اینٹی کرپشن افسران خود کو وقت سے ہم آہنگ کریں،جام اکرام

اینٹی کرپشن افسران خود کو وقت سے ہم آہنگ کریں،جام اکرام

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ صوبے بھر سے کرپشن کے خاتمے اور خاص کر وائٹ کالر کرائمز سے نمٹنے کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کو اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔  یہ بات آج انہوں نے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کے لئے منقدہ دو روزہ ٹرینگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں چیئرمین اینٹی کرپشن محمد اقبال میمن، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فضل شہزاد عباسی، محمد علی بلوچ ڈائریکٹر انویسٹیگیشن ڈائریکٹر لیگل عبدالقدیر انصاری اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اینٹی کرپشن کے افسران کی عدالتی قوانین سے اگاہی سے متعلق تربیتی پروگرام سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے تعاون سے  منعقد کیا  جارہا ہے۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ افسران کی تربیت سے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ افسران اپنی صلاحیتوں کو جوڈیشل نقط نظر سے بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی قسم کی ٹرینگ سے وائٹ کالر جرائم کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ عدالتی قوانین سے افسران کی اگاہی اشد ضروری ہے۔ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے افسران کے ٹیسٹ بھی لئے جائیں تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ٹرینگ کے دوران ان افسران نے کیا سیکھا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ  اینٹی کرپشن کے انویسٹیگیشن کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ دو روزہ ٹرینگ کے بجائے اس کی مدت ایک ماہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کے ٹیسٹ لینے کے بعد ان کی پوسٹنگ کی جائے۔ پولیس میں ایس ایچ اوز کی بھی پوسٹنگ ٹیسٹ لینے کے بعد ہی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  امید ہے کہ اس تربیتی پروگرام سے افسران کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ صوبے سے کرپشن کے خاتمے کے لئے افسران کا با صلاحیت اور پر عزم ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ محمد اقبال میمن نے کہا کہ افسران کے لیے لازمی ہے کہ وہ عدالتوں میں کیس پیش کرتے وقت قوانین اور تحقیقات  کی اہمیت کو سمجھیں۔محکمہ اینٹی کرپشن میں افسران کی قانونی رہنمائی اور تحقیقات کے نظام کو جدید کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت کی اس سلسلے کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -