا لڑکی کے والد (ایمبسیڈر ریٹائرڈ شوکت مقدم) گونگے، بہرے اور نابینا تھے کہ اپنی جواں سال بیٹی کی حرکات و سکنات سے لاعلم رہے؟ اگر وہ ظاہر جعفر کے ساتھ آتی جاتی تھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سفیر صاحب کو معلوم نہ ہو کہ اس ”آنے جانے“ کے ماڈرن لغوی معانی کیا ہیں۔

3۔ کیا نور مقدم کے بہن بھائیوں نے اپنی بہن کو نہیں روکا کہ ایسی حرکات نہ کرو، ان سے خاندان کی بدنامی ہو رہی ہے؟

ماں باپ کو اپنی بچی بچے کا پتہ ہوتا ہے کہ وہ کس مزاج کا ہے، اس کی پسند و ناپسند کیا ہے اور اس کے شب و روز کا غیاب و حضور کیا معنی رکھتا ہے۔

اگر یہ سب کچھ تھا تو ہمارے میڈیا نے صرف ظاہر جعفر، اس کے والدین اور نور مقدم کے قتل کی تفصیلات کے سلسلے میں ہی شور کیوں مچایا ہوا ہے؟ کیا کسی نے سفیر صاحب کا انٹرویو کیا، میڈیا کا کوئی نمائندہ ان کے گھر گیا، ان کے اہلِ خانہ کو بھی پوچھا کہ بھلے مانسو!آپ کی بیٹی اور بہن اگر یوں بے دردی سے قتل کر دی گئی ہے تو اس قتل کے بارے میں تمہارے خیالات کیا ہیں؟…… کیا والدین پر لازم نہیں آتا کہ وہ اپنی بیٹی کے اس بے دردانہ قتل کی پیروی میں عدالت سے رجوع کریں اور قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟…… اس قتل کا یہ ایک ایسا پہلو ہے جو بار بار میرے دل و دماغ کے دروازے پر دستک دیتا ہے لیکن جب میڈیا کو دیکھتا اور سنتا ہوں تو وہاں اس باب میں اتھاہ خاموشی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی (نور مقدم) ظاہر جعفر کی طرح کہیں اسلام آباد کے کسی پوش علاقے میں تن تنہا رہتی تھی۔ وہاں سے نکل کر جدھر جی چاہے آتی جاتی تھی، رات دن کی کوئی تمیز نہ تھی، کہاں سے کھاتی پیتی تھی، ذریعہء آمدن کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح کے درجنوں سوالات ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب نہیں ملتا۔

اگر یہ سانحہ اسلام آباد کی بجائے کسی یورپی ملک کے دارالحکومت میں پیش آتا تو یہ کوئی اچنبھے والی بات نہ تھی۔ وہاں لوگ اکیلے رہتے ہیں، مادرپدر آزاد معاشرے میں، خود کماتے اور خود کھاتے ہیں، کسی ماں باپ یا بہن بھائی یا رشتے دار کی محتاجی نہیں۔ لیکن پاکستانی معاشرہ تو عورت کو یہ آزادیاں نہیں دیتا۔ اگر قاتل ظاہر جعفر، نور مقدم سے کورٹ میرج کرنا چاہتا تھا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی سُن گُن نور کے کسی بہن بھائی اور والدہ کو نہ ہو۔

یادش بخیر کوئی 25،30برس پہلے کی بات ہے۔ میں ابھی سروس میں تھا۔ وہاں ایک جاننے والا آرمی آفیسر کا بیٹا انٹیلی جنس کورس کرنے کے بعد لاہور میں ایک ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں آفیسر کمانڈنگ فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ (OC FIU) پوسٹ ہوا۔ لاہور میں دو انفنٹری ڈویژن ہیں۔ اس آفیسر کا رینک تو میجر کا ہوتا ہے لیکن یہ براہِ راست جی او سی (GOC) کو رپورٹ کرتا ہے۔ انٹیلی جنس کی موشگافیاں اور نزاکتیں درمیانی رابطوں کو قطع کرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایک دن میجر صاحب نے دیکھا کہ اس کے GOC کی نوجوان صاحبزادی کسی ریستوران میں بیٹھی ایک نوجوان کے ساتھ چائے پی رہی ہے۔ اس نے لڑکی اور لڑکے کا پیچھا کیا۔ معلوم ہوا کہ لڑکا نہ تو لڑکی کا رشتے دار ہے اور نہ ہی کلاس فیلو ہے۔ میجر صاحب نے اس کیس کو Follow کیا اور تمام رپورٹیں (مع تصاویر) اپنے GOC (یعنی لڑکی کے والد) کے سامنے رکھ دیں …… معلوم ہوا کہ لڑکی کی والدہ کو اس کیس کا پتہ تھا اور یہ سب کچھ اس کی مرضی سے ہو رہا تھا۔ لیکن جنرل صاحب کو یہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ جب انہوں نے اپنے OC کی رپورٹ اور تصاویر اپنی اہلیہ محترمہ کو دکھائیں تو معلوم ہوا کہ وہ اس کیس میں پوری طرح رازدار تھیں اور چاہتی تھیں کہ لڑکی کی شادی اس لڑکے سے ہو جائے…… نتیجہ یہ ہوا کہ جنرل صاحب نے لڑکے کے والدین سے بات کی اور اس رشتے سے انکار کر دیا۔

میجر صاحب کو اس رپورٹ پر شاباش دی گئی اور یہ معاملہ ختم ہو گیا…… اگر نور مقدم اور ظاہر جعفر کے تعلقات کا علم والدین کو تھا تو ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس کیس کو روائتی اور منطقی انجام تک پہنچاتے اور اگر ان کو علم نہ تھا تو پھر اس ”لاعلمی“ کی ذمہ داری بھی قبول کرتے۔

اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے بعض اونچے اور الیٹ سوشل طبقوں میں آج کل یہ وبا عام ہوتی جا رہی ہے۔ جدید IT ٹیکنالوجی نے اس ’وبا‘ کو وائرل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج اگر کسی نور کا سر تن سے جدا کر دیا گیا ہے تو معاشرے کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ یہ لڑکی لڑکے کا معاملہ نہیں، والدین کا بھی معاملہ ہے۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ لڑکا اور اس کے والدین پہلے ہی ایسی شہرت کے حامل ہیں کہ جس پر پانچوں انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں تو لڑکی کے والدین کو زیادہ حساس اور زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے تھا…… ان کی ذمہ داری، لڑکے کے والدین کا ذمہ داری سے زیادہ نازک اور زیادہ اہم ہے…… ہمارے میڈیا کو اس پہلو کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ کسی رپورٹر کو نور مقدم کے والدین کے ہاں جا کر ان کا انٹرویو بھی لینا اور اسے اپنے چینل پر آن ائر کرنا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -