محمد زبیر نے ن لیگ میں دو بیانیوں کا اعتراف کر لیا 

محمد زبیر نے ن لیگ میں دو بیانیوں کا اعتراف کر لیا 
محمد زبیر نے ن لیگ میں دو بیانیوں کا اعتراف کر لیا 

  

اسلا م آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے پارٹی میں دو بیانیوں کی کنفیوژن کا دبے لفظوں میں اعتراف کر لیاہے ۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے پروگرام ” کیپٹل ٹاک “ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر کا کہناتھا کہ میں اتفاق کرتاہوں کہ پارٹی میں دو بیانیے کے حوالے سے کنفیوژن کے باعث درست بیانیہ لوگوں کے سامنے نہیں لاسکتا ، 2017 میں ن لیگ کے خلاف مہم شروع ہوئی، نوازشریف کو نااہل کیا گیا پھر جو کیسزبنے ،جس طرح سے دیوار کے ساتھ چن دیا گیاہے ، یہ ن لیگ کیلئے ملٹری ڈکٹیٹر شپ سے بھی زیادہ خوفناک ہے ، اس صورتحال میں یہ فطری ہے کہ پارٹی میں لوگوں میں اختلاف رائے ہو گا کہ وہ کیا لے کر چلیں ، جب ہم مزاحمت یا مفاہمت کا کہتے ہیں تو اس میں بہت باریک لائن ہے ، ہمارا آج کوئی مرکزی لیڈر جیل میں نہیں ہے ،نیب نے کہا مفتاح اسماعیل کے خلاف دوبارہ کیس کھولیں گے اور مالم جبہ کو بند کریں گے ، ہماری طرف سے رد عمل توآئے گا اوروہ بہت پر زور ہو گا ، پھول تو نچاور نہیں کیئے جائیں گے ، اس کو آپ کہیں گے کہ یہ مزاحمت کر رہے ہیں ، شہبازشریف تو کہتے ہیں کہ مفاہمت کرنی چاہیے ، مزاحمت اور مفاہمت ایک دوسرے کے ساتھ چلتی ہیں ۔رانا ثناءاللہ کے خلاف جب منشیات کا جھوٹا کیس بنا تو اس میں کون کون ملوث تھا ، اب آپ کہتے ہیں کہ ہمارے لب بھی خاموش ہو جائیں ۔

محمد زبیر کا کہناتھا کہ آزاد کشمیر کے کون سے الیکشن میں 81 فیصد ٹرن آوٹ ہو تاہے ، آپ آزاد کشمیر کے چار حلقے کھول دیں اور انگوٹھوں کی تصدیق کر لیں ،ایک شخص ، ایک ایک عورت کے دو دوسو ووٹوں پر انگوٹھے لگے ہیں ، تحریک انصاف والے مطالبہ کرتے تھے کہ نوازشریف سے کہیں چار حلقے کھول دیں ، اب یہ عمران خان کو کہیں جا کر چار حلقے کھول دیں جن میں ایل اے 30 ، 40 ، 45 اور سیالکوٹ کا حلقہ شامل ہے ، ہم نتیجہ مان لیں گے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -