کم آمدن والوں کو گھر دینے کیلئے ایک صفحے کا آسا ن فارم بنا رہے ہیں: فرخ حبیب

کم آمدن والوں کو گھر دینے کیلئے ایک صفحے کا آسا ن فارم بنا رہے ہیں: فرخ حبیب

  

 اسلام آباد (اے پی پی)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ کم آمدن گھروں کے لئے ایک صفحے کا آسان فارم بنا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی دلچسپی سے گذشتہ 15ماہ کے دوران ٹیکس ایگزمشن رجیم متعارف کرائی گئی، ملک بھر میں اب تک کنسٹریکشن کے شعبے میں اب تک 1000ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے، منسلک 120صنعتوں میں 4100ارب روپے کی معاشی سرگرمیاں ہونگی اور مجموعی طور پر 7لاکھ روزگار کے مواقعے پیدا ہونگے، سندھ حکومت نے 400منصوبوں میں سے 90منظور کیے گئے، سندھ بلڈنگ کنٹرول ادارہ دیمک کا شکار ہے،جب تک فائل کو پہیہ نہ لگائے یا کمیشن کا تعین نہ کیا جائے جائیں منصوبے منظور نہیں ہوتے، وزیراعظم اگست میں نیا پاکستان پروگرام کا آغاز کریں گے جس کے تحت 60لاکھ افراد کو گھر کے لئے 20لاکھ روپے کے آسان بلاوسود قرض دیئے جائیں گے۔ وہ جمعرات کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ہاو ¿سنگ کے شعبے میں پنجاب میں 373ارب روپے کی سرمایہ کاری، معاشی اثر1900ارب، 3لاکھ 25ہزار نوکریاں پیداہونگی،24ہزار 404 پراجیکٹس منظور ہوئے ہیں۔سندھ میں 267ارب روپے کی سرمایہ کاری،معاشی اثر1337ارب ہوگا، دو لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا ہونگے۔کے پی کے میں 4829منصوبے،74ارب روپے کی سرمایہ کاری آئی ہے، معاشی اثر371ارب روپے کا ہوگا اور64ہزار نوکریوں کے مواقعے پیدا ہونگے۔اسلام آباد میں 5986منصوبے منظور ہوئے،175ارب روپے کی سرمایہ کاری، معاشی اثر525ارب ہے،ایک لاکھ 4ہزار نوکریاں پیدا ہونگی۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب میں ٹیکس ایگزمشن رجیم کے تحت 491ارب کے منصوبے رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ سندھ حکومت کنٹریکشن کے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدن ہاو ¿سنگ وزیراعظم کے دل کے قریب ہے،ہمارے وزیراعظم نے سوئس بینکوں میں پیسہ نہیں ڈالنا نہ باہر جائیدادیں بنانی ہے،عمران خان کو احساس ہے کہ کسی طرح غریب آدمی کو چھت فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کم آمدن گھروں کے لئے بینکوں کو145ارب روپے کی درخواستیں موصول ہوئیں، 45ارب کے قرض منظور ہوچکے ہیں۔پہلے ایک لاکھ گھروں کو تین لاکھ کی سبسڈی اور 20سال مدت کے آسان قرض فراہمی کی سہولت دی جارہی ہے

فرخ حبیب

مزید :

صفحہ اول -