انسان جب قریب المرگ پہنچتا ہے تو اس کے جسم کو پتہ لگ جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ وہ علامات جن سے موت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے

انسان جب قریب المرگ پہنچتا ہے تو اس کے جسم کو پتہ لگ جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ وہ علامات ...
انسان جب قریب المرگ پہنچتا ہے تو اس کے جسم کو پتہ لگ جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ وہ علامات جن سے موت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جب انسان قریب المرگ ہوتا ہے تو اس میں کچھ ایسی علامات نمایاں ہوتی ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب انسان سفر آخرت پر روانہ ہونے کو ہے۔ کترینا ٹائی نامی ایک نرس نے اپنے ایک آرٹیکل میں ایسی ہی کچھ علامات بیان کر دی ہیں جن سے لوگ اپنے بیمار رشتہ دار کے متعلق اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ موت کے منہ میں جانے والا ہے۔ 

ڈیلی سٹار کے مطابق کترینا ہسپتال کے اس وارڈ میں سالہا سال سے کام کرتی آ رہی ہیں جہاں لاعلاج لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو موت کے منتظر ہوتے ہیں۔ کترینا لکھتی ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہوتا ہے اس میں کئی طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کی بھوک کم یا بالکل ختم ہو جاتی ہے اور اس میں نگلنے کی صلاحیت بھی ختم ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ جب آدمی قریب المرگ ہوتا ہے تو اس کے جسم کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اسے خوراک کی ضرورت نہیں رہی۔ چنانچہ وہ خوراک کھانے اور اسے ہضم کرنے پر صرف ہونے والی توانائی بھی دل کی دھڑکن کو برقرار رکھنے اور اگلی سانس لینے کے لیے محفوظ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور پھر کھانا پینا ایسے شخص کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا نظام انہضام پہلے ہی جواب دے چکا ہوتا ہے لہٰذا ایک یہ بھی وجہ ہے کہ اس کا جسم خود ہی کھانے کی طلب سے دستبردار ہو جاتا ہے۔

کترینا لکھتی ہے کہ ایسے شخص کی ظاہری شکل و صورت میں بھی کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کے چہرے کی رنگت پیلی، سفیدیا نیلگوں سی ہو جاتی ہے، جیسے اسے یرقان کی بیماری ہو۔ اس کی آنکھیں شیشے جیسی یا دودھیا رنگ کی ہو جاتی ہے اور مسلسل بند یا کھلی رہنے لگتی ہیں۔ اس کے پپوٹے بھی غیرمتحرک ہونے لگتے ہیں اور نظر ایسے ہوتی ہے جیسے وہ کسی چیز کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہو۔ خون کی گردش ناقص ہونے پر ناخنوں میں نیلے نشانات پڑنے لگتے ہیں، مریض کا جسم چھونے پر بہت زیادہ گرم یا بہت زیادہ سرد محسوس ہونے لگتا ہے۔ بسااوقات مریض کو سوجن آ جاتی ہے جو کہ جسم میں مائع مواد کے جمع ہونے کے سبب آتی ہے۔ 

کترینا مزید بتاتی ہیں کہ ایسے مریض کے سانس لینے کے عمل میں تبدیلی لازمی امر ہوتا ہے۔ اس کا سانس بھاری ہو جاتا ہے اور سانس کے ساتھ آواز نکلنے لگتی ہے۔ مریض کے روئیے میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ وہ عجیب طرح کے بے چینی اور بے سکونی محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کو باہم مروڑنے لگتا ہے اور بعض اوقات بیڈ سے اٹھنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے جیسے وہ کسی چیز یا کسی شخص کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔قریب المرگ مریض سفر سے متعلق فقرے بولنے لگتا ہے، مثال کے طور پر وہ کسی جگہ جانے کی بات کرے گا، کسی اور کے ساتھ جانے یا گھر واپس جانے کی بات کرے گا۔ بالکل قریب المرگ آ کر ہو سکتا ہے کہ مریض اچانک گہری نیند سے بیدار ہو اور پہلے کی نسبت زیادہ چوکس نظر آئے۔ پہلے کی نسبت زیادہ باتیں کرنے لگے اور کچھ کھانے پینے بھی لگے مگر یہ اس کے صحت مند ہونے کی علامت نہیں بلکہ یہ علامت ہے کہ اس کی موت قریب آ پہنچی ہے۔ رشتہ دار ان لمحات میں اگرچہ خوش ہوتے ہیں مگر یہ حقیقت میں افسوس کے لمحات ہوتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -