بلدیاتی نظام میں تبدیلی کے ساتھ انتخابات کا اعلان متوقع!

بلدیاتی نظام میں تبدیلی کے ساتھ انتخابات کا اعلان متوقع!
بلدیاتی نظام میں تبدیلی کے ساتھ انتخابات کا اعلان متوقع!

  

پاکستان کی سیاست کا المیہ رہا ہے جمہوری حکومتوں نے آج تک خوشی سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے، البتہ اختیارات کی نچلی سطح منتقلی  ووٹ کی عزت کو ہمیشہ انتخابی نعروں میں شامل کیا ہے۔قیام پاکستان سے اب تک اگر بلدیاتی نظام سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا ہے تو آمریت کا دور ہے اس بات میں بھی دو رائے نہیں، ہمارے گلی محلے کے مسائل کا و احد حل بلدیاتی سسٹم میں پنہاں ہے، آج تک بلدیاتی ادارے جس شکل میں بھی آئے نظام بنانے والوں کے مقاصد پورے ہو سکے یا نہیں، البتہ ایک بات طے ہے کونسلر ہو یا ناظم،وائس چیئرمین ہو یا لیبر کونسلر اس نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق اہل محلہ اور اپنے قریبی بسنے والوں کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کیا ہے۔عام آدمی کے مسائل بھی بڑے معمولی ہوتے ہیں، سرکاری و غیر سرکاری ملازم ہو یا مزدور جب تھک ہار کر گھر واپس آتا ہے اس کو آتے ہی گھر کے کونے میں گٹر کھلا ملے اور بدبودار گٹر کا پانی اس کا استقبال کرے، اس کا دِل نہیں کرتا کہ وہ ایک دفعہ پھر موٹر سائیکل کا رخ واسا کے دفتر کی طرف کرے اور اپنے محلے کا بند گٹر کھلوائے، نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا فائدہ ایسے ہی افراد کو ہونا چاہئے، چھوٹے موٹے گلی محلے کے مسائل کونسلر حل کروا لیتا ہے۔ اگر وہ ناکام رہے تو وہ اپنے نائب ناظم یا چیئرمین کے ذریعے حل کرا لیتا ہے، افسوس اِس بات کا ہے وطن ِ عزیز پر اب تک قابض سیاسی جماعتیں مسلم لیگ(ن) ہو یا پیپلزپارٹی انہوں نے خوش دِلی سے بلدیاتی انتخاب نہیں کرائے۔

