تبت کی تعمیر و ترقی کا سنہری باب

تبت کی تعمیر و ترقی کا سنہری باب
تبت کی تعمیر و ترقی کا سنہری باب
سورس: Flicrk.com (creative commons license)

  

رواں سال چین کے خوداختیار علاقے  تبت کی پرامن آزادی کی 70 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ گزشتہ ستر برسوں کے دوران تبتی معاشرے نے تاریخی ترقی کی منازل انتہائی تیزی سے طے کی ہیں اور آج تبت چین میں خوشحالی کی ایک کامیاب داستان ہے۔ 2019 کے آخر تک تبت میں تمام 628000  رجسٹرڈ غریب اور 74 نامزد غریب کاؤنٹیاں انتہائی غربت سے نجات پا چکی ہیں ، جو انسانی تاریخ میں بالخصوص شدید قدرتی ماحول والے ایک بلند سطح مرتفع میں تاریخی کامیابی ہے۔ تبت کی پُرامن آزادی کے بعد قدیم تبت کو جدیدخطوط پر استوار کرنےکے لیے  مختلف زاویوں سے جدوجہد کی گئی اور پائیدار ترقی کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کی گئی۔ چین کی مرکزی حکومت نے تبت میں عام لوگوں کی امداد کے لئے سرکاری اداروں کی بحالی اور ان کی استعداد کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ  اپنے اقتدار اعلیٰ کو مضبوط کیا۔اُس وقت سے لے کر آج تک قومی یکجہتی تبت میں ایک مضبوط سیاسی بنیاد اور نظریاتی اتفاق رائے بن چکی ہے ، جس کی اساس  چین کی مرکزی حکومت ہے۔یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ چین کے دوسرے صوبے اور بلدیات بھی تبت کو بے لوث مدد فراہم کرتے آئے ہیں۔ تبت میں حقیقی جمہوریت نے لوگوں کی تقدیر جامع طور پر بدل کر رکھ دی ہے اور انسانی حقوق کی ضمانت اور ترقی کے لئے بنیادی سیاسی قوت فراہم کی ہے۔پرامن آزادی نے تبت میں قومیتی خودمختاری کی راہ کو واضح کیا  جو بلاشبہ چین میں قومیتی علاقوں کی گورننس اور تعمیر وترقی کے لئے ایک  منفرد سیاسی نظام ہے۔

اسی کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے ابھی حال ہی میں چینی صدر شی جن پھنگ نے تبت خوداختیار علاقے کا دورہ کیا۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد انہوں نے چائنیز مین لینڈ کے تمام صوبوں کا دورہ کیا ہے جبکہ تبت کی پرامن آزادی کی سترویں سالگرہ کے موقع پر اُن کے تاریخی دورہ تبت کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔شی جن پھنگ نے تبت میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے جاری مختلف سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ترقیاتی عوامل کا قومی اتحاد و ترقی  سے منسلک ہونا لازم ہے ،صرف  اسی بنیاد پر ہی عوامی زندگی میں بہتری سمیت عوام کے احساس حصول،احساس خوشحالی اور احساس سلامتی کو بلند  کیا جا سکتا ہے۔

  اس دوران انہوں نے تبت میں حال ہی میں فعال ہونے والی "بلٹ ٹرین"کے ذریعے بھی سفر کیا۔ تبت کے شہریوں اور سیاحوں کی سہولت کی خاطر شروع کی جانے والی  تیز رفتار "بلٹ ٹرین" کے 435کلو میٹر طویل ریلوے ٹریک پر فوشنگ بلٹ ٹرین 160کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔یوں تبت جسے سطح سمندر سے اپنی بلندی کے اعتبار سے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے ،وہاں  تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کو  یقیناً ایک معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔حیرت انگیز طور پر ریلوے ٹریک کا تقریباً 90فیصد حصہ سطح سمندر سے 3000میٹر کی بلندی پر واقع ہے جبکہ ریل گاڑیوں میں آکسیجن کی فراہمی کا بھی پورا سامان موجود ہے۔ریلوے لائن کا انتہائی بلند مقام سطح سمندر سے 5100میٹر کی بلندی پر واقع ہے جو ریلوے کی جدید عالمی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ یہ ریلوے ٹریک سولہ مرتبہ دریائے  یالوزانگبو کے اوپر سے گزرتا ہے  جو تعمیراتی لحاظ سے ایک پیچیدہ مرحلہ ہے ۔اس ریلوے لائن کی تعمیر میں چھ سال سے زائد عرصہ لگا جبکہ اس  کی بدولت تبت کا جنوب مشرقی علاقہ ریلوے  کے دور میں داخل ہو چکا ہے جبکہ علاقائی ریلوے نیٹ ورک میں بھی مزید بہتر ی  آئی ہے۔تبت میں 1951 سے بتدریج شاہراہوں ، ریلوے ، فضائی راستوں پر مشتمل ایک جامع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک تشکیل دیا گیا ہے۔

ریلوے کے ساتھ ساتھ تبت میں شاہراہوں کے نیٹ ورک کو بھی نمایاں توسیع ملی ہے۔ تبت کے تمام گاوں کی سٹرکوں تک رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے جس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا  کہ کسان اور گلہ بان اپنی مصنوعات با آسانی مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں ،دوسرا انہیں طبی سہولیات کی فراہمی میں آسانی پیدا ہوئی ،تیسرا تعلیمی اداروں تک ان کی پہنچ ممکن ہو سکی اور چوتھا سیاحوں کی ان علاقوں میں آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ تبت میں زرائع نقل و حمل کی ترقی کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ تبت چین کی انفارمیشن ایکسپریس وے کا ایک حصہ ہے جو  جدید مواصلاتی نیٹ ورک کے ساتھ بنیادی طور پر آپٹیکل کیبلز اور سیٹلائٹس پر مشتمل ہے  ۔تبت کے تمام گاوں کی موبائل فون تک رسائی ہے اور آپٹیکل کیبل براڈ بینڈ کی کوریج 99 فیصد تک جا پہنچی ہے۔تبت میں شہری 5Gسروس سے بھی وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ تبت میں جدید مواصلاتی نظام کی بدولت شہریوں کو قومی تعمیر و ترقی کے عمل میں شامل رکھا گیا ہے جس سے تبت میں غربت کے مکمل خاتمے میں نمایاں مدد ملی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے تبت میں اقلیتوں کو حاصل مذہبی آزادی ، قدیم شہروں کے تحفظ ، تبتی ثقافت کی ترویج سمیت دیگر امور کا بھی جائزہ لیا اور مقامی شہریوں کے ساتھ   تبادلہ خیال کیا۔  

انہوں نے اپنے دورے کے دوران تبت میں حیاتیاتی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کیں اور آبی نظام کی بہتری سمیت سرسبز ماحول پر زور دیا۔ انہوں نے سبزے کو  پھیپھڑوں کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں گرین ماحول کے تحفظ اور فطرت کو حقیقی شکل میں برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ چینی حکومت نے تبت میں ماحولیاتی تحفظ اور تعمیرات کو  ہمیشہ نمایاں اہمیت دی ہے۔ فطری ماحول کو برقرار رکھنے اور اس میں بہتری لانے کے لئے مربوط پیشرفت کی گئی ہے اور گرین ڈویلپمنٹ ماڈل تشکیل دیا گیا ہے ۔اس وقت  تبت کا ماحولیاتی نظام عمومی طور پر مستحکم ہے ، اور تبت دنیا کے بہترین ماحولیات کے حامل خطوں میں شامل ہو چکا ہے۔تاحال چوبیس نیچرل ریزرو تشکیل دیے گئے ہیں جن کا کل رقبہ ایک لاکھ تین ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر ہے ، اس کے علاوہ بارہ قومی ویٹ لینڈ پارکس بھی قائم کئے گئے ہیں ۔حقائق کے تناظر میں  کہا جا سکتا ہے کہ 1951 کے بعد چینی حکومت کی شاندار پالیسیوں کی بدولت ایک نئے اور جدید  تبت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو یہاں کے عوام کی بنیادی خواہشات کا آئینہ دار ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

   اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -