14برس کا ہوا تو میری شخصیت میں واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی تھی۔ لوگ ننھے منے مائیکل جیکسن سے ملنے کی توقع رکھتے اور میرے پاس سے گزر جاتے

14برس کا ہوا تو میری شخصیت میں واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی تھی۔ لوگ ننھے منے ...
14برس کا ہوا تو میری شخصیت میں واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی تھی۔ لوگ ننھے منے مائیکل جیکسن سے ملنے کی توقع رکھتے اور میرے پاس سے گزر جاتے

  

مترجم:علی عباس

قسط: 30

میرا خیال ہے کہ ہمارے باپ نے دوسرے بھائیوں کی نسبت ہماری نگرانی کرنے کا فیصلہ جلدی کر لیا تھا۔ وہ عام طور پر ہمارے سے اگلے کمرے میں رہائش اختیار کرتا جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ دونوں کمروں کے درمیان موجود دروازے کے ذریعے ہمیں دیکھنے کسی وقت بھی آسکتا ہے۔ میں ان انتظامات سے حقیقتاً پریشان ہو جاتا تھا۔ صرف اس لئے نہیں کہ وہ ہمارے غلط روئیے پر نظر رکھ سکتا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ وہ ہمارے ساتھ گھٹیا ترین چیزیں کرنے کا عادی تھا۔ جرمین اور میں شو کے بعد تھکے ہارے سو رہے ہیں اور میرا باپ لڑکیوں کے ایک گروہ کو کمرے میں لے آتا۔ ہم جاگ جاتے اور وہ وہاں کھڑے ہمیں دیکھ کر کھِی کھِی کر رہے ہوتے۔

کیونکہ شوبرنس اور میرا کیریئر میری زندگی تھا، لڑکپن کے اُن دنوں میں میں نے جو سب سے بڑی ذاتی جدوجہد کی، وہ ریکارڈنگ سٹوڈیوز یا سٹیج پر پرفارمنس سے متعلق نہیں تھی۔ اُن دنوں میری سب سے بڑی جدوجہد آئینے سے وابستہ تھی۔ میری شناخت بہت بڑی حد تک ایک شخص کی حیثیت سے زیادہ روشنیوں کے ستارے کی حیثیت سے راسخ ہوچکی تھی۔

میں جب 14برس کا ہوا تو میری شخصیت میں واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی تھی۔ میرا قد بڑھ گیا تھا۔ وہ لوگ جو مجھے نہیں جانتے تھے، وہ ایک ننھے منے اور معصوم سے مائیکل جیکسن سے ملنے کی توقع رکھتے اور وہ میرے پاس سے گزر جاتے۔ میں کہتا، ”میںمائیکل ہوں،“۔ اور وہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے۔ مائیکل ایک خوبصورت چھوٹا بچہ تھا! میں ڈھیلا ڈھالا لڑکا تھا جس کا قد تقریباً 5 فٹ 10 انچ تھا۔ میں وہ شخص نہیں ہو سکتا جس کی وہ توقع کر رہے تھے یا جسے وہ دیکھنا چاہتے تھے۔ لڑکپن خاصا مشکل دور ہے، لیکن تصور کریں جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والا فطری عدم تحفظ لوگوں کے منفی ردِعمل کے باعث مزید بڑھ جاتا ہے۔ وہ شاید حیران ہوتے تھے کہ میں بڑھ سکتا تھااور میرا جسم اُسی فطری تبدیلی سے گزر رہا تھا جس سے ہر کوئی گزرتا ہے۔

یہ مشکل تھا، ایک عرصے تک ہر کوئی مجھے خوبصورت کہتا رہا تھا لیکن دوسری تبدیلیوں کے ہمراہ میرے چہرے کی جلدکیل مہاسوں کی ایک بیماری کے باعث پھٹ گئی تھی۔ میں نے ایک دن قد آدم آئینے میں خود کو دیکھا اور اس کا ردِعمل تھا، ”اوہ نہیں!“ ایسا محسوس ہوتا کہ میرے ہر چکنے مسام پر مہاسہ ہے اور میں جتنا زیادہ اس سے پریشان ہوتا، یہ معاملہ اتنا زیادہ گھمبیر ہوتا۔ میں تب اس کا ادراک نہیں کر سکا تھا اور چکنائی میں بنی ہوئی خوراک بھی سود مند ثابت نہیں ہو سکی تھی۔

میں لاشعوری طور پر اپنی جلد پر پڑنے والی اس افتاد سے گھبرا گیا تھا۔ میں بہت زیادہ شرمیلا ہوگیا اور لوگوں کے ساتھ ملنے سے ہچکچانے لگا کیونکہ میرے چہرے کی رنگت بری تھی۔ میں جتنا زیادہ آئینے میں دیکھتا، مہاسے اُتنا زیادہ بڑھ جاتے۔ میری ظاہری شخصیت نے مجھے ڈپریشن کا شکار بنا دیا چنانچہ میں آگاہ ہوں کہ کیل مہاسوں کی بیماری انسان کی نفسیات پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس کے میرے اوپر اثرات اس قدر برے تھے کہ اُنہوں نے میری پوری شخصیت کو متاثر کیا۔ میں جب لوگوں سے بات کر رہا ہوتا تو اُن کی جانب نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں نیچے یا دوسری جانب دیکھتا۔ میں محسوس کرتا کہ میں کسی چیز پر فخر نہیں کر سکتا تھا اور حتیٰ کہ میں باہر نہیں نکلنا چاہتا تھا۔ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

میرے بھائی مارلن کے چہرے پرکیل مہاسے بنے تھے اور اُس نے فکر نہیں کی تھی لیکن میں کسی شخص سے ملنے کا خواہاں نہیں تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ کوئی میری جلد کو یوں دیکھے۔یہ آپ کو حیران کرے گا کہ کس چیز نے ہم دونوں بھائیوں کے رویوں میں اس قدر تضاد پیدا کیا تھا۔

میں تاحال اپنے کامیاب گیتوں پر فخر محسوس کرتا ہوں اور ایک بار میں سٹیج پر پہنچ گیاتو میں کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچوں گا۔ تمام پریشانیاں دور بھاگ جائیں گی۔

لیکن جیسے ہی میں سٹیج سے اُتروں گا، وہاں مقابل یہ آئینہ ہوگا۔

آہستہ آہستہ چیزیں تبدیل ہوگئیں۔ میں نے اپنی صورتحال کے بارے میں یکسر مختلف انداز سے تصور کرنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے بارے میں بہتر محسوس اور تفکر کرنا سیکھا۔ سب سے اہم یہ ہے کہ میں نے اپنی خوراک تبدیل کرلی تھی، یہ بیماری کا علاج تھا۔ )جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -