واٹر فرنٹ پراجیکٹ گیم چینجر ثابت ہوگا!

واٹر فرنٹ پراجیکٹ گیم چینجر ثابت ہوگا!

  

ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کی ترقی میں تاجر و صنعتکاروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ شہر میں ہونے والی علمی، دینی اور سماجی سرگرمیوں میں ایک نہایت فعال شخصیت حاجی محمد رفیق پردیسی کی ہے۔ رفیق پردیسی انتہائی سادہ، بردبار دینی شخصیت اور دردمند انسان ہیں اور ہروقت ضرورت مندوں کی مدد کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ مختلف سماجی اور دینی اداروں کے سرپرست و معاون ہیں۔ حاجی رفیق پردیسی کی کامیابی کا سفر 100 سالہ پرانے خاندانی کاروبار سے 1982 میں شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا اور نئے چیلنجز کو قبول کیا اور آج ان کا کاروبار دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان یو ای بزنس کونسل اور پاکستان مراکو بزنس کونسل کے ڈائریکٹر ہیں۔ سوئس بزنس کونسل، پاکستان چائنا بزنس کونسل میں بھی فعال کردار ادا کررہے ہیں 2015میں ایچ ایم آر گروپ متعارف کروایا جس کے چیئرمین خود حاجی رفیق پردیسی ہیں انکی کاروباری اور سماجی سرگرمیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ حاجی صاحب کی مختلف شعبہ جات میں طویل جدوجہد اور بیش بہا کامیابی و کامرانی پر بصیرت حاصل کرنے کے ساتھ کراچی میں انکے نئے پروجیکٹ کے حوالے سے لی گئی معلومات قارئین کی نظرہے۔

 ایچ ایم آرکے واٹرفرنٹ پروجیکٹ کے متعلق بتائیں کہا جارہا ہے کہ یہ پروجیکٹ کراچی میں نئی تاریخ رقم کرنے جارہاہے؟

 ہم ایک ایسی چیز متعارف کرانا چاہ رہے ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ سہولیات جو دبئی, امریکہ, لندن اور یورپ کے پروجیکٹس میں ملتی ہیں, لیکن ہمارے ہاں میسر نہیں ہیں، وہ جدید سہولیات ہم فراہم کریں گے جو رہائشیوں کے خوابوں کی تعبیرہوگا اور وہ جدید لائف اسٹائل کے ساتھ تازہ ہوا سے بھی لطف اندوز ہوسکیں گے۔ اس لئے ہمارا یہ منصوبہ سمندر کے کنارے کالونی بنانے کا ہے اور جو سہولیات ہم مہیا کر رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ یہ واقعی تاریخ میں ایک بہت بڑا کام ہوگا اور لوگ اسے بہت پسند کریں گے۔ 

اس میگا پروجیکٹ میں کتنے ٹاورزشامل ہوں گے اور سہولیات کے متعلق کچھ بتائیں؟

 ہمارا یہ منصوبہ بہت ہی شاندار ہے جوکراچی کی اسکائی لائن بدل دے گا۔ ڈی ایچ اے فیز 8 میں سمندر کنارے 33 ایکٹر زمین پر جدید رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ ہے جس میں بزنس ڈسٹرکٹ کو نہایت عمدگی اور مہارت سے رہائش کے خصوصی منصوبے سے جوڑا گیا ہے۔ اس منصوبے میں 19 بلند و بالا ٹاورز ہیں جس میں تمام جدید سہولیات پر مشتمل پرسکون خاندانی زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے 14 رہائشی ٹاورز ہیں جہاں پر شاپنگ مال، مساجد، واکنگ ایریا اور کارپارکنگ سمیت تمام سہولیات مہیا کی گی ہیں جبکہ واٹر فرنٹ بزنس ڈسٹرکٹ میں پانچ بلند و بالا ٹاورز ہیں جو کاروبار کی ضروریات کو پورا کرنے لئے الٹرا موڈرن ہائی ٹیک سہولیات کے ساتھ ایک اعلی دفتر کا پتہ فراہم کرتے ہیں۔یہاں پرریستوران، کافی شاپس، ہیلی پیڈ اوربڑی تعداد میں تیز رفتار لفٹوں کی سہولت میسر ہوگی۔ ہم چیزوں کو اچھے سے اچھا بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ لوگ یہاں سکون سے زندگی گزار سکیں۔ 

 کاروباری دنیا میں اتنی کامیابیاں سمیٹی، اس سفر میں بینک کے قرضوں سے کتنا مستفید ہوئے؟ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ کاروباری افراد کی اکثریت اپنے کاروبار کی بنیاد بینک سے قرضے لے کر رکھتی ہے اور پھر اسے وسیع کرنے کے لیے مزید قرضہ لیتی ہے۔ جب تک کاروبار چلتا رہتا ہے، سب ٹھیک ہوتا ہے لیکن جیسے ہی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے یا پہر امن وامان اور ناموافق حالات کا سامنا تاجروصنعتکار کو کرنا پڑتا ہے تو وہ مشکل کا شکار ہوجاتا ہے۔ بینک کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے صنعتی یونٹ فروخت کرنے پڑ جاتے ہیں یا پھر عدم ادائیگی کی صورت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن الحمد اللہ ہم نے بینک سے قرضہ لئے بغیر اپنے کاروبار کو وسیع کیا، اسلئے میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر دوسروں کو بھی تجویز کرتا ہوں کہ کاروبار کریں مگر اپنے بل بوتے پر کریں، بغیر سودی قرضے لیے۔ اللہ کے فضل و کرم سے کاروبار میں خوب خوب برکت ہوگی۔ 

کیا اعلیٰ سطح پر آپ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا؟ 

مجھے ابھی تک ملک میں اور بیرونی ممالک میں ان گنت ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ جہاں تک یادگار احساس کی بات ہے تو دبئی میں یونین بینک آف سوئٹرزلینڈ کی جانب سے دیا گیا ایوارڈ میرے لیے بہت یادگار ہے۔ کیونکہ شاید میں دنیا میں پہلا شخص ہوں جسے اس بینک نے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ 

 پاکستان میں سماجی رویوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کسطرح کم کیا جاسکتا ہے؟

 غریب پیدا ہونا یا عمر بھر غریب رہنا کوئی جرم نہیں۔ اصل مسئلہ پاکستان میں سماجی رویوں کا ہی ہے جس نے معاشرے میں تفریق پیدا کردی ہے۔ میں براعظم افریقہ کے کئی ممالک میں قیام پذیر رہا ہوں، وہاں امیر آدمی ضرورت کے وقت اپنی أدہی روٹی غریب کو کھلاتا ہے۔ تاہم پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں ایک چھوٹی پوسٹ کا بندہ بھی اپنے جیسے بندے پر رحم نہیں کرتا یعنی ایک غریب اپنے جیسے غریب سے ہی دشمنی کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں، ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں، مصیبت اور دکھ تکلیف میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو صورت حال میں یقیننا بہتری آئے گی۔ 

 آپکی نظر میں تعلیم کی کیا اہمیت ہے اور برکاتی فاونڈیشن نے تعلیم کے فروغ میں کیا کام کیا؟ 

جدید سائنسی علوم کی تعلیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قوم کے ہر فرد کو تعلیم حاصل کرنا چاہیئے ہم پورے پاکستان میں تعلیمی اداروں کے قیام اور پھیلاو کے لئے کام کررہے ہیں اور برکاتی فاونڈیشن اس کی روشن مثال ہے جو 1980 ء سے علم کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ ہمارا مقصد مدرسوں کو اسکولوں اور اسکولوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنا ہے۔جس کے لئے ہمیں علمائے کرام اور اساتذہ کا بھی مکمل تعاون حاصل ہے۔ 

 بے روزگاری ملک کا ایک بڑا مسلہ بنتا جارہا ہے، آپ کی نظر میں اس کا حل کیا ہے؟ 

ہمارے ملک میں افرادی قوت کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے پاکستانی بھائی دنیا بھر کے ممالک میں جاکر اپنے صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں تو آخر کیا وجہ ہے کہ وہ ملک میں رہ کر کچھ نہیں کر پاتے ہیں۔ دراصل یہاں نئی صنعتوں کا جال بچھانا پڑے گا۔ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک پاکستان میں صنعتیں قائم کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے نظام کو کرپشن سے پاک کرکے غیرملکی سرمایہ کاروں کو بہترین سہولتیں مہیا کرنی ہوں گی تاکہ ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے۔ 

٭٭٭

ایم ایچ آر گروپ کے سربراہ حاجی رفیق پردیسی کہتے ہیں:

مزید :

ایڈیشن 1 -