غیر قانونی الاٹمنٹ،میر شکیل الرحمن کے مقدمہ کی سماعت 3اگست تک ملتوی 

 غیر قانونی الاٹمنٹ،میر شکیل الرحمن کے مقدمہ کی سماعت 3اگست تک ملتوی 

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج اسد علی نے غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں ملوث میر شکیل الرحمن کے مقدمہ کی سماعت 3اگست تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کے پراسیکیوٹر کودلائل کے لئے طلب کرلیاہے،گزشتہ روز میر شکیل الرحمن کے شریک ملزموں میاں بشیر اور ہمایوں فیض رسول کی بریت کی درخواستوں پر وکلاء نے اپنے دلائل مکمل کرلئے ہیں،گزشتہ روز نیب کی جانب سے سپیشل پراسکیوٹر حارث قریشی جبکہ میر شکیل الرحمن اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،شریک ملزم سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول کی طرف سے بیرسٹر حیدر رسول مرزا کے بریت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمایوں فیض رسول پر میر شکیل کو ایگزمپشن پالیسی کیخلاف ورزی کر کے پلاٹ الاٹ کرنے کی منظوری دینے کا الزام ہے،نیب کے پراسیکیوٹر کا موقف ہے کہ میر شکیل الرحمن نے اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کئے، ملزم کا ایگزمپشن پر ایک ہی علاقے میں پلاٹ حاصل کرنا ایگزمپشن پالیسی 1986 کی خلاف ورزی ہے، ملزم میر شکیل نے نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کرلیں، میر شکیل الرحمن نے اپنا جرم چھپانے کیلئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر منتقل کروا لئے۔

مزید :

علاقائی -