2018ء میں نئے پاکستان کا نعرہ لے کر آنے والی تحریک انصاف کی حکومت کے منشور کا اہم نقطہ بھی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہی تھا اس لئے نوجوان نسل بڑی پُرامید تھی، کیونکہ عمران خان کی حکومت جس کو منتخب کرنے میں پاکستان کے نوجوانوں کا کردار بڑا اہم رہا تھا۔ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی ایسا بلدیاتی نظام  متعارف کرائیں گے جس میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی مل سکے، افسوس تحریک انصاف بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی طرح بلدیاتی انتخاب کرانے کے حوالے سے خوفزدہ نظر آئی ہے، بلدیاتی ادارے توڑنے کے بعد پہلے دو سال مرضی کا نظام بنانے میں ضائع کر دیئے ہیں، جب سپریم کورٹ نے بلدیاتی ادارے بحال کر دیئے ہیں، تیسرا سال حکومت اور بلدیاتی نمائندوں کے درمیان آنکھ مچولی میں گزر گیا ہے۔ سپریم کورٹ  کی طرف سے بلدیاتی اداروں کی واضح انداز میں بحالی کے فیصلے کے باوجود حکومت منتخب نمائندوں  کی بحالی کا نوٹیفکیشن کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کے میئر حضرات کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر جسٹس عائشہ اے ملک نے چیف سیکرٹری کی طرف سے تسلی بخش جواب نہ دینے اور وقت دینے کی درخواست پر7ستمبر تک کی مہلت دے دی ہے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کے استفسار پر چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے، ہم نے ایکشن آف پلان مرتب کر لیا ہے، ترقیاتی کام ایڈمنسٹریٹر سے کروانے کا عمل بھی روک دیا گیا ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کے میئر کے تحفظات کے باوجود پنجاب حکومت 7دسمبر تک کا وقت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے،اس کو حکومت کی نیک نیتی کہیں یا بدنیتی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔البتہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ ستمبر میں کینٹ کے انتخابات مکمل ہوتے ہی ملک بھر کے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے گزشتہ تین سال سے بار بار ردوبدل کا شکار ہوتا بلدیاتی سسٹم ایک دفعہ پھر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ البتہ یونین کونسل کے نظام کے خاتمے پر حکومت  نیبر ہڈ ویلج کونسل کے سسٹم میں ہی کونسلر کی تعداد میں ردوبدل کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ضلعی سطح پر ناظم یا میئر کا نظام نہیں ہو گا، تحصیل سطح کو مضبوط کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے، جس کے مطابق نیبر ہڈ میں چیئرمین، وائس چیئرمین یا ناظم،نائب ناظم کی نشست اور ووٹ ایک ہو گا، پہلے کونسلرز کی تعداد دس رکھی گئی تھی، اب چیئرمین وائس چیئرمین سمیت ہاؤس کے کل  ممبران کی تعداد سات تجویز کی گئی ہے،جس کے مطابق جنرل کونسلرز تین ہوں گے۔ نوجوان ایک، کسان ایک، اقلیتی نشست ایک ہو گی۔اس طرح ایک ووٹر چھ ووٹ ڈالے گا، امیدوار کے لئے انتخاب لڑنے کے لئے کوئی تعلیمی قابلیت کی شرط نہیں رکھی گئی ہے،البتہ نوجوان نشست کے لئے عمر 21سال سے30سال ہو گی، جبکہ باقی کونسلرز کے لئے کم از کم 21سال عمر تجویز کی گئی ہے،امیدوار کو اسی حلقے سے امیدوار بننے کے لئے اہل سمجھا جائے گا، جہاں اس کا ووٹ درج ہو گا۔

نئے بلدیاتی نظام میں ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں کاغذات جمع ہوں گے، نامزدگی کاغذات کی فیسیں پانچ ہزار، جبکہ تحصیل ناظم کے لئے فیس 50ہزار تجویز کی گئی ہے۔ کونسلر اور تحصیل ناظم کی کاغذات جمع کرائی گئی فیس ناقابل ِ واپس ہو گی، پہلی دفعہ یونین کونسل کی سطح پر انتخاب نہیں ہوں گے، شہروں میں نیبر ہڈ دیہی علاقوں میں ویلج کونسل ہو گی، ووٹرز کی تعداد پانچ سے پندرہ ہزار تک ہو گی۔یونین کونسل کا نظام یکسر ختم کیا جا رہا ہے، نیبر ہڈ نام ہو گا یا ولیج کونسل۔ ایک نیبر ہڈ کے ممبران کی تعداد سات ہو گی۔  حکومتی ذرائع نے بتایا ہے وزیراعظم نے کینٹ کے انتخابات کے بعد فوری بلدیاتی انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے اس لئے اگست میں شیڈول دے دیا جائے گا۔ بلدیاتی ادارے بحال نہیں ہو گے، امید کریں گے حکومت بلدیاتی اداروں کے ساتھ آنکھ مچولی بند کرے گی اگر پہلے سے موجود ادارے بحال نہیں کرنے تو نئے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرے تاکہ تحریک انصاف کے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا نعرہ عملی شکل حاصل کر سکے اور عوام کے بنیادی مسائل حل ہونا شروع ہوں، پنجاب میں تجربہ کار وزیر میاں محمود الرشید کو بلدیاتی وزارت دے کر پنجاب کو فتح کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -