ایل این جی کی مہنگے داموں خریداری کامعاملہ،پٹرولیم ڈویژن کی وضاحت سامنے آگئی

ایل این جی کی مہنگے داموں خریداری کامعاملہ،پٹرولیم ڈویژن کی وضاحت سامنے آگئی
ایل این جی کی مہنگے داموں خریداری کامعاملہ،پٹرولیم ڈویژن کی وضاحت سامنے آگئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پٹرولیم ڈویژن نے لیکیوفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی مہنگے داموں خریداری کے معاملے پر وضاحت دیدی اور  اعلامیہ جس میں کہا ہے کہ ملکی ضرورت کی ایک تہائی ایل این جی سپاٹ بنیادوں پرخریدی جارہی ہے، طویل مدتی ایل این جی درآمدی ممالک کے گلو بل ایوریج کے مطابق ہے۔

 اعلامیے کے مطابق توانائی کے شعبوں کی مصنوعات مہنگی ہونے کارجحا ن ہے،ایل این جی کی قیمت میں اتارچڑھاو جاری رہتا ہے، مستقبل کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا، سپاٹ ایل این جی کی قیمت میں حالیہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں ،جنوری سے درآمدی کوئلے کی قیمت میں 45 فیصداضافہ ہوچکاہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 75 ڈالرفی بیرل کے قریب ہیں۔

اعلامیے میں کہاگیا کہ درپیش صورتحال کے باعث ستمبرکیلئے چارایل این جی سپاٹ ٹینڈرزکھولناپڑے، ایل این جی نہ خریدنے سے ستمبرمیں ڈیزل اور فرنس آئل سے 20 فیصدزیادہ مہنگی  بجلی پیدا کرنا پڑتی حکومت مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -