حالات بدتر، مقبوضہ جموں کشمیر میں ہرگز سب ٹھیک نہیں ہے: صدر کشمیر کمیٹی جدہ مسعوداحمد پوری

حالات بدتر، مقبوضہ جموں کشمیر میں ہرگز سب ٹھیک نہیں ہے: صدر کشمیر کمیٹی جدہ ...
حالات بدتر، مقبوضہ جموں کشمیر میں ہرگز سب ٹھیک نہیں ہے: صدر کشمیر کمیٹی جدہ مسعوداحمد پوری

  

مکہ مکرمہ (محمد عامل عثمانی )ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ نے کشمیر پر پروپیگنڈہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے جس پر کشمیر کمیٹی جدہ کے صدر مسعود احمد پوری نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر  کے عوام پر انتہائی جابرانہ اور غیر انسانی اقدامات کا تسلسل قا ئم کرتے ہوئے "سب ٹھیک ہے" کا ر اگ لاپتے ہوئے سارے عالم کو دھوکہ میں رکھنا چاہتی ہے  ۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرنے کے بعد سے صورتحال بدستور خراب ہے۔ آزادی کے بعد سے ہندوستانی رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کے وعدے کو وقت گزرتے کے ساتھ سپو تا ژ کرتے ہوئے اپنا ظالمانہ اقتدار سنبھال لیا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں کو ہندوستانی حکومت کی بربریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، تاہم  ہندوستان میں نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے بعد سے حالات اور بھی خراب ہوئے ہیں ۔

ان کاکہناتھاکہ موجودہ حکومت نے ہندوستانی پارلیمنٹ میں اکثریتی زعم میں کشمیر کی ہندوستان میں آئینی حیثیت اوراس مسلم اکثریتی ریاست کی آبادکاری   کو تبدیل کرنے اور مقامی کشمیری مسلمانوں کو پسماندہ کرنے کے لئے اپنے مکارانہ مقصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ ریاست کی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے  ہندوستانی قابض فوج نے آئی او جے اینڈ کے ریاست میں 000 200سے فوجیوں کی تعدادکو زیادہ کرکے 000 800تک پہنچا دیا ہے ، اسطرح سے کثمیر آج کل دنیا کا سب سے بڑا عسکری  زون  بنا ہوا ہے۔ تقریبا دو سالوں سے بولنے ، احتجاج اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے بنیادی حق تک سے انہیں مجبور ومحروم کررکھا ہے ۔ ان تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود ، ہندوستانی حکومت اب بھی یہ دعوی کرتی ہے کہ لوگوں نے اس کارروائی پر کوئی احتجاج نہیں کیا ہے۔

ادھر ہندوستانی وزیر اعظم نے اپنے منتخب حامی کشمیری رہنماو¿ں کے ساتھ ایک ڈرامائی سیاسی عمل شروع کرنے کے لئے  اشارہ دیا تاہم  یہ نان سٹارٹر ثابت ہوا ہے۔ اس طرح کا کوئی اقدام جو کشمیر کے بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتا اور نہ ہی تمام کشمیری قیادت کی شرکت کو یقینی بناتا ہے ، اس دیرینہ مسئلے پر کوئی دیرپا قرارداد نہیں لائے گا۔ ہندوستانی فورسز کے ذریعے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور ہزاروں متاثرین کے ساتھ 7000 بے نامی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ سویلین مظاہرین پر پیلٹ گن کے درندہ صفت استعمال کی وجہ سے دس ہزار کشمیری نوجوان زخمی / اندھے ہوچکے ہیں ، یہاں تک کہ بچوں اور خواتین کو بھی نہیں بخشا۔

مزید :

تارکین پاکستان -